Book Name:Islami Shadi

ایک دوسرے کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شَرْعی رُکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں  حالانکہ ایسا نہیں ہے منگنی ہوجانے کے بعد بھی جب تک نکاح نہیں ہوجاتا وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے بالکل اسی طرح اجنبی اور نامَحْرَم ہیں جیسے منگنی سے پہلے تھے لہٰذا نکاح ہونے کے بعد ہی اُن دونوں کیلئے ایک دوسرے سے بے حجابی  و گفتگو وغیرہ جائز ہوگی ، جب تک نکاح نہیں ہوجاتا یہ دونوں میاں بیوی نہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے والدین ان کیلئے سُسر  و ساس ہیں ۔ منگنی کے باوُجُود اُنہیں آپس میں بھی پردہ کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کے والدین سے بھی شَرْعی پردے کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے مُعاشَرے میں منگنی کی آڑ میں پردے سے متعلِّق شَرْعی احکامات کو پہلے سے بڑھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے ایک دوسرے کو نہ صرف آزادانہ دیکھتے ہیں بلکہ بات چیت ، ہنسی مذاق اور ایک دوسرے کے ساتھ تنہا گھومنے پھرنے وغیرہ کے سلسلے زور و شور سے شروع ہوجاتے ہیں  حالانکہ یہ ناجائز و حرام اور جہنّم میں لے جانے والے کام ہیں ۔   

بعض لوگ جو مُعاشَرے میں شریف سمجھے جاتے ہیں اور گھریلو یا خاندانی رکھ رکھاؤ کی وجہ سے منگنی کے بعد اپنے لڑکے یا لڑکی کا منگیتر کے ساتھ گھومنا پھرنا ، ہنسی مذاق کرنا یا آزادانہ میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے وہ اپنے طور پر ایک مہذب انداز اختیار کرتے ہیں مگر وہ انداز بھی سراسر غلط اور خِلافِ شرع ہے ، ہوتا یہ ہے کہ لڑکے کے ماں باپ لڑکی کو تنہا یا اُس کی بہن کے ساتھ اپنے گھر لے جاتے ہیں ، گھر پر دعوت وغیرہ کا اِہْتِمام ہوتا ہے اور پھر لڑکی کو واپس گھر چھوڑنے منگیتر ہی جاتا ہے ، راستے میں کسی دُکان پر مَشْروبات یا آئسکریم وغیرہ کا اِہْتِمام ہوتا ہے ۔ غارت ہو اِن فلموں ڈراموں کا  کہ جن کی وجہ سے مسلمان اسلامی تہذیب سے دُور ہوکر فرنگی تہذیب کے دِلدادہ ہوئے جارہے ہیں  کہ اگرلڑکی کی بہن ساتھ ہوتی بھی ہے تو وہ اِس دوران تھوڑی دیر کیلئے ڈرامائی انداز میں کار سے باہر نکل جاتی ہے تاکہ کسی طرح ان دونوں کو تنہائی میں کچھ وقت گُزارنے کا موقع مِل جائے۔ اس طرح کی تنہائی یقیناً بات چیت کے ذریعے باہمی اجنبیت دور کرنے اور ایک دوسرے سے بےتکلف ہونے کیلئے اختیار کی جاتی ہے ، یہ بھی شرعاً دُرست نہیں ۔

غیرمَحْرم کے ساتھ تنہائی کی مُمانعت

رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ہر گز کسی ایسی غیر مَحْرَم عورت کے ساتھ خَلْوت اختیار نہ کرے جس کے ساتھ اُس کا مَحْرَم مرد نہ ہوکیونکہ ایسی صورت میں ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ ([1]) 

احتیاط میں بھی بے احتیاطی

بدقسمتی سے بعض دیگر بُرائیوں کی طرح اِس بُرائی کو بھی فی زمانہ بُرائی نہیں سمجھا جاتا یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنی  بہن بیٹی کو گلی محلے کے کسی اجنبی کے ساتھ دیکھنا گوارا نہیں کرسکتے وہ اپنی سجی سنوری بہن بیٹی کو اپنے ہاتھوں اپنے ہونے والے داماد یا بہنوئی کے سِپُرد کردیتے ہیں بلکہ بسا اوقات دل کی تسلّی کیلئے اُس کی بہن کو بھی اُس کے ساتھ کردیا جاتا ہے حالانکہ ایسی صورت میں تو وہ دونوں ہی ایک اجنبی کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کے گُناہ کی مرتکب ہوں گی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : عورت کا عورت کے ساتھ ہونا زیادتِ عورت ہے نہ ( کہ )حفاظت کی صورت ، سونے پر سونا جتنا بڑھاتے جائیں مُحافِظ کی ضرورت ہوگی نہ کہ ایک توڑا (یعنی حصّہ) دوسرے کی نگہداشت کرے۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خُدارا!ہوش کیجئے اور سنجیدگی کے ساتھ اِن بُرائیوں کے خاتمے کی کوشش کیجئے بالخصوص خاندان کے بڑے افراد جن کی بات مانی جاتی ہے اور مُعاشَرے کے وہ اہم افراد جن کے فیصلوں کو اہمیَّت دی جاتی ہے ، انہیں چاہئے کہ اِس قسم کی بُرائیوں کی روک تھام کریں ، منگنی ہوجانے کے باوُجُود بھی لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے سے بے تکلّف ہونے یا میل جول رکھنے سے روکیں اور اُنہیں ایک دوسرے سے پردہ کرنے  کا پابند بنائیں ۔ 

منگیتر سے میل جول کی مُعاشَرَتی خرابیاں

          منگنی کے بعد منگیتر سے میل جول رکھنے کی بیان کردہ شَرْعی خرابیوں کے علاوہ مُعاشَرَتی خرابیاں بھی ہیں ۔ آئیے !چند خرابیاں مُلاحَظہ کیجئے :

٭ ایک خرابی تو یہ ہے کہ اِس سے بچّوں کا ذہن خراب ہوتا ہے کیونکہ بچّے  منگنی و شادی کے معاملات میں اپنے بڑے بہن بھائیوں یا قریبی رشتے داروں کا یہ بے



[1]   مسند احمد ، مسند جابر بن عبد اللہ ، ۵ / ۱۰۱ ، حـدیث : ۱۴۶۵۷

[2]   فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ٢٣۲۳۰



Total Pages: 74

Go To