Book Name:Jannatiyon Ko Sab Say Pehlay Kia Khilaya Jaye Ga

ہىں لہٰذا تعزیت میں صَبر کی تلقین اور مَرحوم کے لیے دُعائے مغفرت کی جائے اور باقی بڑ بڑ کرتے ہوئے کُفر یہ جُملے بولنے سے بچا جائے ۔  

قبرستان میں مَیِّت کا مُنہ دیکھنا کیسا؟

سُوال:جنازے کو قبرستان میں  کھول کر مَیِّت کا مُنہ  دىکھنا کىسا ہے ؟(یوٹیوب کے ذَریعے  سُوال)

جواب:قبرستان میں کفن کھول کر مَیِّت کا مُنہ دیکھنا منع ہو یہ میں نے کہیں پڑھا نہیں ہے۔ (اِس موقع پر   مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا:)قبرستان میں کفن کھول کر مَیِّت کا مُنہ دیکھنے میں کوئی حَرج نہیں ہے ۔لوگوں میں  یہ رائج ہے کہ جب مَیِّت کو دَفنا رہے ہوتے ہیں تو آخر میں  قریبی عزیز مَیِّت کا مُنہ دیکھتے ہیں لیکن جہاں رَواج نہ  ہو تو وہاں ایسا نہ کیا جائے تو اچھا ہے۔(اِس پر امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد  فرمایا:)قبرستان میں مَیِّت کا مُنہ دیکھنے سے تَدفین میں تاخیر ہوتی ہے اور دِیدار کرنے کے لیے لوگ قبروں پر چڑھتے اور  قبرىں پھلانگ رہے ہوتے ہىں تو اِس طرح کے گناہ اس وقت وہاں ہوتے ہىں اِس لیے  جو کچھ کرنا ہے گھر کى چار دِىوارى مىں کر لىا جائے اور پھر جَلد از  جَلد مَیِّت کو  دَفن کر  دىا جائے۔

رِشتے سے منع کرنے کا غَلَط اَنداز

سُوال:اگر رِشتہ نہ کرنا ہو اور سامنے والے کا دِل بھی  نہ دُکھے اِس لیے یہ کہنا کہ”اِستخارے میں منع آیا ہے“کیسا ہے  ؟

جواب:اِستخارہ نہیں کروایا اور یہ کہہ دیا کہ اِستخارےمیں منع  آیا  ہے تاکہ سامنے والے کا دِل نہ دُکھےتو اِس طرح کہنے والا دِل دُکھانے سے تو بچ رہا ہے مگر اُسے یہ اِحساس نہیں کہ وہ گناہ کر کے اللہ پاک کو  ناراض کر رہا ہے ۔ دِل دُکھانے سے بچنا ہے تو اِستخارہ کروا  لے ،اب اگر اِستخارے میں منع  آئے  تو کہہ دے کہ اِستخارے میں منع آیا ہے اور یہ کہتے ہوئے بھی چکنی چُپڑی باتیں نہ کرے مثلاً ہمارا رِشتہ کرنے کا بڑا دِل تھا اور رِشتہ بھی بہت اچھا ہے مگر کیا کریں کہ اِستخارے میں منع آیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ رِشتے سے منع کرتے ہوئے اِس طرح کی باتیں کرنا اور پھر اسے اِستخارے پر ڈال دینا مُنافقت ہے  کیونکہ وہاں شادی کرنے کا پہلے سے ہی دِل نہیں تھا لہٰذا صِرف یہ مُحتاط جُملہ کہا جائے کہ اِستخارے میں منع آیا ہے۔ اگر اِستخارہ نہیں کروایا تو معذرت کر لے ورنہ اِستخارہ کروائے بغیر  یہ بول دینا کہ اِستخارے میں منع  آیا ہے یہ جھوٹ ہے ۔      

رِشتے سے منع کرنے کے مُناسب کلمات

سُوال:آجکل لڑکی یا لڑکے والوں کی طرف سے جب کسی وجہ سے رِشتہ کرنے سے منع کیا جاتا ہے تو گناہوں کا دَروازہ کُھل جاتا ہے اور دونوں طرف سے  ایک دوسرے کے خلاف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور ایک دوسرے کو ذَلیل و رُسوا کرتے ہیں حالانکہ  ابھی بات پکی نہیں ہوئی ہوتی لہٰذا اگر کہیں پر رِشتے کی بات کی  مگر پھر  ایسی معلومات ہو گئیں کہ جس کی  وجہ سے اب وہاں رِشتہ نہیں کرنا تو  ایسے کون سے مُناسب کلمات کہے جائیں کہ کم سےکم دِل دُکھے   ؟  (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)     

