Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

مَسائل میں لوگ گھرے ہوئے ہیں اس کے باوجود ان کے قدم مسجد کی طر ف نہیں بڑھتے آزمائش میں مبتلا ہونے سے پہلے بے نمازی تھے تو اب بھی بے نمازی ہی رہتے ہیں ۔  یہ اِرشاد فرمائیے کہ اگر یہ لوگ نماز کی پابندی شروع کر دیں تو کیا ان کے یہ مَسائل حل ہو سکتے ہیں ؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)  

جواب : واقعی نماز پریشانیوں کا حَل اور غموں کا مَرہم ہے ۔ نماز پڑھنے سے بندے کو صبر بھی نصیب ہوتا ہے چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : ) وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ( (پ۱، البقرة : ۴۵)ترجمۂ کنز الایمان : اور صبر اور  نماز سے مدد چاہ ۔ “جب مصیبت آتى ہے تو اىک تعداد ہے جو واقعى اللہ پاک کى طرف رُجُوع کرتی اور نماز پڑھنا شروع کر دیتی ہے لیکن یہ ذہن نہیں ہونا چاہیے کہ جب غم اور مصىبت آئے گی  تب ہی نماز پڑھنا شروع کرىں گے  ۔ یاد رَکھیے ! نماز پڑھنا فرض ہے ، ہر ایک  کو نماز پڑھنی چاہىے کیونکہ نماز سے مشکلىں آسان ہو جاتى ہىں، مگر نماز مشکلىں آسان کرنے کے لیے نہیں بلکہ اللہ پاک کى رضا حاصِل کرنے کے لىے پڑھنی چاہیے ۔ اللہ پاک  نے قرآنِ کرىم مىں جگہ جگہ نماز کى تاکىد فرمائی ہے ، میری یاد داشت کے مُطابق قرآنِ کریم میں کم و بیش 700مقامات پر نماز کا ذِکر ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز بہت ہی تاکیدی فَریضہ ہے ۔ حدىثِ پاک مىں ہے : قىامت کے روز سب سے پہلے نماز کا سُوال ہو گا، جو نماز کا جواب دىنے مىں ناکام ہوا وہ آگے بھی ناکام ہوجائے گا ۔ ([1])اس بات کو کسی نے فارسی میں یُوں ذِکر کیا ہے :  

روزِ محشر کہ جاں گُداز بُوَد                   اَوَّلىں پُرسِشِ نماز بُوَد

یعنی قیامت جوکہ جان گھلانے والا دِن ہو گا ایسے خوف ناک دِن میں سب سے پہلے نماز کے بارے میں سُوال کیا جائے گا ۔

       سب مسلمانوں کو چاہیے نماز کی پابندی کریں کیونکہ جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑتا ہے اُس کا نام جہنم کے اُس دَروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ جہنم میں داخِل ہو گا ۔ ([2])اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں : ایک نماز قضا کرنے والا ہزاروں سال جہنم کے عذاب کا حقدار ہے  ۔ ([3])اللہپاک ہمیں مُعاف فرمائے  ۔

 جس نے آج تک ایک نماز بھی جان بوجھ کر قضا کی ہو اُسے چاہیے کہ  جلد از جلد توبہ کرے اور دِل سے سچی نیت بھی کرے کہ اب میں پابندی سے نماز پڑھوں گا ۔  یاد رَکھیے ! جو نمازیں قضا ہوئی ہیں ان کی صِرف توبہ کافی نہیں ہو گی  بلکہ ان نمازوں کو ادا  بھی کرنا ہو گا کیونکہ توبہ سے صِرف قضا کا گناہ مُعاف ہوتا ہے نماز معاف  نہیں ہوتی لہٰذا جتنی نمازیں قضا ہوں ان کو جلد از جلد ادا کر لیا جائے  ۔ ([4])قضا نمازوں کے دِیگر مَسائل کی معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”نماز کے اَحکام“میں شامل رِسالے ”قضا نمازوں  کا طریقہ“ کا مُطالعہ کیجیے  ۔ اے کاش!ہمیں ساری نمازیں ادا کرنے کی توفیق نصیب ہو اور ہم دُرُست اَنداز سے نمازیں ادا کرنے والے بن جائیں ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

عالَمِ اَرواح کی مَحبت عالَمِ اَجسام میں بھی بَرقرار رہتی ہے

سُوال : میں آپ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جس کو کرنے سے آپ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں ۔  (میلسی سے سُوال)

