Book Name:Jannatiyon Ko Sab Say Pehlay Kia Khilaya Jaye Ga

سُوال:وہ کون سا دُرُود شریف ہے کہ  جس کےمنافع زیادہ ہیں؟  

جواب:ہر دُرُود شریف میں نفع ہی نفع ہے مگر بَدل بَدل کر پڑھنا اچھا ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  نے فتاویٰ رضویہ شریف میں لکھا ہے کہ سب سے اَفضل ترین دُرُود شریف دُرودِ اِبراہیمی ہے۔ دُرُود شریف کے مختلف صیغے بَدل بَدل کر پڑھنے سے ذوق میں اِضافہ ہوتا ہے۔([1])اِسی طرح نمازوں میں بھی قرآنِ کریم کی سورتیں بَدل بَدل کر پڑھنے سے خُشوع و خُضوع اور لَذَّت میں اِضافہ ہوتا ہے۔ نماز میں سورۂ فاتحہ تو پڑھنی ہی ہوتی ہے اس کے بعد سورتیں بَدل بَدل کر پڑھی  جائیں تو خُشوع و خُضوع میں اِضافہ ہو  گا ۔  

 چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیے اور قرض لینے سے خود کو بچائیے

سُوال:پچھلے دِنوں اىک لڑکى نے خودکشى کی جس کی  وجہ یہ بتائى گئى کہ اس کى شادی کے اَخراجات پورے کرنے کے لیے اس کے والد صاحب نے قرض لىا جسے  بىٹى نے بہتSerious(یعنی سنجیدہ) لىا اور یہ سوچتے ہوئے کہ میرا  باپ میری شادی کى وجہ سے مَقروض ہو رہا ہے خود کشى کر  لى اور یُوں اس  بے چاری نے  حرام موت کا اِنتخاب کىا،اگر وہ مسلمان تھی تو اللہ پاک اس کى مغفرت فرمائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ شادی اور دِیگر مَواقع پر بادلِ نخواستہ گھر کے سربراہ کو قرض لینا پڑتا ہے جس کی عام طور پر گھروالوں کو پَروا نہیں ہوتی اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ مَرد اپنی چادر کے مُطابق پاؤں پھیلانا اور رِزقِ حلال کمانا چاہتا ہے مگر جب اُس پر  اپنے بچوں، بچیوں، گھروالوں اور والدین کی طرف سے پریشر آتا ہے تو وہ حرام روزی یا قر ض  کی طرف چلا جاتا ہے۔ بَدقسمتی سے فی زمانہ شاید کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اللہ پاک کی رضا کے لیے قرض دیتے ہوں ورنہ جو  قرض ملتا ہے وہ سُود پر ہی مِل پاتا ہے لہٰذا آپ اِس  حوالے سے گھر کے اَفراد کے لیے  کچھ ایسے مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجیے  کہ گھر کا سربراہ مَقروض ہونے سے بچ جائے ۔ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب:شادیاں کرنے،مکانات خریدنے اور بعض اَوقات گھر کی Decoration (یعنی سجاوٹ)اور دِیگر اِضافی ضَروریات کے لیے بھی قرض لیا  جاتا ہے ۔عُمدہ مکان كے لیے اگر پىسے  نہىں ہىں تو قرض لىنے کے بجائے تھوڑی  تکلىف  سے گزارا کر لیا جائے ورنہ پھر  قرض ختم نہىں ہو پاتا اور اگر  خُدا ناخواستہ سُود پر قرض  لىا تو سُود دَر سُود سُود دَر سُود یُوں  بسااوقات  مُعاملہ کہاں سے  کہاں نکل جاتا ہے۔ سُود پر قرض لىنا  گناہ کا کام ہے اور سُود لىنا دىنا حرام اور جہنم مىں لے جانے والا کام ہے مگر ہمارے مُعاشرے میں  ىہ سب ہو رہا ہے ۔اِنسان کو  چادر دیکھ کر پاؤں  پھىلانے چاہئیں، اگر پیسے کم ہیں تو کم پیسوں  مىں ہی گزارا کرے۔ شادی بیاہ کے موقع پر زیادہ ڈشىں ، زیادہ  دىگىں اور زیادہ  مہمان جمع نہ کرے ۔اِس سلسلے میں  مُعاشرے کا بھى اىک کِردار ہے  کہ اگر کوئی شخص شادی وغیرہ کے موقع پر  زیادہ اِہتمام نہىں کرتا تو لوگ اسے  بَدنام کرتے اور  بُرا بھلا کہتے  ہىں جس کے سبب وہ لوگوں مىں اپنى ناک بچانے کے لىے اپنے آپ کو  پورا آگ مىں جھونک دیتا ہے اور سُود پر قرض لے لىتا ہے ۔ یاد رہے !سُود کے بغىر قرض لىنے مىں بھی خطرہ ہی خطرہ  ہے بلکہ قرض لینا تو   ہر صورت مىں خطرناک ہوتا ہے ىہاں تک کہ اگر حج بھى کرنا ہے تو بندہ  اپنے پىسوں سے کرے اور ہم بھی حج کرنے کے لیے قرض نہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔جو بے چارہ نوکرى کرتا ہے  اُس کى آمدنى Fix(یعنی مُعین ) ہوتى ہےاور  گھر مىں کھانے  پىنے کے اَخراجات ، شادی بیاہ میں لینا دینا اور کبھی اچانک کوئی بیماری آ جاتی ہے یا کوئی نقصان ہو جاتا ہےتو بعض اوقات اِس طرح  اِضافى اَخراجات ہو جاتے ہىں لہٰذا  چادر دیکھ کر پاؤں پھىلائے  جائیں اور  حَتَّى الامکان قرض نہ لىا جائے، اَلبتہ  ضَرورتاً بغیر سُود کے قرض لىنا شرعاً جائز ہے ۔ جس طرح سُوال میں ذِکر کیا گیا کہ ایک لڑکی نے قرض کی وجہ سے خود کشی کر لی اِسی طرح بیو پاریوں پر بھی جب قرضوں کا بار چڑھ جاتا ہے اور  Payment(یعنی اَدائیگی) کی کوئی صورت دُور دُور تک نظر نہیں آتی اور قرض دینے والے دَھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں غالباً بیوپاریوں کی بھی خود کشی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔اللہ کرىم ہم سب کى حفاظت  فرمائے اور ہمیں غىر کا محتاج رکھنے کے بجائے  صِرف اپنے دَر کا محتاج رکھے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِىِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  

