Book Name:Islami Shadi

      منگنی کی حقیقت یہ ہے کہ یہ نکاح کا وعدہ ہے یعنی لڑکے اور لڑکی کے والدین ایک دوسرے سے اپنے بچّوں کی شادی کا جو مُعاہَدہ کرتے ہیں مثلاً لڑکے کے والدین کہتے ہیں کہ آج سے آپ کی بیٹی ہماری ہوئی یا لڑکی کے والدین کہتے ہیں کہ آج سے آپ کا بیٹا ہمارا ہوا وغیرہ تو یہ جو وعدۂ نکاح یا بات پکّی کرنا ہے یہی درحقیقت منگنی ہے  اور اس حد تک شَرْعی طور پر اِس میں کوئی حرج نہیں اور یہ بالکل جائز ہے ، جیساکہ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : منگنی دراصل نکاح کا وعدہ ہے اگر یہ نہ ہو جب بھی کوئی حرج نہیں ۔ ([1])معلوم ہوا کہ منگنی صرف جائز ہے اگر رَسْمِ منگنی کے بغیر ہی والدین اپنے بچّوں کی شادی کرنا چاہیں تو اس میں شَرْعی طور پر قطعاً کوئی حرج نہیں اور اگر شَرْعی تقاضوں کا پاس رکھتے ہوئے پہلے منگنی کریں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس منگنی میں تمام تر خِلافِ شرع کاموں اور فضول خرچوں سے بالکل گُریز کیا جائے۔

منگنی کے مُروّجہ انداز کی قباحتیں

          بدقسمتی سے منگنی کا جو انداز ہمارے مُعاشَرے میں رائج ہے وہ اپنے دامن میں ایک دو نہیں بلکہ درجنوں خِلافِ غیرت و خِلافِ شریعت کاموں کو لئے ہوئے ہے۔ منگنی کی باقاعدہ تقریب رکھی جاتی ہے ، جس میں لڑکا لڑکی اور اُن  کے والدین اپنے عزیز و اَقارب ، دوست اَحباب اور محلّہ داروں کو دعوت دیتے ہیں ، منگنی والے دن جب یہ سب پِنڈال (یعنی شامیانے یا شادی ہال وغیرہ )میں جمع ہوتے ہیں تو لڑکا “ نصف دُولھا بن کر “ اپنے قریبی دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ مَنْج (Stage)پر آکر کرسی پر بیٹھتا ہے ، اسی طرح لڑکی بھی مکمل سَج دَھج کے ساتھ “ نصف دُلہن بن کر “ اپنی سہیلیوں اور بہنوں کے ہمراہ مَنْج (Stage)پر آکر اپنے منگیتر کے برابر میں بیٹھتی ہے اور پھر ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہو جاتا ہے ، غیرت و حیا کو بالائے طاق رکھ کر بہت سے غیر شَرْعی کاموں کا اِرتکاب کیا جاتا ہےاور دُکھ کی بات یہ بھی ہے کہ علمِ دین کی کمی کے باعث بہت سے لوگوں کی ان کاموں کے غیر شَرْعی ہونے کی طرف یا تو توجّہ ہی نہیں ہوتی یا پھر وہ دانستہ بے پروائی کا مُظاہَرہ کرتے ہیں ، اس موقع پر یا تو پردے کا کوئی اِہْتِمام ہی نہیں کیا جاتا یا پھر برائے نام اِہْتِمام ہوتا ہے ، مُووی  بنانے والا غیرمرد صرف مَردوں ہی کی نہیں عورتوں اور لڑکیوں کی بھی مُووی بناتا ہے بلکہ نوجوان لڑکیاں انتہائی اِہْتِمام کے ساتھ وہاں موجود بہت سے غیر مَردوں کے سامنے ننگے سر ، لبوں پر مسکراہٹ سجائے مختلف زاویوں سے مُووی بنواتی ہیں ، نَفْسانی خواہشات کو اُبھارنے اور بھڑکانے والے بے ہودہ اشعار پر مشتمل عشقیہ و فسقیہ گانے انتہائی بلند آواز میں چلائے جاتے ہیں اور اِس کے ذریعے غیر اِرادی طور پر ہی سہی مگر آس پاس کے گھروں میں موجود موسیقی کے شائقین کو موسیقی سننے کے گُناہ میں شریک کیا جاتا ہے اور موسیقی کے گُناہ سے بچنے والوں یونہی بڑے بوڑھوں ، بیماروں اور ننھے بچّوں کا آرام و سُکون برباد کرکے ان کی ایذاء رسانی کا سامان کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ تقریب میں شریک بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موسیقی کی دُھن پر ناچتے بھی ہیں بلکہ اب تو دونوں خاندانوں کے نوجوان لڑکے لڑکیاں دو گروہوں کی صورت میں باقاعدہ ناچنے کا مقابلہ (Dance Competition)کرتے ہیں جس گروہ کی بے ہودگی پر زیادہ تالیاں اور سیٹیاں بجائی جائیں وہ فاتح قرار پاتا ہے ، جو لوگ اپنے آپ کو سنجیدہ سمجھتے اور سُلجھا ہوا ظاہر کرتے ہیں وہ بھی موسیقی کی دُھن پر اپنے ہاتھ پاؤں یا انگلیاں ہلاتے گردنیں مٹکاتے اور جسم تھرکاتے ہوئے نظر آتے ہیں ، حتی کہ بوڑھے بھی اس طوفانِ بے حیائی و بدتمیزی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور دانت نکال نکال کر ہنس رہے ہوتے ہیں ۔ پھر ان خرافات کا آغاز ہوتا ہے جسے “ رَسْم “ کا نام دیا جاتا ہے خواتین و حضرات بلاامتیاز لڑکے اور لڑکی کو اپنے ہاتھ سے مِٹھائی کھلاتے ہیں اور اِس دور ان بھی جو بے تکلّفی برتی جاتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، بالآخر اس رَسْم کا انتہائی بَدترین موڑ آتا ہے اور وہ یہ کہ لڑکا اپنی منگیتر کا ہاتھ تھام کر  اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے سامنے اُسے سونے کی انگوٹھی پہناتا ہے یونہی لڑکی بھی سونے کی انگوٹھی جو کہ مرد کیلئے حرام ہے۔ ([2])منگیتر کو اپنے ہاتھ سے پہناتی ہے جسے بالکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ، حالانکہ وہ لڑکا اپنی منگیتر کیلئے منگنی سے پہلے بھی اور منگنی کے بعد بھی اجنبی اور غیر مَحْرَم ہی ہوتا ہے لہٰذا ہاتھ پکڑ کر انگوٹھی پہنانا تو دُور کی بات اُسے چھونا بھی سراسر ناجائز  ہے۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے : تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گھونپ دی جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کیلئے حلال نہیں۔([3])مفتیِ اعظم پاکستان ، مفتی وقارُ الدین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے



[1]   اسلامی زندگی ، ص۳۹

[2]   بہارِ شریعت ، حصہ ۱۶ ، ۳ / ۴۲۶ ماخوذا

[3]   معجم کبیر  ، ۲۰ / ۲۱۲ ، حدیث : ۴۸۷



Total Pages: 74

Go To