Book Name:Islami Shadi

پورا نہ کر سکے گا تومکروہ ہے اور ان باتوں کا یقین ہو تو نکاح کرنا حرام مگر نکاح بہرحال ہو جائے گا۔ ([1])

شادی میں بلا وجہ تاخیر مت کیجئے

اگر لڑکا یا لڑکی شادی کے قابل ہوجائیں اور والدین یا سرپرست کی طرف سے اُن کی شادی میں بلا وجہِ شرعی تاخیر برتی گئی جس کی وجہ سے وہ گُناہ میں پڑگئے تو اُن کے ساتھ ساتھ والدین یا سرپرست بھی گُناہگار ہوں گے ۔ اعلیٰ حضرت  امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں : اگرنکاح کی حاجت شدید ہے کہ بے نکاح کے مَعَاذَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ گُناہ میں مبُتلا ہونے کا ظَنّ غالب ہے تو نکاح کرنا واجب ہے۔ بلکہ بے نکاح مَعَاذَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ وُقوعِ حرام کا یقینِ کُلّی ہوتو نکاح فرضِ قطعی یعنی جبکہ اُس کے سِوا کثرتِ روزہ وغیرہ مُعالجات سے تسکین مُتَوقّع نہ ہو ، (ایسی صورت میں )اگر خود نکاح نہ کریں گنہگار ہوں گے اور اگر اُن کے اَولِیاء (یعنی والدین یا سرپرست)اپنے حدِّ مقدورتک کوشش میں پہلوتہی کریں گے تو وُہ بھی گنہگار ہوں گے۔ ([2])رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  فَاِنْ بَلَغَ وَ لَمْ يُزَوِّجْهُ فَاَصَابَ اِثْمًا فَاِنَّمَا اِثْمُهُ عَلٰى اَبِيْهِ اگر بچّہ بالغ ہو اور اُس کا نکاح نہ کیا پھر اگر وہ گُناہ میں پڑا تو اُس کا گُناہ اُس کے باپ پر (بھی)ہوگا۔ ([3])

خُدارا! ہوش کے ناخن لیجئے جہاں اپنے بچّوں کی دُنیاوی بہتری کی فکر کرتے ہیں وہیں اُخروی بہتری کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہوئے اُنہیں گُناہوں میں مبُتلا ہونے سے بچائیں اور شادی کے قابل ہوتے ہی اُن کی شادی کردیں ، لڑکے اور لڑکی کو بھی چاہئے کہ جب والدین اُن کی شادی کا ارادہ ظاہر کریں تو اپنے نَفْس پر اعتِماد کرتے ہوئے انکار نہ کیا کریں بلکہ اپنی رِضامندی کا اظہار کردیا کریں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو اپنے نَفْس پر اعتِماد کرے اس نے بڑے کَذّاب(یعنی بہت بڑے جُھوٹے) پر اعتِماد کیا۔ ([4])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُفلسی کے خوف سے شادی ترک نہ کیجئے

بعض اوقات لڑکے کی طرف سے یا لڑکے والوں کی طرف سے شادی نہ کرنے یا تاخیر سے کرنے کی وجہ “ غربت  اور مَعاشی حالت ہوتی ہے “ کہ ابھی ہمارا لڑکا کچھ بن جائے ، اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے ، خُوب دولت کمانے لگ جائے اور گھریلو اَخْراجات پورے کرنے کے قابل ہوجائے تو شادی کریں گے ، شاید بعض لوگوں کے ذہن میں شادی کے معاملے میں اِس طرح کے خدشات بھی ہوتے ہیں کہ شادی کرنے سے بیوی بچّوں کے اَخْراجات کی ذِمّہ داری بھی عائد ہوجائے گی جس کی وجہ سے گھریلو اَخْراجات میں مزید تنگی آجائے گی اور یوں ہم غربت و اِفلاس میں مبُتلا ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھئے !اگر واقعی کسی شخص کو اپنے مالی حالات کے پیشِ نظر اس بات کا اندیشہ  یا یقین ہو کہ وہ بیوی کا نان نفقہ یا دیگر واجبی حقوق ادا نہ کر سکے گا تو ایسے شخص کیلئے شادی سے رُکے رہنا ہی شرعاً ضروری ہے جب تک کہ نان نفقہ اور دیگر واجبی حقوق کی ادائیگی پر قادر نہ ہوجائے البتہ جس شخص کونان نفقہ ودیگر واجبی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا اندیشہ نہیں مگر پھر بھی شادی کی وجہ سے تنگ دَسْت ہوجانے کے وسوسے آتے ہیں تو اُس شخص کو حُصُولِ رزق کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی ذات پر کامل تَوَکُّل کرنا چاہئے اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ جو ذات مجھے  اور ساری مخلوق کو رزق فراہم کرتی ہے وہی ذات میرے بیوی بچّوں کو بھی رزق عطا کرے گی کیونکہ مخلوق میں سے ہر ایک کا رزق اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے ذِمّۂ کرم پر ہے لہٰذا یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے کہ آنے والی اپنا رزق ساتھ لے کر آتی ہے ، یونہی اَولاد جب دُنیا میں آتی ہے تو اپنا رزق ساتھ لاتی ہے بلکہ اَولاد کے متعلِّق تو خُصُوصی طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے رزق کا وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  

نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ- (پ۸ ، الانعام : ۱۵۱)

 



[1]   بہارِ شریعت ، حصہ۷ ، ۲ / ۵

[2]   فتاویٰ رضویہ ، ۱۲ / ۲۹۱ ملخصا

[3]   شعب الایمان ، باب فی حقوق الاولاد والاھلین ، ۶ / ۴۰۱ ، حدیث : ۸۶۶۶

[4]   ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۴۵۴



Total Pages: 74

Go To