Book Name:Islami Shadi

کیلئے اجنبی اور غیر مَحْرَم ہیں ، دونوں کو ایک دوسرے کے جسم کو چھونا ناجائز ہے ، لہٰذا لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو خود انگوٹھی نہیں پہنا سکتے۔ ([1])مگر ہمارے مُعاشَرے میں  بڑی بیباکی کے ساتھ یہ ناجائز کام ہو رہا ہے اور نجانے لڑکی کے والدین اور بھائیوں کی غیرت کہاں چلی جاتی ہے کہ ایک پرائے اور بیگانے مرد کو اپنی بہن بیٹی کا ہاتھ تھامے دیکھ کر اُن  کا چہرہ شرم و غصے سے سُرخ ہونے کے بجائے خُوشی و مَسَرَّت سے کِھل اُٹھتا ہے ، صرف یہی نہیں بلکہ دونوں خاندانوں کے مرد و عورت اور  لڑکے اور لڑکیاں تالیاں بجاتے ہیں ، سیلفیاں لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف آزادانہ تَک رہے ہوتے ہیں بلکہ بے تکلّفی سے بات چیت اور ہنسی مذاق کر رہے ہوتے ہیں ، پھر اس بےشرمی کا طوفان یہیں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ لی گئی سیلفیاں اور ویڈیوز واٹس ایپ (WhatsApp) ، فیس بک (Facebook) اور ٹیوٹر وغیرہ کے ذریعے شیئر بھی کی جاتی ہیں اور گروپ میں شامل نجانے کتنے غیر مَحْرَم اور اجنبی افراد انہیں دیکھتے ہیں ۔ پھر مُووی ، موسیقی  اور بڑے پیمانے پر کثیر مہمانوں کی پُرتکلّف دعوت وغیرہ پر ہونے والے بھاری اور فضول اَخْراجات  اِن خرابیوں کے علاوہ ہیں ، اِن اَخْراجات کی وجہ سے لڑکے  اور لڑکی کے والدین کی بسا اوقات جیبیں ایسی خالی ہوتی ہیں کہ وہ کچھ عرصے تک مالی طور پر بچّوں کی شادی کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ رَسْمِ منگنی کے متعلِّق یہ وہ تلخ حقیقتیں اور کڑوی سچائیاں ہیں جو کچھ نہ کچھ تبدیلی اور کمی بیشی کے ساتھ ہر جگہ پائی جارہی ہیں ، ان حقائق کو بیان کرنے کا اصل مقصد معلومات میں اضافے کے بجائے ان کے غیر شَرْعی ہونے کی طرف توجّہ دِلانا اور ان سے بچانا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ خود بھی ان بُرائیوں اور فضول کاموں سے بچیں اور دوسروں کو بھی اَحْسَن انداز میں بچانے کی کوشش کریں ۔ زہے نصیب کہ مُفَسِّرِ  شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے اِس بارے میں جو مفید مشورے دئیے ہیں اُن کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ چنانچہ

منگنی کرنی ہی ہو تو سادَگی سے کیجئے!

      مُفَسِّرِ شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : بہتر تو یہ ہے کہ منگنی کی رَسْم بالکل ختم کردی جائے اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور سوائے نقصان کے اِس سے کوئی فائدہ نہیں غالباً ہم نے یہ رَسمیں ہندوؤں سے سیکھی ہیں عربی اور فارسی زبانوں میں اس کا کوئی نام بھی نہیں ۔ اس کے جتنے نام ملتے ہیں سب ہندی زبان کے ہیں ۔ اور اگر اس کا کرنا ضروری ہی ہوتو اس طرح کرو کہ پہلے لڑکے والے کے یہاں اس کے قرابت دار جمع ہوں اور وہ ان کی خاطر تواضُع صرف چائے سے کرے جس کے ساتھ کوئی مٹھائی نہ ہو۔ پھر یہ لوگ لڑکی والوں کے یہاں جائیں  تو وہ بھی ان کی تواضُع صرف چائے سے کرے۔ لڑکے والے اپنے ساتھ دُلہن کیلئے ایک سوتی دوپٹہ اور ایک سونے کی نَتْھ (نَتْھنی) لائیں جو پیش کردیں ۔ دُلہن والوں کی طرف سے لڑکے کو ایک سُوتی رومال ایک چاندی کی انگوٹھی ، ایک نگینہ والی پیش کردی جائے جس کا وزن سَوا چار ماشے سے زیادہ نہ ہو ، لو یہ منگنی ہوگئی ۔ اگر دوسرے شہر سے منگنی کرنیوالے آئے ہیں تو ان میں سات آدمی سے زیادہ نہ آئیں اور دُلہن والے مہمانی کے لحاظ سے ان کو کھانا کھلادیں مگر اِس کھانے میں دوسرے محلّہ والوں کی عام دعوت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ پھر اِس کے بعد لڑکے والے جب بھی آئیں تو اُن پر مٹھائی اور کپڑوں کے جوڑوں وغیرہ کی کوئی پابندی نہ ہو۔ اگر اپنی خُوشی سے ایسے ہی بچّوں کیلئے تھوڑی سی مٹھائی لائیں تو اُس کو محلّہ میں تقسیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دو محبت بڑھے گی۔ ([2]) مگر اس ہدیہ کو ٹیکس نہ بنالو کہ وہ بے چارے اِس کے بغیرآہی نہ سکیں ۔ تاریخ کا مُقرَّر کرنا بھی اسی سادَگی سے ہونا ضروری ہے کہ اگر اسی شہر سے لوگ آرہے ہیں تو ان کی تواضُع صرف چائے سے ہو اور اگر دوسرے شہر سے آرہے ہیں تو پانچ آدمی سے زیادہ نہ ہوں ۔ جن کی تواضُع کھانے سے کی جائے اور تاریخ مُقرَّر کرنے والے سَن رسِیدہ بُزرگ لوگ ہوں ۔ ([3])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

منگنی کے بعد لڑکے لڑکی کامیل جول کیسا؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل علمِ دین سے دوری  اور دینی بے راہ روی کی بناء پر لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ منگنی ہوجانے کے بعد لڑکے اور لڑکی کیلئے



[1]   وقار الفتاویٰ ، ۳ / ۱۳۴

[2]   شعب الایـمان ،  باب فی مقاربة وموادة اهـل الدين ، ۶ / ۴۷۹ ، حـدیث : ۸۹۷۶

[3]   اسلامی زندگی ، ص ۴۰ بتغیر قلیل



Total Pages: 74

Go To