Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

جِلد مىں ہے یہ  دىا جاسکتا ہے ۔ فىضانِ سُنَّت جلد اَوَّل اور  اس کے دِىگر اَبواب  مثلاً غىبت کى تباہ کارىاں ، نىکى کى دعوت ىہ پورا  سىٹ بھى دىا جاسکتا ہے ۔ جتنی کتب کا  مىں نے عرض کىا ىہ سارے سىٹ بھى جہیز میں دىئے جا سکتے ہىں ۔  لوگ لاکھوں کروڑوں روپے شادىوں پر خرچ کرتے ہىں اور سونے کا ڈھىر لگا دىتے ہىں ، اگر نیکىوں کا ڈھىر لگانے والے اَسباب بھى چند ہزار روپے خرچ کرکے دے دىئے جائىں تو مدىنہ مدىنہ ۔ گھر میں دِینی کتابیں ہوں گی تو کبھی نہ کبھی کوئى تو کھول کر دىکھے گا کہ یہ کىا ہے ؟ آنے والى نسلىں دىکھىں گى کہ ىہ کىا ہے ؟ گھر کے دِىگر اَفراد دیکھىں گے کہ ىہ کىا ہے ؟لہٰذا جہىز مىں دِىنى کتابىں دىنى چاہئیں ۔   

شادی میں گلدستہ یا شوپیس تحفے میں دینا

سُوال  : شادی میں بہت سے لوگ قیمتی اور مہنگے گلدستے تحفے میں دیتے ہیں ، کیا یہ دُرُست ہے ؟ ([1])

جواب : شادى کے موقع پر جو اُلٹے سىدھے طرح طرح کے Gifts(تحائف) دیئے جاتے ہىں تو وہ  کسى کام کے نہىں ہوتے  ۔ مثلاً عام طور پر شادیوں میں شوپىس دىتے ہىں یا ایسے قیمتی  گلدستے دىتے ہىں جن مىں عام طور پر خوشبو نہىں ہوتى  تو ایسے  گلدستے دینا جائز ہے ، یُوں ہی ایسے شوپىس دینا بھی جائز ہے جن مىں جاندار کا پُتلا نہ ہو  لىکن ایسی چیزوں کے فَوائد کم ہىں ۔ اب گلدستے کو  بندہ کىا کرے گا؟مثلاً حاجی عبید رضا کو کسى نے قیمتی گلدستہ آ کر دىا ، اب حاجى عبید  رضا نے اسے کىا کرنا ہے ؟جَزَاکَ اللہ کہہ کر رکھ لىنا ہے اور پھر کسى کو پکڑا دىنا ہے ۔ اگر کچھ دىنا ہى تھا تو اس کى جگہ کوئى دِىنى کتاب دے دىتے ۔ اگر کوئى عمامہ پہنتا ہے تو اس کو سوٹ پیس اور عمامہ دے دىتے ، سُنَّت کے مُطابق پہنتا رہے گا اور نمازىں پڑھتا رہے گا ۔  دِىنى کتابیں دعوتِ اسلامى نے ہزاروں رکھى ہوئى ہىں، مکتبۃ المدىنہ بھرا پڑا ہے ، لہٰذا ان مىں سے کوئى کتاب حسبِ توفىق خرید کر کے تحفے میں  دے دی جائے ۔ اگر شادى کے گفٹ کے طور پر کوئی کتاب دینی ہے  تو اس پر لکھ بھی دىں کہ فُلاں کى شادى کے موقع پر تحفہ ، یا شادی مُبارَک ۔  اگر شادى مُبارَک وغیرہ لکھ کر کتاب دیں گے تو اُمّید ہے کہ وہ ىادگار کے طور پر سنبھال کر رکھے اور پڑھے  ۔ اگر  دُولہا پہلے سے مَدَنی ماحول میں ہے تب بھى کتاب تحفے میں دیں کہ گھر مىں کوئى تو پڑھے گا ۔ مسلمانوں کے گھر مىں دِىنى کتاب جائے گى تو کسی قسم کا نقصان نہىں پہنچائے گى بلکہ اِنْ شَآءَاللّٰہ کچھ نہ کچھ کما کر دے گى ۔  

سامنے والے کى نفسىات اور اس کى ضَرورت کے مُطابق تحفہ دىا جائے

سُوال  : کسی کو تحفہ دیتے وقت کیا رعایت کی جائے ؟ ([2])

