Book Name:Jab Bulaya Aaqa Nay Khud Hi Intizam Ho Gaye

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

جب بُلایا آقا نے خود ہی اِنتظام ہو گئے ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۹صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

      فَرمانِ مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے : اے لوگو! بے شک بروزِ قىامت اس کى دہشتوں ىعنى گھبراہٹوں اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہو گا جس نے تم مىں سے مجھ پر دُنىا کے اندر باکثرت دُرُودِ پاک پڑھے ہوں گے  ۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                    صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

جب بُلایا آقا نے خود ہی اِنتظام ہو گئے

سُوال : اگر کسی کے پاس چل مدینہ کے لیے زادِ راہ نہ ہو اور وہ حج کی خواہش بھی رکھتا ہو اور آپ کے ساتھ مدینے کی حاضری بھی دینا چاہتا ہو تو وہ کون سا وَظیفہ پڑھے کہ اس کی یہ مُراد پوری ہو جائے ؟     

جواب : جب بُلایا آقا نے خود ہی اِنتظام ہو گئے ، بار گاہِ رِسالت میں اِستغاثہ کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعا کرے کہ  اَلدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤمِنِ یعنی دُعا مؤمن کا ہتھیار ہے  ۔ ([3])جب دُعا کرے گاتو اللہ کریم غیب سے اَسباب پیدا فرما دے گا اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں ہے ۔ کافی پُرانا واقعہ ہے : جن دِنوں میری مَرکزا لاولیا (لاہور) میں 12ماہ کے لیے ترکیب بنی تھی اس وقت میرے پاس حج کے اَسباب نہیں تھے اور میری خواہش تھی کی میں اِس سال حج کروں تو میں نے حضور داتا گنج بخش سید علی ہجویریرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بارگاہ  میں چند اَشعار عرض کیے تھے  جس کا ایک مِصرع ہے : ”ہو مدینے کا ٹکٹ مجھ کو عطاداتا پیا“ ([4]) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے کسی جاننے والے نے آکر کہا  : ”آپ کا حج کا فارم بھرنا ہے  ۔ “یُوں میری حج کی ترکیب بن گئی، میں داتا صاحبرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے صَدقے میں حج سے مُشَرَّف ہوا اور مدینۂ پاک کی حاضِری سے آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ۔  میں نے داتا حضور رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بارگاہ کے عِلاوہ کسی اورسے حج کا سُوال نہیں کیا تھا کہ مجھے مدینے جانا ہے آپ میری ترکیب بنا دیجیے کہ اللہ پاک کی رَحمت سے میری اس طرح کی عادت نہیں ہے ۔ داتا حضور رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کرنا یہ اس طرح کا سُوال نہیں ہے جس طرح کسی عام آدمی سے سُوال کیا جاتا ہے اور اس سے سائل کی ذِلَّت بھی ہوتی ہے ۔ دُنیا سے پَردہ فرمانے کے بعد بھی اَولیائے کِرامرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم کی بارگاہ میں عرض کرنا ہرگز مقامِ ذِلَّت نہیں بلکہ یہ تو مقامِ عزت ہے ، اَولیائے کِرامرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم اللہ پاک کی عطا سے سائل کو دیتے ہیں جس سے سائل کی نظر میں ان کی مزید عزت بڑھتی ہے  بلکہ خود سائل کی عزت میں بھی اِضافہ ہوتا ہے  ۔

چل مدینہ ہونے کے لیے بے قراری شرط ہے

سُوال : حج کے فارم جمع کروانے کا مہینا قریب ہے اور مدینے جانے والے اپنی تیاریاں بھی کر رہے ہیں، آپ نے گزشتہ مَدَنی مذاکرے میں اپنے ساتھ چل مدینہ کی خواہش رکھنے  والوں کے لیے مَدَنی اِنعامات سے متعلق اِرشاد فرمایا تھا کہ اسلامی بھائیوں کے لیے 72مَدَنی اِ نعامات میں سے 66 مَدَنی اِنعامات پر، اسلامی بہنوں کے لیے 63میں سے 60 مَدَنی اِنعامات پر اور طلبا کے لیے 92میں سے 82مَدَنی اِنعامات پر عمل ہونا ضَروری ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ بے قراری بھی شرط ہے ، ([5])اس حوالے سے سُوال یہ ہے کہ بے قراری کسے  کہتے ہیں اور یہ کیسے پید اہوتی ہے ؟ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب :

چل مدینہ وہی ہو سکے جس کا دِل

گھر میں رہ کر بھی اکثر مدینے میں ہے

                                                                                (وسائلِ  بخشش)

            اگر کسی کا مدینے جانے کا مُطالبہ نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی طرح بے قراری کا اِظہار کرے اس کے باوجود ہم اس کو اپنے ساتھ مدینے لے جائیں تو وہ ہمارے لیے مَسائل کھڑے کر دے گا ۔ یہ میرا تجربہ ہے ہم ایک آدھ بار کسی کو اپنے ساتھ بغیر مُطالبے کے لے گئے تو آزمائش کا سامنا کرنا پڑگیا کیونکہ جو مُطالبہ نہیں کرتا  اس کا ذہن بھی بنا ہوا نہیں ہوتا اسی وجہ سے وہ چل مدینہ کے قافلے کے اَنداز سے ہم آہنگ نہیں ہو پا تا ۔  چل مدینہ کے مَدَنی قافلے والوں کا سونے کا وقت مخصوص ہوتا ہے ۔ اس میں شامل بعض اسلامی بھائی مسلسل روزے رکھتے اور  اِس کے عِلاوہ بھی بہت سارے اَعمال بجا لاتے ہیں جو عام حاجی نہیں کرتے تو ان کے ساتھ کسی نئے اسلامی بھائی کا آنا پریشانی پیدا کر سکتا ہے  ۔ اگر وہ نیا آنے والا اسلامی بھائی مَدَنی اِنعامات کا عامِل بھی ہو اور ہم اس کو مُطالبہ کیے بغیر یہ سوچ



[1]    یہ رِسالہ  ۲۷جمادی الاولیٰ ۱۴۴۰؁ھ بمطابق 02فروری 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی)میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)  

[2]    فردوس الاخبار، باب الیاء، ۲ / ۴۷۱، حدیث : ۸۲۱۰ دار الفکر بیروت 

[3]    مستدرک حاكم، کتاب الدعاء والتکبیرالخ، باب الدعاء سلاح المؤمنالخ ، ۲ / ۱۶۲، حدیث :  ۱۸۵۵ دار المعرفة بیروت

[4]    شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا یہ کلام” وسائلِ بخشش“ صفحہ533 پر ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[5]    ملفوظاتِ امیر اہلسنَّت قسط 29 ، بنام ”آنکھ پھڑکنا“، ص۱۷



Total Pages: 8

Go To