Book Name:Jannatiyon Ko Sab Say Pehlay Kia Khilaya Jaye Ga

دىنا کہ مىرے والد نے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مُصافحہ کىا ىا غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ تشرىف لائے تھے ان سے مُصافحہ کىا ،تو بغیر  کسی واضح ثبوت کے ایسی بات کہنا غَلَط ہےکیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ  نَزع کى سختىوں کى بے قرارى کى وجہ سے ہاتھ اُٹھاىا ہو ۔

اللہ کہاں ہے؟اس کا بچوں کو کیا جواب دیا جائے؟

سُوال:اگر بچے پوچھىں کہ اللہ کہاں ہے؟ تو انہىں کىا جواب دىا جائے اور اس موقع پر کىا اِحتىاطىں ضَرورى ہىں؟ (Facebook  پیج کے ذَریعے سُوال)

جواب:واقعى یہ بہت نازک سُوال ہے۔ عام طور پر لوگ ایسے سُوال پر اوپر ہاتھ اُٹھاتے ہىں کہ اللہ اوپر ہے حالانکہ ىہ بہت سخت کلمہ ہے اس لیے کہ اللہ پاک کسی جگہ میں ہونے سے پاک ہے۔مَساجد کو اللہ کا گھر بولتے ہىں ، خانہ کعبہ کو بھی بیتُ اللہ یعنی  اللہ کا گھر کہتے ہیں لىکن اِس سے مُراد ىہ نہىں ہے کہ اللہ وہاں رہتا ہے۔ لہٰذا اگر بچہ پوچھے کہ اللہ کہاں ہے؟ تو جواب دىا جائے:اللہ ہے مگر  وہ ہمیں نظر نہىں آتا یہ یا اِس طرح کا کوئى اور جواب دىا جائے ۔ بعض اوقات بچے ایسے سُوالات کرتے ہىں کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔سمجھ مىں نہىں آتا کہ اىسے سُوالات کے جواب مىں بچوں  کو کىا کہا جائے جس سے  وہ مطمئن ہو جائیں؟بچے پوچھتے بھى ہىں کہ اللہ کہاں ہے؟ کىسا ہے؟کتنا بڑا ہے؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہ۔ بچپن مىں ہم بھى سُنتے تھے کہ گالى مَت دو! جھوٹ مَت بولو !ورنہ اللہپاک  سونے کى لکڑى سے مارے گا تو اس طرح کی بہت سی غَلَط باتىں رائج ہیں ۔

          (اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے  میں شریک مفتی صاحب نے اِرشاد فرمایا:)ایسے سُوالات کے جوابات میں بچوں کو اللہ پاک کى  ذات و صِفات کے متعلق بتایا جائے کہ اللہ پاک موجود ہے، ہمىں رِزق دیتا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا سہل بِن عبدُاللہ تسترى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے ماموں جان (حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوار رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ )نے جو طرىقہ اِختىار کىا تھا وہ اگر اپنایا جائے تو بڑا مفىد ہے چنانچہ آپ(حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوار رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ )نے حضرتِ سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تسترى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کو سکھایا تھا کہ اللہ مىرے ساتھ ہے ،اللہ مىرا گواہ ہے ،اللہ مجھے دىکھ رہا  ہے ۔ اِس طرح سکھانے سے اِنْ شَآءَاللّٰہ فرق پڑے گا۔([1])

