Book Name:Islami Shadi

نکاح کے ذریعے غنی ہونے کی نَفْسیاتی وجہ

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان احادیثِ مُبارَکہ سے معلوم ہوا کہ نکاح بہت سے دینی و دُنیوی معاملات کے علاوہ رزق کی کُشادَگی کیلئے بھی مفید ہے ، نکاح کی وجہ سے غنی ہونے کی ایک نَفْسیاتی وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اکیلا آدمی عموماً بے فکر ہوتا ہے لیکن جب شادی ہوجاتی ہے تو احساسِ ذِمّہ داری پیدا ہوجاتا ہے ، آدمی تَن دہی سے کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں اُس کیلئے رزق کے دروازے کُھل جاتے ہیں اور اِس بات کا مُشاہَدہ بھی ہے کہ جو لوگ شادی سے پہلے بے فکر اور بے روزگار ہوتے ہیں اور دوستوں کے ساتھ وقت ضائع کررہے ہوتے ہیں وہ شادی کے بعد کام بھی شروع کردیتے ہیں اور فضولیات سے بھی بچنا شروع کردیتے ہیں ۔

لاپروائی پر خود کو قصور وار سمجھئے

      قرآن و حدیث کی روشنی میں شادی کی برکت سے تنگدستی ختم ہونا اور فراخ دَسْتی نصیب ہونا تو بالکل حق ہے ۔ البتہ یہاں یہ بات بھی انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنی ہی بے پروائی کی وجہ سے شادی کے باوُجُود مَعاشی پریشانی اور تنگدستی سے چھٹکارا نہ ملےتو اُسے چاہئے کہ وہ اپنے آپ ہی کو قُصُور وار ٹھہرائے۔ مثلاً جو لوگ شادی سے پہلے سُست اور کاہل ہوتے ہیں ، کوئی کام کاج  اور محنت مزدوری نہیں کرتے یا کرتے بھی ہیں تو اس میں مستقل مِزاجی اختیار کرنے کے بجائے غیر ذِمّہ داری کا  ثبوت دیتے ہیں اور آئے دن کسی خاص مجبوری کے بغیر کام کاج کا ناغہ کرتے ہیں یا اپنی محنت کی کمائی کو عیش کوشی اور فضول خرچی کی نذر کردیتے ہیں اور اپنی اِنہی بے پروائیوں کی وجہ سے اپنے مَعاشی حالات مُتأثّر کردیتے ہیں  ایسے غیر ذِمّہ دار لوگ اگر شادی کرلیں اور شادی کے بعد بھی کام کاج کے معاملے میں اپنے اندر سجیدگی پیدا نہ کریں اور اپنے رویّے میں مثبت تبدیلی لانے کے بجائے وہی سابقہ کوتاہیاں برقرار رکھیں اور پھر یہ سوچیں کہ ہم شادی تو کرچکے ، آخر ہماری غربت و ناداری ختم کیوں نہیں ہورہی ، ہمارے مَعاشی حالات بہتر کیوں نہیں ہورہے اور ہم پر نوٹوں کی بارش کیوں نہیں ہورہی ؟  تو یہ اُن کی سوچ کا قُصُور ہے کہ وہ اس حقیقت سے نظریں چُرا رہے ہیں کہ “ خود کردہ را علاجے نیست “ (یعنی اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ) ایسے لوگوں کو چاہئے کہ حُصُولِ زرق کے معاملے میں اپنے ساتھ مخلص ہوجائیں اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ  مددِ الٰہی ضرور اُن کی دستگیری کرے گی اور شادی کی برکتیں بھی ضرور نصیب ہونگی ، ورنہ یاد رکھیں !جو لوگ اپنے  اندر احساسِ ذِمّہ داری پیدا نہیں کرتے وہ شادی شُدہ ہوں یا غیر شادی شُدہ اُنہیں نہ تو مَعاشی پریشانیوں سے خود کو باہر نکالنے میں کامیابی ملتی ہے اور نہ ہی گھریلو ماحول خُوشگوار بنانے میں سُرخروئی نصیب ہوتی ہے۔

جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت                  شِکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے

دیکھیں ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت                            سچ ہے کہ بُرے کام کا اَنجام بُرا ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

منگنی کی حیثیت اور اس میں

مروجہ خرابیاں

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہاں تک نیّت کی اہمیَّت ، شادی کی نیّتیں ، شادی کی اہمیَّت و ضرورت ، شادی سے محروم مُعاشَروں کی بدحالی ، شادی کے دُنیوی و اُخروی فوائد و فضائل ، اَولاد کی شادی کے معاملے میں والدین کی ذِمّہ داری اور شادی نہ کرنے یا تاخیر سے کرنے والوں کیلئے مدنی پھولوں کو بیان کیا گیا ہے ، اب شادی کے ایک اہم موضوع “ منگنی “ کے بارے میں کچھ مدنی پھول مُلاحَظہ کیجئے۔

      ہمارے مُعاشَرے میں منگنی ، شادی کے ابتدائی مراحل میں سے ایک مرحلہ اور “ رَسْم “ ہے۔ بدقسمتی سے فی زمانہ جس انداز میں اِس رَسْمِ منگنی کو ادا کیا جاتا ہے وہ انتہائی قابلِ افسوس ہے ، بحیثیتِ مسلمان اِس میں پائی جانے والی خرابیوں سے بچنے کیلئے اِس رَسْم کے بارے میں بُنیادی طور پر ہمیں تین چیزیں لازمی معلوم ہونی چاہئیں : منگنی کی حقیقت ، منگنی کی شَرْعی حیثیّت اور منگنی کے مُروّجہ انداز میں پائی جانے والی قباحتیں ۔

منگنی کی حقیقت و شَرْعی حیثیّت

 



Total Pages: 74

Go To