Book Name:Jannatiyon Ko Sab Say Pehlay Kia Khilaya Jaye Ga

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

جَنَّتیوں کو سب سے پہلے کیا کھلایا جائے گا؟ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۹صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے: جسے ىہ پسند ہو کہ اللہ پاک کى بارگاہ مىں پىش ہوتے وقت اللہ پاک اس سے راضى ہو تو  اُسے چاہىے کہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شرىف پڑھے۔([2])  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                                صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

جنتیوں کو سب سے پہلے کیا کِھلایا جائے گا؟

سُوال:کیا چاول بھی  کھانوں کے سردار ہیں؟ نیز جَنَّتی جَنَّت میں سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟  

جواب:جَنَّت کے کھانوں میں گوشت کا سب سے پہلا نمبر ہے اور دوسرا نمبر چاول کا ہے۔([3])اِنْ شَآءَ اللّٰہ جَنَّت میں آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں بیٹھ کر گوشت بھی کھائیں گے اور چاول بھی کھائیں گے۔نیز جَنَّتی  جَنَّت میں سب سے پہلے مچھلی کی کلیجی کا کنارہ کھائیں گے۔([4])    

کیا جہیز کی نمائش کرنے میں یتیموں کی دِل آزاری نہیں؟

سُوال:آج کل بعض جگہوں پر جہىز  کی نمائش کی جاتی ہے،لوگوں کو جہیز دِکھانے کا باقاعدہ اِہتمام کیا جاتا ہے،کیا ایسا  کرنے میں  ىتىم اور غریب بچىوں کى دِل آزارى نہىں ہے؟

جواب:جہیز کی نمائش کرنے کو دِل آزارى نہىں کہہ سکتے۔ اگر ایسا ہو تو پھر بلڈنگ بنانا بھى دِل آزاری کا سبب ہو گا کہ  جھگى میں رہنے  والے کا دِل دُکھے گا بلکہ  جھگى بنانا بھى منع ہو جائے گا کہ جو  فٹ پاتھ پر پڑے ہىں،جن کے پاس جھگی بھی نہیں ان کا دِل ٹوٹ جائے گا،تو یُوں دُنىا  کا نِظام ہى رُک جائے گا، لہٰذا اگر کسی نے اللہ پاک کی رضا کے لیے دِل جوئى اور دِیگر اچھی نیتوں کے ساتھ اچھا جہىز دىا، واہ وا اور حُبِّ جاہ([5]) مقصود نہیں ہے  اور وہ  چار آدمىوں کو جہیز دِکھا بھی دیتا ہے تو اس پر کسى کى دِل آزارى کا حکم لگانا سمجھ مىں نہىں آ رہا۔ البتہ اس سے بچنا بہتر ہے ۔  

نمک کے اِستعمال میں اِحتیاط

سُوال: نمک کے اِستعمال مىں کىا اِحتىاط کرنی چاہىے ؟  

جواب:اللہ پاک کے فضل و کَرم مىں سے اىک نمک بھى ہے ۔یہ بہت بڑى نعمت ہے ۔اللہ پاک کى شان ہے کہ جس نعمت کى بندے کو زیادہ ضَرورت ہے وہ ىا تو سَستى کر دى ىا بالکل ہی مُفت کر دى ۔ نمک سے زىادہ ہوا کى ضَرورت ہے کہ اگر ہوا اىک مِنَٹ کے لىے بند ہو جائے تو بندے ڈھیر ہونا شروع ہو جائیں لیکن اللہ پاک نے ہوا بالکل مُفت کر دى ۔ نمک بھى ضَرورى ہے لیکن اس کى اتنی فراوانى اور کثرت ہے کہ ىہ سستا ہے۔ بہرحال  ہر چىز کے اِستعمال میں  اِعتدال ضَروری ہوتا ہے، ہر چیز کی اىک Limit(یعنی حَد) ہوتى ہے،Limit(یعنی حَد)سے  جو بھى چىز زىادہ اِستعمال  ہو گى تو وہ نقصان کرے گى، جیسے ہوا ضَرورى ہے  لیکن اگر کسى کے مُنہ پر پائپ رکھ کر ہوا ڈالتے رہىں تو پھر کىا  ہو گا ؟ىہ نعمت  زحمت بن جائے گى۔اِسى طرح نمک ىقىنا ًنعمت ہے لیکن اِس کا  بے تحاشا اِستعمال نقصان دہ ہے۔

