$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

طرح گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرنا بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرنا اوراس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا جس کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے اور وہ تمہیں  تمہارے اعمال کی جزا دے گا ۔

            بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  منافقوں  سے خطاب ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ اے اپنی زبان سے ایمان لانے والو! تم جب آپس میں  مشورہ کرو تو گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اوراس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو جس کی طرف تم حساب کے لئے اٹھائے جاؤ گے تو وہ تمہیں  تمہارے مشوروں  کی جزا دے گا ۔

( تفسیرکبیر، المجادلة، تحت الاٰية :  ۹، ۱۰ / ۴۹۲، خازن، المجادلة، تحت الاٰية :  ۹، ۴ / ۲۴۰، مدارک، المجادلة، تحت الاٰية :  ۹، ص۱۲۱۸، ملتقطاً)

آیت’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات :

            اس آیت سے چار باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…مسلمان صلاح مشورے مسلمانوں  ہی سے کریں ، کفار سے نہ کریں  اور انہیں  اپنا مشیر وغیرہ نہ بنائیں ۔

(2)…آپس میں  مشورے بھی اچھے ہی کریں  ، برے نہ کریں  ۔

(3)…مسلمانوں  کی خَلْوَت بھی جَلْوَت کی طرح پاکیزہ ہونی چاہیے ۔

(4)…تنہائی میں  بھی حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام ملحوظ رکھے ۔  مبارک ہے وہ عالِم جو اپنی تنہائی میں  حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فضائل سوچے اور بد نصیب ہے وہ شخص جس کا وقت حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین کے بارے سوچنے میں  گزرے ۔

(76)

بارگاہِ رسالت کے حاضرین کو دو آداب کی تعلیم

 اہلِ ایمان اور علماء کی فضیلت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں  میں  جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو ، اللّٰہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے :  کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللّٰہ تم میں  سے ایمان والوں  کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں  علم دیا گیا اور اللّٰہ تمہارے کاموں  سے خوب خبردار ہے ۔ (المجادلة : ۱۱)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا :  اے ایمان والو! ۔ )شانِ نزول :  نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غزوہِ بدر میں  حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عزت کرتے تھے ، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ، اُنہوں  نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا ۔  حضورپُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا، پھر اُنہوں  نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں  کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں  جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ چیزگراں  گزری توآپ نے اپنے قریب والوں  کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں  کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں  میں  جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں  جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں  اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللّٰہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے باعث تم میں  سے ایمان والوں  کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں  سے خبردار ہے ۔ ( خازن، المجادلة، تحت الاٰية :  ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)

بزرگانِ دین کی تعظیم کرنا سنت ہے :

            اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہواکہ بزرگانِ دین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنت ہے حتّٰی کہ مسجد میں  بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں  کیونکہ یہ واقعہ مسجد ِنبوی شریف میں  ہی ہوا تھا ۔ یاد رہے کہ حدیث ِپاک میں  بزرگانِ دین اور دینی پیشواؤں  کی تعظیم و توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو ۔  ( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبة العلمالخ، تواضعه لهم، ص۲۳۰، الحدیث :  ۸۰۲)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بزرگانِ دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی کرنے سے بچے ۔  اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  ادب و تعظیم کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین ۔

 



Total Pages: 97

Go To
$footer_html