Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

بارے میں  گمان کیا) تو اب حرام نہیں  ، مثلاً کسی کو (شراب بنانے کی) بھٹی میں  آتے جاتے دیکھ کر اسے شراب خور گمان کیا تواِس کا قصور نہیں  (بلکہ بھٹی میں  آنے جانے والے کا قصور ہے کیونکہ) اُس نے موضعِ تہمت (یعنی تہمت لگنے کی جگہ) سے کیوں  اِجتناب نہ کیا ۔ ( فتاویٰ امجدیہ، ۱ / ۱۲۳)

            صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں   : مومنِ صالح کے ساتھ برا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنی مراد لینا باوجود یکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں  اور مسلمان کا حال ان کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں  داخل ہے  ۔  ( خزائن العرفان، الحجرات، تحت الآیۃ :  ۱۲، ص۹۵۰)

بد گمانی کی مذمت اور اچھا گمان رکھنے کی ترغیب

            دین ِاسلا م وہ عظیم دین ہے جس میں  انسانوں  کے باہمی حقوق اور معاشرتی آداب کو خاص اہمیت دی گئی اور ان چیزوں  کا خصوصی لحاظ رکھا گیاہے اسی لئے جو چیز انسانی حقوق کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہے اور جو چیز معاشرتی آداب کے بر خلاف ہے اس سے دینِ اسلام نے منع فرمایا اور اس سے بچنے کا تاکید کے ساتھ حکم دیاہے ، جیسے ان اَشیاء میں  سے ایک چیز ’’بد گمانی‘‘ ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی کا بہت بڑا سبب اور معاشرتی آداب کے انتہائی بر خلاف ہے ، اس سے دین ِاسلام میں  خاص طور پر منع کیا گیا ہے ، چنانچہ قرآنِ مجید میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا  (بنی اسرائیل : ۳۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں  بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں  سوال کیا جائے گا ۔

            اور حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے ، ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب مت تلاش کرو، حرص نہ کرو، حسد نہ کرو، بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے رُوگَردانی نہ کرو اور اے اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ۔ ( مسلم، کتاب البرّ والصّلة والاٰداب، باب تحریم الظّنّ والتّجسّسالخ، ص۱۳۸۶، الحدیث :  ۲۸(۲۵۶۳))

            اللہ تعالیٰ ہمیں  ایک دوسرے کے بارے میں  بد گمانی کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین ۔

بد گمانی کے دینی اور دُنْیَوی نقصانات :

            یہاں  بدگمانی کے دینی اور دُنْیَوی نقصانات بھی ملاحظہ ہوں  تاکہ بد گمانی سے بچنے کی ترغیب ملے ، چنانچہ اس کے 4دینی نقصانات یہ ہیں :

 (1)…جس کے بارے میں  بد گمانی کی ، اگر اُس کے سامنے اِس کا اظہار کر دیا تو اُس کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور شرعی اجازت کے بغیر مسلمان کی دل آزاری حرام ہے ۔

(2)…اگر ا س کی غیر موجودگی میں  دوسرے کے سامنے اپنے برے گمان کا اظہار کیاتو یہ غیبت ہو جائے گی اور مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے  ۔

(3)…بد گمانی کرنے والا محض اپنے گمان پر صبر نہیں  کرتا بلکہ وہ اس کے عیب تلاش کرنے میں  لگ جاتا ہے اور کسی مسلمان کے عیبوں  کوتلاش کرناناجائز و گناہ ہے  ۔

(4)…بد گمانی کرنے سے بغض اور حسد جیسے خطرناک اَمراض پیدا ہوتے ہیں   ۔

            اور اس کے دو بڑے دُنْیَوی نقصانات یہ ہیں :

(1)…بد گمانی کرنے سے دو بھائیوں  میں  دشمنی پیدا ہو جاتی ہے ، ساس اور بہو ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں ، شوہر اور بیوی میں  ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہوجاتا اور بات بات پر آپس میں  لڑائی رہنے لگتی ہے اور آخر کاران میں  طلاق اور جدائی کی نوبت آجاتی ہے ، بھائی اور بہن کے درمیان تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں  اور یوں  ایک ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ جاتا ہے ۔

(2)…دوسروں  کے لئے برے خیالات رکھنے والے افراد پر فالج اور دل کی بیماریوں  کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حال ہی میں  امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپوٹ میں  یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افراد جو دوسروں  کے لئے مخالفانہ سوچ رکھتے ہیں  اور اس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار اور غصے میں  رہتے ہیں  ان میں  دل کی بیماریوں  اور فالج کا خطرہ86 فیصدبڑھ جاتا ہے ۔  

بد گمانی کا علاج :

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : شیطان آدمی کے دل میں  بدگمانی ڈالتاہے تومسلمان کوچاہیے کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اوراس کوخوش نہ کرے حتّٰی کہ اگرکسی کے منہ سے شراب کی بوآرہی ہوتوپھربھی اس پر حد لگانا جائز نہیں  کیونکہ ہوسکتاہے اس نے شراب کاایک گھونٹ پی کرکلی کردی ہویاکسی نے اس کو جَبراً شراب پلادی ہو اوراس کااِحتمال ہے تووہ دل سے بدگمانی کی تصدیق کرکے شیطان کوخوش نہ کرے (اگرچہ مذکورہ صورت میں  بدگمانی کا گناہ نہیں  ہوگا لیکن بچنے میں  پھر بھی بھلائی ہی ہے )  ۔  (احیاء علوم الدین، کتاب اٰفات اللسان، بیان تحریم الغیبة بالقلب، ۳ / ۱۸۶، ملخصاً)

 



Total Pages: 97

Go To