          (امیرِِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا:)سُبْحٰنَ اللہ!اىسا ماموں اور ایسا بچہ  کہاں سے لائىں؟ اس وقت حضرتِ سیِّدُنا سہل بن عبدُ اللہ تسترى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کى عمر تىن سال تھى،اب اىسا بچہ کہاں سے لائىں جو تىن سال کى عمر مىں ىہ سمجھ لے کہ اللہ دىکھ رہا ہے۔بس اللہپاک اىسا بچہ اور اىسا ماموں عطا کر دے ۔بچوں کا مطمئن ہونا بہت مشکل ہے ۔ان میں اتنى عقل نہىں ہوتى کہ یہ باتیں سمجھ سکیں ۔لوگ عموماً ایسے سُوالات پر بچوں کو ڈانٹ دىتے ہوں گے کہ چُپ کرو !تمہیں اِن باتوں کی سمجھ نہ پڑے،اِس طرح بچوں کو نہیں ڈانٹنا چاہیے۔ بہرحال اللہ پاک کوئی اَسباب کر دے ورنہ صحىح بات ىہ ہے کہ ہمارے پاس  بچوں کے لیے کوئى اِطمىنان بخش جواب ان مَعنوں میں نہىں  کہ جس سے  بچوں  کو مطمئن کىا جا سکے ۔بچے اِس طرح کى بہت سارى حرکات کر رہے ہوتے ہىں جن کا جواب نہىں بن پڑتا ۔  

اللہ پاک کو اُوپر والا کہنا کیسا؟

سُوال:اللہ پاک اُوپر ہے“کیا یہ کہہ سکتے ہیں؟   

جواب:اللہ پاک جگہ سے پاک ہے لہٰذا  ىہ نہىں  کہہ سکتے کہ اللہ پاک اُوپر ہے ىا نىچے ہے ىا دائىں ىا بائىں ہے۔([2]) بعض لوگ بولتے  ہىں کہ اللہ پاک آسمان پر  رہتا ہے اور  کوئى بولتا ہے کہ  عرش پر رہتا ہے حالانکہ اللہ پاک کے لیے  کوئى مکان یعنی  ٹھہرنے ،قىام کرنے اور رُکنے کى جگہ ہو اىسا کوئی  مُعاملہ نہىں ہے۔اللہ پاک کا کوئی بدن نہیں اور وہ جِسم و جِسمانیت  سے پاک ہے۔ ([3])یہ کہنا کہ اللہ پاک اُوپر ہے اسے عُلَما نے کفر لکھا ہے۔([4])اللہ پاک کی ذات کے تعلق سے اِس طرح کے مَسائل سمجھنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”کُفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب “ کا مُطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ  آپ کا اِیمان تازہ ہو جائے گا اور آپ کو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ایسے کُفریات کا پتا چل جائے گا  جو آج کل لوگوں میں رائج ہیں ۔

گماں سے گزرے گزرنے والے

سُوال:آپ نے فرمایا ہے کہ”اللہ پاک کو اوپر والا یا اللہ پاک عرش پر ہے “یہ نہیں کہنا چاہیے جبکہ ہم نے سُنا ہے مِعراج کی رات سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  عرش پر اللہ پاک سےمُلاقات کے لیے تشریف لےگئے اور عرش اوپر ہی ہے تو اس کا کیا مَطلب ہے؟  (یوٹیوب کے ذَریعے سُوال)

جواب:پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ پاک سے مُلاقات کے لیے عرش پر گئے یہ عوام کی بات ہے ۔یہ دُرُست ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  عرش پر گئے مگر اللہ پاک کا دِیدار کہاں ہوا اِس کا تذکرہ نہیں ہے۔اعلیٰ حضرت،امام اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:

خرد سے کہہ دو کہ سر  جُھکا لے گماں سے گزرے گزرنے والے

 



[1]    بچوں کی مَدَنی  تربيت کے متعلق یہ اِیمان افروز حکایت اور اِس کے عِلاوہ بہت کچھ جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کا رِسالہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ قسط 24 بنام ”بچوں کی تربیت کب اور کیسے کی جائے ؟“ کا مُطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]    بہارِ شریعت،۱/۱۹، حصہ:۱ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[3]    درمختار، کتاب الصلاة،باب الامامة، ۲/۳۵۸ ماخوذاً دار المعرفة بیروت

[4]     بحر الرائق، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین،۵/۲۰۳کوئٹه 



Total Pages: 7

Go To