جواب : سُبْحٰنَ اللّٰہ!جن لوگوں کو عالَمِ اَرواح یعنی رُوحوں کی دُنیا  میں باہمی  محبت ہوتی ہے دُنیا میں بھی ان کی محبتیں قائم رہتی  ہیں اور جن کا عالَمِ اَرواح میں باہمی اِختلاف ہوتا ہے دُنیا میں بھی وہ اِختلاف باقی رہتا ہے  ۔ ([5])آپ نے مجھ سے اپنی محبت کا اِظہار کیا  اِس سے میری دِل جوئی ہوئی ہے  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں مجموعی طور پر تمام مسلمانوں سے محبت کرتا ہوں، جو میرے مُصْطَفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا غُلام ہے ، عاشقِ رَسُول ہے میں اُس سے محبت کرتا ہوں، اگر میں مسلمانوں سے محبت نہ کرتا اور ان کی ہمدردی میرے دِل میں نہ ہوتی تو یہ دعوتِ اسلامی ، مَدَنی چینل اور میرا یہاں بیٹھ کر اسلامی بھائیوں کی خدمت میں مَدَنی پھول پیش کرنا وغیرہ کچھ نہ ہوتا ۔ یہ سب مسلمانوں سے  محبت کی وجہ سے ہے ورنہ میر ااِس میں کوئی ذاتی مَفاد نہیں ، نہ میں مَدَنی چینل سے کوئی پیسے لیتا ہوں  اور نہ ہی دعوتِ اسلامی سے میری کوئی تنخواہ مقرر ہے  بلکہ میں نے  آج تک دعوتِ اسلامی سے ایک پائی بھی نہیں لی  ۔ میں یہ سارے کام اللہ پاک کی رضا کے لیے کرنے کی کوشش کرتا ہوں، حتّٰی کہ میں نے اپنی ساری  کتابیں اور رَسائل اللہ پاک کی رضا کے لیے ہی تحریر کیے ہیں، میں نے آج تک ان سے کوئی پائی پیسہ نہیں کمایا اور  نہ ہی مکتبۃ المدینہ سے ان کی مد میں کوئی رَقم وصول کی ہے ۔ میں نے اپنی اولاد کو بھی یہ وَصیت کی ہوئی ہے کہ وہ میری کسی کتاب یا رِسالے سے مالی نفع حاصِل نہ کریں اور مجھے ان سے حُسنِ ظَن  ہے اِنْ شَآءَ اللّٰہ یہ میری اس وَصیت پر ضَرور عمل کریں گے ۔   

ہمدردی اور محبت دو  الگ چیزیں ہیں

            رہی بات کسی شخصِ معین سے محبت کرنا تو اس کے لیے کچھ نہ کچھ مَراسِم ہونا یا اس سے تھوڑی بہت جان پہچان ہونا ضَروری ہے ۔ اِنسان کو کسی کا کوئی انداز یا کوئی ادا پسند آجاتی ہے جس سے دِل میں اس شخص کی محبت گھر کرجاتی ہے یہ ایک الگ بات ہے  ۔ مگر مسلمان ہونے کے ناطے ہرمسلمان سے مجھے محبت ہے کیونکہ مجھے اِسلام سے محبت ہے  ۔ البتہ جو لوگ مجھے بُرا بھلا کہتے ہیں مجھ پر جھوٹ باندھتے ہیں ظاہر ہے مجھے ان سے محبت نہیں ہو گی،  اگرچہ میں کسی بھی معین شخص کی بُرائی یا مخالفت نہیں کرتااور  نہ اس سے کسی قسم کا اِنتقام لیتا ہوں ۔  ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیا ایسے شخص کے لیے میرے دِل میں جگہ ہو گی؟ ا س کے لیے میرے دِل میں محبت کے سوتے پھوٹیں گے ؟ کیا میرے دِل میں اس کے لیے یہ خیال پیدا ہو گا کہ کتنا پیارا آدمی ہے جو مجھے چوک پر کھڑے ہو کر گالیاں دیتا  ہے ؟ واہ! کتنا نیک بندہ ہے جو سوشل میڈیا پر جھوٹ بول کے مجھے رُسوا کرتا ہے ؟ یقیناً ایسا  ہرگز نہیں ہو گا، کیونکہ یہ اِنسان کے فِطری تقاضے کے بالکل خلاف ہے ۔ ایسے شخص کے لیے  شاید



[1]    ترمذی، کتاب الصلوة، باب ماجاء ان اول مایحاسب به...الخ، ۱ /  ۴۲۲ ، حدیث : ۴۱۳ 

[2]    حلية الاولیاء، مسعر بن کدام، ۷ / ۲۹۹، حدیث : ۱۰۹۰ دار الکتب العلمية بیروت

[3]    فتاویٰ رضویہ، ۹ / ۱۵۸-۱۵۹

[4]    بہارِ شریعت میں ہے  : جس کے ذَمّہ قضا نمازیں ہوں اگرچہ ان کا پڑھنا جلد سے جلد واجب ہے مگر بال بچوں کی خورد و نوش(یعنی کھانے پینے ) اور اپنی ضَروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر جائز ہے تو  کاروبار بھی کرے اور جو وقت فُرصت کا ملے اس میں قضا پڑھتا رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائیں ۔ (بہارِ شریعت، ۱ / ۷۰۸، حصہ : ۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

[5]    بخارى، کتاب احادیث الانبیاء، باب الارواح جنود مجندة، ۲ /  ۴۱۳ ، حدیث :  ۳۳۳۶ دار الکتب العلمية بيروت



Total Pages: 8

Go To