جواب : جب بھى کسی کو تحفہ دىنا ہو تو پہلے دیکھ لیا جائے کہ میں  کىا دے رہا ہوں؟مجھے اس کے متعلق بڑا تجربہ ہے ۔ مجھے تحفہ دینے کے لیے کوئى کچھ لاتا ہے اور کوئی کچھ  ۔ بعض تحفے میں Stick(یعنی عصا)اُٹھا کر لے آتے ہیں حالانکہ مىں Stick کا اِستعمال نہیں کرتا کىونکہ میرا باہر چلنا نہىں ہوتا   ۔ اب کسی  بے چارے نے دو چار ہزار روپے کى Stickدی لیکن وہ غفلت مىں ہى اِدھر اُدھر چلى گئى  ۔ بالفرض میرے پاس ہی ہوتی تو میں اس کا کیا کرتا؟ دىکھ کر دِل ہى جَلاتا  کہ  اس کى جگہ  فُلاں چىز آجاتى تو کسی کے کام میں اِستعمال ہو جاتى ۔  یُوں ہی اگر کوئی شوگر کا مریض ہے اور ڈاکٹر نے اس کو انسولىن کے انجکشن لگانے کا کہا ہے ، انسولىن کے انجکشن کے لىے وہ پىسے ٹٹول رہا ہو اور آپ اسے  مٹھائى کا ڈبہ تھما دىں، اب  مٹھائى دىکھ کر ہو سکتا ہے کہ  بے چارے کی شوگر مزید  بڑھ جائے  ۔ اس لىے جب بھی کسی کو تحفہ دىں تو یہ دیکھ لیں کہ تحفے میں دی جانے والی چیز اس کے  لیے کارآمد ہے یا نہیں؟

        اگر مىں کسی کو تحفے میں کوئی چیز دوں تو مىرے بارے مىں ىہ رِعاىت ہونى چاہىے کہ مجھے کسى اور نے یہ تحفہ دىا ہو گا اور مىں نے اسے آگے بڑھا دىا، ورنہ خرىد کر دىنے کی صورت میں میری سوچ یہی  ہے کہ سامنے والے کى نفسىات اور اس کى ضَرورت وغىرہ دىکھ کر تحفہ دىا جائے تاکہ وہ چیز اسے کام آئے ۔ اگر سامنے والے کی ضَرورت یا نفسیات کا پتا نہ چلے تو اب بہتر یہ ہے کہ چاہے دُولہے کو تحفہ دینا ہویا کسی اور کو لفافے مىں رقم ڈال کر پىش کر دى جائے ، یہ طریقہ  سب سے اچھا ہے  ۔

شخصیات کو پھولوں کے ہار ڈالنا اور ان پر  پتیاں  نچھاور کرنا

سوال : اَراکىنِ شُورىٰ ىا ذِمَّہ داران جب بىانات کے لىے سفر کرتے ہىں تو لوگ یہ سمجھ کر کہ  ہمارے شہر مىں آئے ہىں  ان کا بھرپور استقبال کرتے اور زیادہ ہار پہناتے ہىں  اور کئی کئى کلو پتىاں نچھاور کرتے ہىں ۔ اِس بارے مىں مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب : پھولوں کے ہار ڈالنا یا پتیاں نچھاور کرنا  جائز تو ہے  مگر میں اىک تنظىمى ذہن کا آدمى ہوں ۔  جب مجھے اتنے زیادہ  ہار ڈالے جاتے تھے کہ بورىاں بھر جائىں تو مىں سمجھاتا تھا کہ ان کى جگہ مجھے رَسائل دے دو، میں  رسائل بانٹوں گا تو ثواب بھی ملے گا ۔ ىہ ہار آپ نے پہنائے ، میں نے بھی آپ کى خوشی کے لىے  تھوڑى دىر انہیں پہنے رکھا  مگر ہار کى وجہ سے سفید کُرتے پر ایسے دَھبے پڑتے ہیں جو دھونے سے بھى نہیں جاتے ۔ یُوں میں بیانات میں بار بار کہتا رہا تو ہاروں اور گلدستوں میں کافی کمی آ گئى ۔ مبلغىن خاص کر جو شخصىات ہیں انہیں چاہیے کہ پىار و محبت سے سمجھاتے رہیں ۔  جو مسکراتا ہوا  ہار پہنانے آیا تو  اس وقت اسے منع نہ کریں ورنہ اس کا دِل ٹُوٹ جائے گا بلکہ موقع کى مُناسبت سے سمجھایا جائے مثلاً کسى ذِمَّہ دار سے کہہ دىا کہ مىں آ رہا ہوں ، پچھلى بار 12000( بارہ ہزار) کے ہار مجھے پہنائے گئے تھے اس کے بجائے آپ رَسائل لے کر مجھے دے دیں تاکہ مىں بانٹوں ۔ ذِمَّہ دار آپ کا نام لے کر آگے یہ  بات نہ کرے بلکہ اپنی ترکیب سے دوسروں کو  یہ بات سمجھا دے  ۔ یُوں ہار اور گلدستوں میں کمی آسکتی ہے ۔  

رَقم ایسے کام میں خرچ کرنی چاہیے جس سے آخرت اور دِىن کا فائدہ ہو

            یہ ہار اور گلدستے ویسے بھی اِدھر اُدھررکھ دیئے جاتے ہىں ۔  جو پھول نچھاور کیے جاتے ہىں وہ بھی زمىن پر گر کر ضائع ہوتے ہىں ۔ بعض اوقات سفىد چاندنىاں بِچھى ہوتى ہىں ، خود مىرا تجربہ ہے کہ ان پر جب پتىاں گرتى ہىں تو دَھبے پڑ جاتے ہىں وہ دھبے پھر آسانى سے جاتے نہیں ۔ دھوبى کو دھونے کے لیے دیں گے تو اس سے چاندنى کى لائف کم ہو جاتى ہے  ۔ بہرحال مزار شرىف پر پھول



[1]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)



Total Pages: 8

Go To