$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

(5)…امام غزالی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ یہ فرماتے ہیں کہ جس کی غیبت کی وہ مرگیا یا کہیں  غائب ہوگیا اس سے کیونکر معافی مانگے یہ معاملہ بہت دشوار ہوگیا، اس کو چاہیے کہ نیک کام کی کثرت کرے تاکہ اگر اس کی نیکیاں  غیبت کے بدلے میں  اسے دے دی جائیں ، جب بھی اس کے پاس نیکیاں  باقی رہ جائیں  ۔  (بہار شریعت، حصہ شانزدہم، ۳ / ۵۳۸-۵۳۹)

نوٹ : غیبت سے متعلق مزید شرعی مسائل جاننے کیلئے ، بہار شریعت جلد3ص532تا539کا مطالعہ فرمائیں ۔

سورۃ الحدید

(74)

اہلِ کتاب کو تقویٰ و ایمان کا حکم  اور مغفرت کی بشارت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ(۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان لانے والو!اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تووہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں  عطا فرمائے گا اور وہ تمہارے لیے ایک ایسا نور کردے گا جس کے ذریعے تم چلو گے اور وہ تمہیں  بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ (الحدید : ۲۸)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ :  اے ایمان لانے والو!اللہ سے ڈرو ۔ ) اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والو! رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معاملے میں  اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہیں  دگنا اجر دے گا کیونکہ تم پہلی کتاب اور پہلے نبی پر بھی ایمان لائے او رنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآنِ پاک پر بھی ایمان لائے اور وہ قیامت کے دن تمہارے لیے پل صراط پر ایک ایسا نور کردے گا جس (کی روشنی) کے ذریعے تم چلو گے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے پہلے کے تمہارے سب گناہ بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ( خازن، الحدید، تحت الاٰية :  ۲۸، ۴ / ۲۳۴)

اہلِ کتاب میں  سے ایمان لانے والوں  کے لئے دُگنا اجر :

             اس آیت کی نظیر یہ آیت ِمبارکہ ہے :

’’ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ(۵۲) وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ(۵۳) اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا (قصص : ۵۲-۵۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  جن لوگوں  کو ہم نے اس(قرآن) سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں  ۔ اور جب ان پر یہ آیات پڑھی جاتی ہیں  توکہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے ، بیشک یہی ہمارے رب کے پا س سے حق ہے ۔  ہم اس  (قرآن )سے پہلے ہی فرمانبردار ہو چکے تھے ۔ ان کو ان کا اجر دُگنا دیا جائے گا کیونکہ انہوں  نے صبر کیا ۔

            اورحضرت ابو بردہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں  ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین آدمیوں  کے لئے دگنا اجر ہے : (1)اہلِ کتاب میں  سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر (بھی) ایمان لایا ۔ (2)وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق بجا لائے اور اپنے مالکوں  کے حقوق (بھی) پورے کرے ۔ (3)وہ آدمی جس کے پاس لونڈی ہو تو وہ اس سے وطی کرے اوراسے تہذیب و تعلیم کے زیور سے خوب آراستہ کرے ، پھر اسے آزاد کرنے کے بعد ا س کے ساتھ نکاح کر لے تو اس کے لئے دُگنا ثواب ہے ۔  ( مشکاة المصابیح، کتاب الایمان، الفصل الاول، ۱ / ۲۳، الجزء الاول، الحدیث :  ۱۱)

سورۃ المجادلۃ

(75)

مشورے سے متعلق مسلمانوں کی تربیت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! جب تم آپس میں  مشورہ کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اور اس اللّٰہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں  اکٹھاکیا جائے گا ۔ (المجادلة : ۹)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ :  اے ایمان والو! جب تم آپس میں  مشورہ کرو ۔ ) اس سے پہلی آیت میں  گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کے بارے میں  مشورے کرنے پر یہودیوں  اور منافقوں  کی مذمت بیان کی گئی اور اس آیت میں  حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو ان جیسے طریقے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم جب آپس میں  مشورہ کرو تو یہودیوں  اور منافقوں  کی



Total Pages: 97

Go To
$footer_html