Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

مسلمانوں  کی تعظیم کرنے کی ترغیب :

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں   ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں  غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا، اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے  ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلهم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث :  ۴۸۴۳)

فضیلت اور مرتبے والوں  کو اگلی صفوں  میں  بٹھایا جا سکتا ہے :

            یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں  یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں  کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں  جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں  قسم کی مجلسوں  میں  سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں  ۔  حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’تم میں  سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں  انہیں  میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ، پھر جو ان کے قریب ہوں، پھر جو ان کے قریب ہوں  ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الصلاة، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہية التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث :  ۶۷۴)

            اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے ، حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’لوگوں  سے ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلهم، ۴ / ۳۴۳، الحدیث :  ۴۸۴۲)

فضیلت اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں  :

            فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں  کیونکہ کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے ، جیسا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے ، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’کوئی شخص مجلس میں  سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے ۔ (مسلم، کتاب السلام، باب تحریم اقامة الانسان من موضعه المباح الذی سبق الیه، ص۱۱۹۸، الحدیث : ۲۷(۲۱۷۷))

            حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی دوسری روایت میں  ہے ، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں  چاہئے کہ )دوسروں  کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو ۔

( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجلس الخ، ۴ / ۱۷۹، الحدیث :  ۶۲۷۰)

علم حاصل کرنے کی ترغیب اور علم و علماء کے فضائل :

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماءِدین بڑے درجے والے ہیں  اوردنیا و آخرت میں  ان کی عزت ہے ، جب اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے تو انہیں  اس کے فضل و کرم سے دنیاوآخرت میں  عزت ضرور ملے گی ۔ حضرت حسن بصری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں   : حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا : اے لوگو!اس آیت کو سمجھو اور علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاؤ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مومن عالِم کو اس مومن سے بلند درجات عطا فرمائے گا جو عالِم نہیں  ہے  ۔ ( خازن، المجادلة، تحت الاٰية :  ۱۰، ۴ / ۲۴۱)

            یہاں  موضوع کی مناسبت سے علم اور علماء کے 15فضائل ملاحظہ ہوں :

(1)…ایک ساعت علم حاصل کرنا ساری رات قیام کرنے سے بہتر ہے ۔ ( مسند الفردوس، باب الطاء، ۲ / ۴۴۱، الحدیث :  ۳۹۱۷)

(2)…علم عبادت سے افضل ہے ۔  (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۸ ، الحدیث :  ۲۸۶۵۳، الجزء العاشر)

(3)…علم اسلام کی حیات اور دین کا ستون ہے ۔  (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۸ ، الحدیث :  ۲۸۶۵۷، الجزء العاشر)

(4)…علماء زمین کے چراغ اور انبیاء ِکرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔

(کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ /  ، الحدیث :  ۲۸۶۷۳۵۹، الجزء العاشر)

(5)…مرنے کے بعد بھی بندے کو علم سے نفع پہنچتا رہتا ہے ۔ ( مسلم، ص۸۸۶، الحدیث :  ۱۴(۱۶۳۱))

(6)…ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں  سے زیادہ بھاری ہے ۔ ( ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴ / ۳۱۱، الحدیث :  ۲۶۹۰)

(7)…علم کی مجالس جنت کے باغات ہیں   ۔ ( معجم الکبیر، مجاہد عن ابن عباس، ۱۱ / ۷۸، الحدیث :

Total Pages: 97

Go To