Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

(81)

مشرکوں سے دوستی کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَىٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَىٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠(۱۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو !ان لوگوں  سے دوستی نہ کرو جن پر اللّٰہ نے غضب کیا ، بیشک وہ آخرت سے ناامید ہوچکے ہیں  جیسے کافر قبر والوں  (کے دنیا میں  لوٹنے ) سے ناامید ہوچکے ہیں(یا، قبر والوں  میں  سے کفار (ثوابِ آخرت سے ) نا امید ہو چکے ہیں ) ۔  (الممتحنة : ۱۳)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ :  اے ایمان والو !ان لوگوں  سے دوستی نہ کرو جن پر اللّٰہ نے غضب کیا ۔ ) اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے ایمان والو! مشرکوں  سے دوستی نہ کرو، بیشک وہ آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے اس کے ثواب سے ایسے ناامید ہوچکے ہیں  جیسے وہ قبروالوں  کے دنیا میں  واپس آنے سے ناامید ہوچکے ہیں  ۔  دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے ایمان والو !یہودیوں  سے دوستی نہ کرو، بیشک وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو برحق نبی جاننے کے باوجود اِنکار کرنے کی وجہ سے آخرت کے ثواب سے ایسے ہی ناامید ہوچکے ہیں  جیسے کفار مرے ہوئے لوگوں  کے دنیا میں  واپس آنے سے مایوس ہوچکے ہیں   ۔ ( مدارک، الممتحنة، تحت الاٰیة :  ۱۳، ص۱۲۳۵، ملخصاً)

سورۃ الصف

(82)

قول و عمل میں تضاد کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو ! وہ بات کیوں  کہتے ہو جو کرتے نہیں  ۔ (الصف : ۲)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا :  اے ایمان والو ! )شانِ نزول  : حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ہم چند صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، ہم میں  اس بات کا تذکرہ ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک کونساعمل محبوب ترین ہے اگر ہمیں  معلوم ہو جاتا تو ہم اسی پر عمل کرتے ، اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں   :

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفاناللّٰہ کی پاکی بیان کی ہر اس چیز نے جو آسمانوں  میں  اور زمین میں  ہے اور وہی بہت عزت والا، بڑا حکمت والا ہے ۔ اے ایمان والو ! وہ بات کیوں  کہتے ہو جو کرتے نہیں  ۔

            حضرت عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمارے سامنے یہ آیتیں  تلاوت فرمائیں  ۔

( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة الصف، ۵ / ۲۰۲، الحدیث :  ۳۳۲۰)

                 یاد رہے کہ اس آیت کے شانِ نزول میں  اور بھی کئی قول ہیں  ، اُن میں  سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں  نازل ہوئی جو مسلمانوں  سے مدد کرنے کا جھوٹا وعدہ کرتے تھے ۔ ( خازن، الصف، تحت الاٰیة :  ۲، ۴ / ۲۶۲)اس اعتبار سے منافقوں  کی مذمت ہے اور انہیں  اہلِ ایمان کہہ کر مُخاطَب کرناان کے ظاہری ایمان کی وجہ سے ہے  ۔  اور اگر یہ آیت صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے بارے میں  نازل ہوئی ہے تو ا س میں  ان کی مذمت نہیں  بلکہ تربیت فرمائی گئی ہے کہ ایسے دعوے کرنا درست نہیں  کیونکہ آنے والے وقت کا معلوم نہیں  کہ کیسا آئے ، ممکن ہے کہ اس وقت کسی وجہ سے وہ یہ دعویٰ پورا نہ کر سکیں  ۔

قول اور فعل میں  تضاد نہیں  ہونا چاہئے  :

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ قول اور فعل میں  تضاد نہیں  ہونا چاہئے بلکہ اپنے قول کے مطابق عمل بھی کرنا چاہئے  ۔  یاد رہے کہ اس تضاد کی بہت سی صورتیں  ہیں  جیسے لوگوں  کو اچھی باتیں  بتانا لیکن خود ان پر عمل نہ کرنا ، یا کسی سے وعدہ کرنااور اس وقت یہ خیال کرنا کہ میں  یہ کام کروں  گا ہی نہیں، صرف زبانی وعدہ کر لیتا ہوں ، وغیرہ یعنی ایک بات کہہ دیتا ہوں  لیکن پوری نہیں  کروں  گا ۔  اَحادیث میں  ان چیزوں  کی خاص طور پر شدید مذمت اور وعید بیان کی گئی ہے ، چنانچہ جو لوگوں  کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں  اور خود برائیوں  میں  مبتلا رہتے ہیں  ان کے بارے میں  حضرت اسامہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن ایک شخص کولایاجائے گا، پھراسے دوزخ میں  ڈال دیاجائے گا، اس کی انتڑیاں  دوزخ میں  بکھرجائیں  گی اوروہ اس طرح گرد ش کررہاہوگاجس طرح چکی کے گرد گدھاگردش کرتاہے ، جہنمی اس کے گرد جمع ہوکراس سے کہیں  گے :  اے فلاں !کیابات ہے تم توہم کونیکی کی دعوت دیتے تھے اوربرائی سے منع کرتے تھے  ۔ وہ کہے گامیں  تم کونیکی کی دعوت دیتاتھالیکن خود نیک کام نہیں  کرتاتھااورمیں  تم کوتوبرائی سے روکتاتھامگرخودبرے کام کرتاتھا ۔ ( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفة النار وانّها مخلوقة، ۲ / ۳۹۶، الحدیث :  ۳۲۶۷)

 



Total Pages: 97

Go To