$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

مسلمانوں کو اہلِ کتاب کی اطاعت نہ کرنے کی ہدایت

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْۤا  اِنْ  تُطِیْعُوْا  فَرِیْقًا  مِّنَ  الَّذِیْنَ  اُوْتُوا  الْكِتٰبَ  یَرُدُّوْكُمْ  بَعْدَ  اِیْمَانِكُمْ  كٰفِرِیْنَ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے کسی گروہ کی اطاعت کرو تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی حالت میں لوٹا دیں گے ۔

 (اٰل عمران : ۱۰۰)

( اِنْ  تُطِیْعُوْا  :  اگر تم اطاعت کرو ۔ )مرشاس بن قیس یہودی مسلمانوں کی مجلس کے قریب سے گزرا جس میں انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج نہایت محبت سے باتیں کر رہے تھے ، اسلام سے پہلے ان کی آپس میں بہت جنگ تھی ۔  اس یہودی کوان کے اتفاق سے بڑی تکلیف ہوئی چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی سے کہا کہ تم اِن کی گزشتہ جنگیں یاد دلا کر اِنہیں لڑا دو ۔  اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ قصیدے پڑھے جن میں ان کی گزشتہ جنگوں کا ذکر تھا ۔  ان قصائد کو سن کر انصار کو اپنی گزشتہ جنگیں یاد آگئیں اور وہ آپس میں لڑ پڑے ۔  قریب تھا کہ خون ریزی ہوجائے ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فوراً موقع پر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا جاہلیت کی حرکتیں کرتے ہوحالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔ یہ سن کر انہوں نے ہتھیار پھینک دئیے اور روتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے  ۔  اس پر یہ آیتِ کریمہ اتری ۔ (در منثور، اٰل عمران، تحت الاٰية :  ۱۰۰، ۲ / ۲۷۸-۲۷۹)

اس سے معلوم ہوا کہ یہاں آیت میں کفر سے مراد کافروں والے کام ہیں یعنی اپنی’’ انا‘‘ کیلئے آپس میں جنگ کرنا ۔  دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ فتنہ فساد برپا کرنا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانا یہودیوں کا کام اور آپس میں پیار محبت پیدا کرنا اور صلح کروانا سراپا رَحمت، مجسمِ شفقت، شفیعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے ۔

(13)

تقویٰ اور ایمان پر خاتمے کا حکم

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے ۔

(اٰل عمران : ۱۰۲)

( اِتَّقُوا  اللّٰهَ : اللہ سے ڈرو ۔ ) ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ایسا ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے  ۔  اس سے مراد یہ ہے کہ بَقدرِ  طاقت اللہ تعالیٰ سے ڈرو ۔  اس کی تفسیر وہ آیت ہے جس میں فرمایا گیا :

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (تغابن : ۱۶)                                         ترجمۂ کنزُالعِرفان : تو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھتے ہو ۔

            نیز آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ اسلام پر ہی تمہیں موت آئے ۔  اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے زندگی کے ہر لمحے میں اسلام پر ہی رہنے کی کوشش کرو تاکہ جب تمہیں موت آئے تو حالت ِ اسلام پرہی آئے ۔

(14)

کافروں کو رازدار بنانے کی ممانعت اور کفار کی خواہشات

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  لَا  یَاْلُوْنَكُمْ  خَبَالًاؕ-وَدُّوْا  مَا  عَنِتُّمْۚ-قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ-قَدْ  بَیَّنَّا  لَكُمُ  الْاٰیٰتِ  اِنْ  كُنْتُمْ  تَعْقِلُوْنَ(۱۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے ۔  وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ ۔  بیشک (ان کا) بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔  بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو ۔  (اٰل عمران : ۱۱۸)

( لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  : غیروں کو راز دار نہ بناؤ ۔ )  بعض مسلمان اپنے قرابت دار اور رشتہ دار یہودیوں وغیرہ سے قرابت یا پڑوس کی بنا پر دوستی اور میل جول رکھتے تھے ۔  ان کے متعلق یہ آیتِ کریمہ اتری ۔  (صاوی، اٰل عمران، تحت الاٰية :  ۱۱۸، ۱ / ۳۰۶)

کفار سے تعلقات کے بارے میں اسلام کی تعلیمات :

اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے دوستانہ تعلقات، دلی محبت و اخلاص حرام ہے اور انہیں اپنا راز دار بنانا بھی ناجائز ہے اور تجربات سے بھی یہی ثابت ہے کہ کفار مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کرتے ۔  نیزاس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان حکمران کافروں اور مرتدوں کو اہم ترین عہدوں پر نہ لگائے جس سے یہ لوگ غداری کرنے کا موقعہ پائیں کیونکہ یہ لوگ تمہاری برائی چاہنے میں کوئی کمی نہیں کریں گے ، ان کی تو خواہش ہی یہ ہے کہ مسلمان تکلیف و مشقت میں پڑے رہیں نیز ان کی دشمنیاں



Total Pages: 97

Go To
$footer_html