Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

جواب :  فى الحال تو مىں فىضانِ نماز کتاب کے لىے کام کر رہا ہوں اور مىرى تڑپ ہے کہ رَمضان کے چاند کا اِعلان ہو تو ساتھ مىں فىضانِ نماز کے چھپنے کا بھی اِعلان ہو  ۔ اس کے لیے  کوشش تو کر رہا ہوں لیکن ظاہر ہے کہ  پُرانى گاڑى تھوڑا آہستہ چلتى ہے  ۔ اللہ کرے کہ  اىسى ہمت آجائے اور فىضانِ نماز کتاب منظر عام پر آ جائے ۔ زندگى نے ساتھ دىا تو جھوٹ کى تباہ کارىاں کتاب لکھنے  کا بھی اِرادہ ہے  کیونکہ مىں اس کى ضَرورت بہت محسوس کرتا ہوں ۔  پہلے خیال تھا کہ غىبت زىادہ ہے مگر اب سمجھتا ہوں کہ جھوٹ غىبت سے بھى زىادہ ہے  ۔ بات بات پر جھوٹ بولنا عام ہو گیا ہے  ۔ ذِمَّہ داران اور مبلغىن کی بات کی جائے یا عوام اور  خواص کی، پتا بھی نہىں چلتا اور منہ سے جھوٹ نکل رہا ہوتا ہے ، اب مىرے جىسا جو حَسَّاس آدمى ہوتا ہے وہ بعض  اوقات بھانپ لىتا ہے کہ اس غرىب کو  پتا بھی نہىں کہ ىہ جھوٹ ہے  لیکن بسا اوقات بولنے کى ہمت نہىں ہوتى  ۔ کتاب میں  مثالىں دے کر سمجھانے کا ذہن ہے  ۔ کبھى ىاد آتا ہے تو کئى مثالىں  اپنے پاس لکھ لىتا ہوں  تاکہ اللہ پاک کی توفىق سے جب کتاب آئے گی تو اِنْ شَآءَاللّٰہ اس میں ڈال دىں گے  ۔ بس اللہ پاک قبول کرے اور اخلاص بھى عطا فرمائے ۔

کیا جَنَّتی  جَنَّت میں بھی عبادت کریں گے ؟

سُوال : مسلمان جَنَّت میں عبادت کریں گے یا نہیں؟

جواب : بعض لوگ قبر مىں اور جَنَّتى جَنَّت مىں عبادت اور نىک عمل کرىں گے لىکن اس پر  انہىں ثواب نہىں ملے گا ۔  چنانچہ شرحُ الصُّدُور مىں ہے  :  بعض اوقات اللہ پاک اپنے بندوں کو قبور مىں نىک اَعمال کرنے کا شَرف عطا فرماتا ہے ، لیکن اس پر انہىں ثواب نہىں ملتا کىونکہ موت کی و جہ سے عمل ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔ قبور مىں ان کو نىک اَعمال کى سعادت ملنے کى  وجہ ىہ ہے کہ جس طر ح فرشتے نىک اَعمال سے لَذَّت حاصِل کرتے ہىں اور جَنَّتی جَنَّت مىں نیک اَعمال سے لَذَّت حاصِل کرىں گے اگرچہ اس پر انہىں ثواب نہیں  ملے گا، اِسی طرح اللہ والے اپنى قبروں مىں اللہ پاک کے ذِکر و عبادت سے لَذَّت حاصِل کرتے ہىں کىونکہ ان کے لىے اللہ پاک  کا ذِکر اور اس کی عبادت دُنىا کى تمام لَذَّتوں اور نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور ذِکر و عبادت جىسا کىف و سُرور اور ایسی لَذَّت دُنىا کى کسى نعمت مىں نہىں ہے  ۔ ([1])      

جَنَّت میں کوئی غم نہیں

سُوال : جَنَّت میں ہم کسی سے ملنے جائیں اور وہ کسی اور سے ملنے گیا ہوا ہو تو اس سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کا غم ہو گا حالانکہ جَنَّت میں کوئی غم نہیں ہے تو وہاں یہ مُعاملہ کیسے حَل ہو گا؟

جواب : جب یہ بات بتا دی گئی ہے کہ جَنَّت میں غم نہیں ہو گا ۔ ([2])  تو اُمّید ہے کہ ہم جس سے ملنے جائیں گے اس سے ہماری ملاقات ہو ہی جائے گی ۔  ایک وقت میں کئی لوگوں سے ملاقات ہونا بھی ممکن ہے جیسا کہ ایک شعر میں ہے :