مُصافحے کے بعد سینے پر ہاتھ لگانے میں کوئی حَرج نہیں

سُوال:بعض لوگ جب مُصافحہ کرتے ہىں تو مُصافحہ کرنے کے بعد اپنے  ہاتھوں کو اپنے  سىنے پر  لگاتے ہىں تو اِس طرح کرنا  کیسا ہے ؟   

جواب: بعض اوقات لوگ  مُصافحہ کر کے اپنے ہاتھ اپنے  سىنے پر  لگاتے ہىں اور بسا اوقات بغیر مُصافحہ کیے  وىسے ہی سامنے والے کو  دىکھ کر ہی  سىنے پر ہاتھ لگاتے ہىں،اِس طرح  سىنے پر ہاتھ رکھنا مسلمانوں مىں رائج  ہے  اور  شریعت میں منع بھى نہىں ہے لہٰذا ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔  

تعزیت کا طریقہ

سُوال:اگر  کوئى اپنا عزیز اور قریبی رِشتہ دار  فوت ہو جائے تو تعزىت کیسے کی جائے ؟

جواب:تعزیت میں غم خواری ہوتی ہے ۔ تعزیت کرنے والا سُنَّت کی نیت کرے کہ تعزیت کرنا سُنَّت ہے اور پھر گھر کے تمام اَفراد سے تعزیت کرے مگر ہمارے یہاں صِرف اُس سے تعزیت کی جاتی ہے کہ جو گھر کا بڑا ہوتا ہے حالانکہ مسئلہ ىہ ہے کہ اىک اىک فَرد سے تعزیت کی جائے ([2])مثلاً اگر کسی   آدمى کا اِنتقال ہو گىا اور اُس کے چار بىٹے ہىں تو صِرف بڑے بیٹے سے ہی  تعزیت کرنے کے بجائے باری باری سب سے تعزیت کریں البتہ اگر چاروں بیٹے  ایک جگہ بیٹھے ہیں اور آپ نے چاروں سے اِجتماعی طور پر تعزیت کر  لی تو بھی ٹھیک ہے ۔ تعزیت میں  اِس طرح کے اَلفاظ کہے جاتے ہیں کہ آپ صبر کیجیے، اللہ پاک  کی جو مَرضی تھی وہی ہوا،اللہ پاک مَرحوم کو بے حِساب بخشے اور اُن کی مغفرت فرمائے وغیرہ ۔ بعض اوقات تعزىت کرتے ہوئے لوگ  غَلَط اَلفاظ بھى کہہ دیتے  ہىں مثلاً ”اَرے اللہ کو کىا ضَرورت پڑ گئى کہ اسے  بُلا لىا۔ ہاں بھائی اللہ  کو بھى نىک بندوں کى ضَرورت ہوتى ہےو غیرہ “یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ ىہ کُفریہ  جُملے ہىں اور اللہ پاک کو کسى کى ضَرورت  اور حاجت نہىں ہے۔ بسااوقات  تعزىت آدمی کو کفر مىں ڈال دىتى ہے کیونکہ  مَیِّت کے لَواحقین کو  اچھا  لگانے کے لىے اِس طرح کے کُفریہ جُملے بولے جاتے ہیں ” یَا اللہ ! تجھے اس کى بھرى جوانى پر رحم نہىں آىا۔ یَا اللہ ! اس پھول جىسے بچے نے تىرا کىا بگاڑا تھا کہ تو نے اسے  اُٹھا لىا۔ اىسے  کُفرىات بکنے سے اِىمان بَرباد ہو جاتا ہے ، نِکاح ٹوٹ جاتا ہے اور سارے  نیک اَعمال  بھی  غارَت(یعنی بَرباد) ہو جاتے



[1]    فتاویٰ رضویہ،۶/۱۸۳ ماخوذاً   رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور  

[2]   بہارِ شریعت، ۱/۸۵۲، حصہ:۴



Total Pages: 7

Go To