جواب:رِشتہ منع کرنے کے لیے اِس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے یہاں خاندان میں یا  گھرمیں رِشتے کے سلسلے میں مُشاورت ہوئی اور آپس میں مشورہ کر کے یہ طے ہوا کہ یہاں  رِشتہ کرنے کا ہمارا اِرادہ نہیں ہے۔ اب اگر ان کا دِل دُکھتا ہے تو یہ اِیذادینا نہیں بلکہ اِیذا اوڑھ لینا ہے اور اِس میں منع کرنےوالے کا  قصور نہیں ہے ۔ یاد رَکھیے!جب رِشتے کی بات ڈالی جائے تو سامنے والے کا قبول کرنا ضَروری نہیں کیونکہ یہ کوئی فرض و وَاجب تو ہے نہیں کہ قبول ہی کرنا ہے بلکہ وہ منع بھی کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جن کو منع کیا گیا وہ اپنا دِل بڑا رکھیں اور منع کرنے والوں  کو بُرا بھلا نہ کہیں کیونکہ   جب تک لوحِ محفوظ پر جوڑا نہیں لکھا ہو گا تو وہاں رِشتہ کس طرح  ہو گا ؟نیز اپنا یہ ذہن بنائیں کہ جس رِشتے کو ہم اچھا سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ ہمارے حق میں اچھا نہ ہو اِس لیے رِشتہ منع ہو گیا لہٰذا ہمیں ہر حال میں اللہ  پاک کا شکر گزار رہنا چاہیے اور صبر کرنا چاہیے ۔  

کیا  عورت کے لیے دِل کا پَردہ کافی ہے؟

سُوال:کیا ایک خاتون کے لیے دِل کا پَردہ کافی نہیں؟ (یوٹیوب کے ذَریعے سُوال) 

جواب:دِل کا بُرقع یا دوپٹا کبھی دیکھا نہیں کہ  کس طرح  کا ہوتا ہے!یہ سب شیطانی حَرکات ہیں ۔خاتون اپنے بَدن پر بھی تو کپڑے پہنتی ہے یا وہ بھی مَعَاذَ اللّٰہدِل پر ہی پہنتی ہے۔ بَدن ظاہر ہے اس لیے  بَدن ہی کو چُھپانا ہو گا اور جب چُھپانا ہی ہے تو اَدھورا کیوں چُھپایا جائے پورا ہی چُھپانا چاہیے کہ شریعت نے اِسی کا حکم دیا ہے بلکہ قرآنِ کریم میں تو چادر تک کا تذکرہ  موجود ہے اور ظاہر ہے چادر دِل پر  نہیں اوڑھی جاتی۔

(اِس موقع پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کہنے پر مفتی صاحب نے اِن آیاتِ مُبارَکہ کی تلاوت فرمائی( یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-)(پ۲۲،الاحزاب:۵۹)ترجمۂ کنز الایمان:اے نبی!اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے مُنھ پر ڈالے رہیں۔“ایک اور جگہ اِرشاد فرمایا: (وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى)(پ۲۲،الاحزاب:۳۳)ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی ۔)

          (امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)اِن آیات میں دِل کے پَردے کا تذکرہ کہاں ہے کہ دِل کا پَردہ کافی ہے؟ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ سب عورتوں نے گھڑ لیا ہے۔یہ مسئلہ یاد رَکھیے!جس کو شریعت نے پَردہ کہا ہےاگر  اُس کا اِنکار کرتے ہوئے کوئی کہے کہ دِل کا پَردہ کافی ہے تو وہ دائرۂ اِسلام سے خارج ہوجائے گا کیونکہ یہ کُفر ہے۔([1]قرآنِ کریم میں تو چادر،اوڑھنی اور گھر میں ٹھہرے رہنے کا بیان ہے۔ یہ عورتیں کہتی ہیں کہ دِل کا پَردہ کافی ہے،کیا ایسا کہنے والی عورت دِل پر پَردہ ڈال کر اندھیری رات میں اَکیلی گھومنے نکلے گی؟ کیا کوئی جوان عورت  دِل پر پَردہ ڈال کر جنگل بیابان میں اَکیلی بیٹھے گی؟ نہیں کبھی بھی کوئی عورت ایسا نہیں کرے گی،لہٰذا یہ سب شیطانی ہتھکنڈے ہیں۔ میری مَدَنی بیٹیاں اِن چَکروں میں نہ پڑیں۔شریعت نے جن چیزوں کے چُھپانے کا حکم دیاہے اسی کو مانیں ۔نیز اللہ پاک اور اس کے پیارے رَسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جو فرمایا ہے اسی پر اِیمان لائیں۔جو لوگ ضَرورت سے زیادہ (دُنیوی تعلیم)پڑھ لکھ جاتے ہیں وہ  ایسی بَک بَک کرتے



[1]     پردے کے بارے میں سوال جواب،ص۱۹۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ  کراچی  



Total Pages: 7

Go To