       اِنسانی جسم کے لیے نمک کی جتنى ضَرورت ہے تو وہ غِذاؤں کے ذَرىعے پوری ہو جاتى ہے جىسے پھل فروٹ مىں بھی نمک ہوتا ہے۔ روٹىن کے کھانے کے عِلاوہ اِضافى نمک جو لوگ کھاتے ہىں جىسے پکوڑے ،سموسے ،کباب اور نمکو وغیرہ توان چیزوں میں موجود نمک بَدن میں  نمک کى مِقدار بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔پھر اگر کھانا پىٹ بھر کر کھاتے ہیں تو اس سے  بھی نمک کى مِقدار پىٹ مىں زىادہ جائے گى، جس سے  بلڈ پرىشر ہائى ہو گا۔اگر کسی کا  بلڈ پرىشر ہائى نہیں ہوتا  تو اس سے وہ  یہ نہ سمجھے کہ مجھے نمک سے نقصان نہیں ہو رہا۔

گُردے فیل ہونے کا ایک سبب

                                                اللہپاک نے اَعضا کو جو قوت دى ہے تو اس کى اىک حَد ہے ۔ نمک جب گُردوں مىں پہنچتا ہے  تو گُردے اپنى طاقت سے اس کو حَل کر کے نکالتے ہیں لىکن جب Limit(یعنی حَد) سے زىادہ نمک جاتا ہے تو گُردوں  کو محنت زىادہ کرنى پڑتى ہے،اب کوئى بھى چیزجب اپنى طاقت سے زىادہ محنت کرے گی تو اس کے Damage(خراب ) ہونے کا اِمکان تو رہتا ہے۔ زیادہ نمک ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کچھ مِقدار گُردے مىں رُک کر اِدھر اُدھر چپک جاتى ہےاور اس سے گُردے مىں خرابىاں پىدا ہوتى ہىں۔ آج کل وىسے بھی سُننے میں آتا رہتا ہے کہ اِس کے گُردے فىل ہو گئے ،اُس کے گُردے فىل ہو گئے۔ کثرت سے گُردوں کے فیل ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ  لوگ  نمک زیادہ مِقدار میں اِستعمال کرتے ہیں اور پھر پانى کم پیتے ہیں ،اگر پانی زیادہ پیتے تو گُردے اچھی طرح فلٹر کرتے اور نمک چپکا



[1]    یہ رِسالہ ۴ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۰؁ھ بمطابق 09 فروری 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے،جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]    فردوس الاخبار،باب المیم،۲/۲۸۴،حدیث:۶۰۸۳دار الفکر بیروت

[3]    حديثِ پاک میں ہے:دُنیا و آخرت میں کھانوں کا سردار گوشت اور پھر چاول ہیں۔(کنز العمال،کتاب المعیشة والعادات،الباب الثانی فی الشراب،الفصل الاول فی آداب الشراب،الجزء:۱۵، ۸/۱۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) 

[4]     بخاری،کتاب  مناقب الانصار،باب کیف اخی النبی   بین اصحابه،۲/۶۰۵،حدیث:۳۹۳۸  دار الکتب العلمیة بیروت

[5]    لوگوں میں شُہرت اور ناموری چاہنا حُبِّ جاہ کہلاتا ہے۔ (احیاء العلوم،کتاب ذم الجاہ  والریاء،الشطر الاول فی حب الجاہ  والشھرة،۳/۳۳۹ دار صادر  بیروت)        



Total Pages: 7

Go To