Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

کر چل مدینہ کے قافلے میں شامل کر لیں کہ وہ مدنی اِنعامات کا عامل ہے پھر بعد میں وہ بے چارہ آزمائش میں آجائے اور کہے کہ چل مدینہ کے قافلے کا جدول ایسا مشکل ہے جیسے فوج کے کسی دَستے کی ٹریننگ چل رہی ہو، مجھ سے یہ سب نہیں ہو سکے گا، مجھے بھوک لگ رہی ہے اور شرکائے قافلہ نے روزہ رکھا ہوا ہے اور اِشراق چاشت پڑھ کر  سو گئے ہیں ۔  میرا  ناشتہ کرنے کا وقت ہے ، مجھ سے تو روزہ رکھ کر رہا ہی نہیں جاسکتا  اب میں کیا کروں؟یہ میں نے ایک مثال بیان کی ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے ، اگر کوئی اس طرح کا اسلامی بھائی ہمارے ساتھ چل دیا تو اس کو کھانا  کون لا کر کھلائے گا کیونکہ وہاں تو باہر نکل کر ہی کھانا خریدا جاسکتا ہے  اگر وہ اس طرح کھانے کی تلاش میں باہر نکلے گا تو اس کو کوفت ہونا شروع ہو جائے گی ۔

چل مدینہ کے قافلے کے لیے ذہنی ہم آہنگی ضَروری ہے

       اس کے بَرعکس اگر بے قراری ہوئی تو خوب آہ و زاری بھی ہو گی ساتھ ہی اشک باری اور مدینے کی طلب گاری بھی رہے گی ۔ اسی وجہ سے ہم نے چل مدینہ کے لیے بے قراری کو شرط قرار دیا ہے ورنہ عام اِعلان کر دیا جائے تو  12ہوائی جہاز بھی کم پڑ جائیں گے ۔ ہم نے کم سے کم 12اسلامی بھائی شامل کرنے ہیں جن کے دِل میں بے قراری بھی ہو بیان کردہ شرائط کے ساتھ ساتھ وہ ہمارے ہم ذہن بھی ہوں ۔ ویسے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ سارے دعوتِ اسلامی والے ہی ہم ذہن ہوتے ہیں کہ مَاشَآءَ اللّٰہ سب کے سب عقائد میں ایک ہی نظریہ رکھتے ہیں لیکن میں جس ہم آہنگی کا عرض کر  رہا ہوں وہ مزاج  میں ہم آہنگی ہے کہ عموماً لوگوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے جس کی وجہ سے ذہن نہیں ملتا ۔

ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی تازہ مثال

       مزاج یا ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی تازہ مثال یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہم نے یہ اعلان کیا کہ ”اب دعوتِ اسلامی والے  سبز عمامہ شریف کے ساتھ ساتھ  کسی اور رنگ کا عمامہ شریف بھی پہن سکتے ہیں ۔ “ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ عمامے ہی اُتار دئیے جائیں اس کے باوجود کتنے ہی اسلامی بھائیوں نے عمامے اُتار دئیے ، یہ ایک سائیڈ افیکٹ تھا جو سُنَّت سے ہی محروم کرگیا ۔ بعض اسلامی بھائی کہتے ہیں کہ پابندی ہٹ گئی حالانکہ پابندی تھی ہی نہیں پہلے بھی عمامہ شریف باندھنے کی ترغیب تھی  کہ عمامہ شریف باندھیے کیونکہ یہ سُنَّت ہے اب بھی یہی تَرغیب ہے کیونکہ عمامہ باندھنا  اب بھی سُنَّت ہے  اور آئندہ بھی سُنَّت ہی رہے گا لہٰذا اِس سُنَّت کو اپنا لیا جائے  ۔ اسی طرح  جب رنگین کپڑوں کی اِجازت دی گئی تو اس میں بھی بیان کیا کہ  لائٹ کلر کا وہ لباس جو مہذب لوگ مثلاً عُلَما و مَشائخ پہنتے ہیں وہ پہنا جائے ، اس کے باوجود اسلامی بھائیوں نے ایک سے بڑھ کر ایک ڈارک کلر  پہننا شروع کر دیا بلکہ بعض نے تو ایسے چمکیلے بھڑکیلے اور شوخ کلر کے لباس پہنے جن کی بہارِ شریعت میں مذمت کی گئی ہے ۔ ([1])اِس انداز سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک تعداد ہے جس کی مجھ سے ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے ، انہوں نے رنگین چمکیلا بھڑکیلا لباس پہنا حالانکہ میر ا مزاج سادہ لباس پہننے کاہے  ۔

ترى سادگى پہ لاکھوں ترى عاجزى پہ لاکھوں

ہو سلام عاجزانہ مَدَنى مدىنے والے

                                                                                    (وسائلِ بخشش)