گئے اِک وقت مىں ستر مُرىدوں کے ىہاں آقا

سمجھ مىں آ نہىں سکتا مُعَمّا غوثِ اعظم کا

                                                                                  (قبالهٔ بخشش)

قرض اُتارنے کا وَظیفہ

سُوال :  کاروبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے مجھ پر بہت زیادہ قرض ہو گیا ہے اور اس کی اَدائیگی کے لیے میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں ، اِس حوالے سے کوئی حَل اِرشاد فرما دیجیے  ۔ (SMS کے ذَریعے سُوال)

جواب : اللہ کریم آپ کی مشکل آسان فرمائے ، آپ کا روزگار بحال ہو جائے اور اللہ کرے آپ کا قرض بھی اُتر جائے ۔ قرض اُتارنے کا وَظیفہ ”مَدَنی پنج سورہ“([3])اور(کاروبار چمکانے کا نسخہ)”چڑیا اور اندھا سانپ“([4])نامی رِسالے میں لکھا ہوا ہے اس کو پڑھنے کی تَرکیب کیجیے ۔  

نماز پریشانیوں کا حَل اور غموں کا مَرہم ہے

سُوال : ابھی آپ نے ایک سُوال کے جواب میں وَظیفہ پڑھنے کے لیے عطا فرمایا، اِن وَظائف کی اپنی بَرکتیں اور فَوائد ہیں، مگر دُنیا میں بسنے والے لوگوں کو بہت سارے مَسائل کا سامنا ہے کسی کو کاروبار کا پرابلم ہے تو کوئی قرض کے مَسائل میں جکڑا ہوا ہے  ۔ اِس کے علاوہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہیں کئی ایسے نوجوانوں کو بھی دیکھا گیا ہے جن کو  کینسر ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے ، ایسے کئی



[1]    شرح الصدور ، احوال الموتی فی قبورھم وانسھم فیھا فھم یصلون فیھا...الخ، ص ۱۸۹ ماخوذاً  مرکز اھلسنت برکات رضا ھند

[2]    ترمذی، کتاب صفة الجنة، باب ما جاء فی سوق الجنة، ۴ / ۲۴۶، حدیث : ۲۵۵۸ دار الفکر بیروت

[3]    قرض اُتارنے کا وَظیفہ :  اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ (یعنی اے اللہ! مجھے حرام سے بچاتے ہوئے (صِرف) حلال کے ساتھ کفایت کراور اپنے فضل وکرم کے ذَریعے اپنے سِوا سے بے پرواہ فرمادے  ۔ ) تاحُصولِ مُرادہرنَماز کے بعد 11، 11 بار اور صبح وشام 100، 100 بار روزانہ (اوّل وآخِر ایک ایک بار دُرُودشریف) پڑھئے  ۔ (مدنی پنچ سورہ، ص۲۴۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)مَروی ہے کہ ایک مکاتب (یعنی وہ غُلام جس نے اپنے آقا سے مال کی اَدائیگی کے بَدلے اپنی آزادی کا مُعاہدہ کیا ہو)نے حضرتِ سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کی :  میں اپنی کتابت (یعنی آزادی کی قیمت) ادا کرنے سے عاجز ہوں میری مدد فرمائیے ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہ نے فرمایا :  میں تمہیں چند کلمات نہ سکھاؤں جو رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے سکھائے ہیں، اگر تم پر جَبَلِ صیر (صیر ایک پہاڑ کا نام ہے ) جتنا دَین (یعنی قرض) ہو گا تو اللہ پاک تمہاری طرف سے ادا کر دے گا تم یوں کہا کرو :  اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ۔ (ترمذی، کتاب الدعوات عن رسول اللّٰہ، باب(ت : ۱۲۱) ۵ / ۳۲۹، حدیث : ۳۵۷۴) 

2    کاروبار چمکانے کا نسخہ :  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡم کاغذ پر 35 بار لکھ کر گھر میں لٹکا دیجئے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ شیطان کا گزر نہ ہو گا اور (رزقِ حلال ) میں خوب برکت ہوگی، اگر دکان میں لٹکائیں گے اور جائز کاروبار ہوا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ خوب چمکے گا ۔  (چڑیا اور اندھا سانپ، ص۲۸مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)



Total Pages: 8

Go To