خُصُوصی اسلامی بھائی چل مدینہ کے قافلے میں کیسے شریک ہوں؟

سُوال : جب آپ نے چل مدینہ کے حوالے سے اِرشاد فرمایا تو خُصُوصی اسلامی بھائیوں(یعنی گونگے بہروں ) نے بھی اپنی فریادیں کرنا شروع کر دی ہیں، یہ بھی مختلف اَنداز سے آپ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ ہمیں چل مدینہ ہونا ہے ۔ اِس حوالے سے کچھ اِرشاد فرما دیجیے  ۔ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال) 

جواب : جب میں نے چل مدینہ کے لیے مَدَنی اِنعامات  کا اِعلان کیا تھااس وقت یہ خُصُوصی اسلامی بھائی(یعنی گونگے بہرے )اور قیدی میرے ذہن میں تھے کہ ان کے لیے بھی میں نے مَدَنی اِنعامات مُرتب کیے ہیں ۔  جو قیدی جیل میں اور باہر آکر مَدَنی اِنعامات پر عمل کو اپنا معمول بناتے ہیں ان کو بھی چل مدینہ کرنا  چاہیے ۔ اِسی طرح خُصُوصی اسلامی بھائیوں کے لیے بھی چل مدینہ کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے ، مگر اس وقت کوئی خاص بات میرے ذہن میں نہیں آئی کہ ان کے لیے مَدَنی اِنعامات کی کیا ترکیب بنائی جائے جس سے یہ چل مدینہ کے قافلے میں شامل ہوسکیں ۔  اگر کسی  ایک خُصُوصی اسلامی بھائی کو بھی چل مدینہ کرتے ہیں تو اس کے لیے ایک مبلغ ہونا بھی ضَروری ہے جو اس کو سمجھاتا رہے ، ورنہ یہ اکیلا ہونے کی وجہ سے آزمائش میں آجائے گااور ہمیں بھی آزمائش میں ڈال دے گا کیونکہ ہم اس کو سمجھا نہیں سکیں گے  ۔ اس کا حل یہ ہے کہ خُصُوصی اسلامی بھائیوں کے لیے 27مدنی اِنعامات مُقَرَّر ہیں اس میں سے جس نے 25مدنی اِنعامات پر 92دِن تک عمل کیا ہو وہ چل مدینہ ہوسکتا ہے لیکن ان کے ساتھ ان کا مُعَلِّم بھی ہوگا، اس مُعَلِّم کے لیے یہ شرط ہوگی کہ وہ 72میں سے 66مدنی اِنعامات کا عامِل ہو ۔ اگر مُعَلِّم کو بغیر کسی شرط کے صِرف خُصُوصی اسلامی بھائیوں  کی خاطر لے جائیں گے تو یہ مُعَلِّم ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں تنگ کرے گا لہٰذا اس کے لیے بھی بیان کردہ شرط پر اُترنا ضروری ہے ۔

       اسلامی بہنوں کے لیے بھی بیان کیا تھا کہ جو اسلامی بہن اپنے 63مدنی اِنعامات میں سے 60پر   بلکہ 58 پر بھی عمل کرے گی وہ چل مدینہ ہوسکتی ہے ۔ چونکہ ان کے ساتھ مَحرم کا ہونا بھی ضروری ہے تو ان کے جو مَحرم ہوں گے ان کے لیے بھی وہی شرط ہوگی جو دِیگر  اسلامی بھائیوں کے لیے بیان کی گئی ہے (یعنی 72 مدنی اِنعامات میں سے 66 مدنی اِنعامات پر عمل ہو) ۔ اسلامی بہن کے ساتھ بطورِ محرم ان کے بچوں کے ابو یا اس کے والد ہوں گے اگر وہ مدنی انعامات کے عامل نہ ہوئے بلکہ ممکن ہے وہ مَدَنی ماحول میں بھی مضبوط نہ ہوں اور شیوڈ (یعنی داڑھی منڈھے )ہوں اور  ہم ان کو اس اسلامی بہن کی خاطر اپنے ساتھ لے جائیں اور وہ وہاں ہمیں اٹک جائیں تو ہم کیا کریں گے  ۔ یوں چل مدینہ کا پورا قافلہ  Disturb(پریشان) ہو جائے گالہٰذا ہم ایسا رسک نہیں لے سکتے  ۔ بہتر یہی ہے کہ خُصُوصی اسلامی بھائی کے ساتھ شَرائط کے حامِل ان کے مُعَلِّم اور اسلامی بہن کے ساتھ شرائط کے حامل اس کے مَحرم ہوں تو ہی ان کی چل مدینہ کے قافلے میں ترکیب بن سکے گی ۔  

جن کا مَدَنی اِنعامات پر عمل اور  رَختِ سفر نہ ہو وہ چل مدینہ کیسے ہوں؟

 



[1]    بہارِشریعت، ۳ / ۴۱۵، حصہ :  ۱۶ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی



Total Pages: 8

Go To