$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین ِاسلام ان کاموں  سے روکتا ہے جو معاشرتی امن کی راہ میں  رکاوٹ بنتے ہیں  اور وہ کام کرنے کا حکم دیتا ہے جن سے معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنتا ہے ، جیسے مذکورہ بالا آیت میں  بیان کئے گئے اصول کواگرہم آج کل کے دَورمیں  پیش ِنظر رکھیں  توہمارامعاشرہ امن کاگہوارہ بن سکتاہے کیونکہ ہمارے ہاں  لڑائی جھگڑے اورفسادات ہوتے ہی اسی وجہ سے ہیں  کہ جب کسی کوکوئی اطلاع دی جاتی ہے تووہ اس کی تصدیق نہیں  کرتابلکہ فوراًغصہ میں  آجاتاہے اوروہ کام کربیٹھتاہے جس کے بعد ساری زندگی پریشان رہتاہے  ۔ اسی طرح ہمارے ہاں  خاندانی طورپرجوجھگڑے ہوتے ہیں  وہ اسی نَوعیَّت کے ہوتے ہیں   ۔ چاہے وہ ساس بہوکامعاملہ ہویاشوہروبیوی کاکہ تصدیق نہیں  کی جاتی اورلڑائیاں  شروع کردی جاتی ہیں   ۔

آیت’’ اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات :

            اس آیت سے چار باتیں  معلوم ہوئیں  :

(1)…ایک شخص اگر عادل ہو تو اس کی خبر معتبر ہے ۔

(2)…حاکم یک طرفہ بیان پر فیصلہ نہ کرے بلکہ فریقَین کا بیان سن کر ہی کوئی فیصلہ کرے ۔

(3)…غیبت کرنے والے اور چغل خور کی بات ہر گز قبول نہ کی جائے ۔

(4)…کسی کام میں  جلدی نہ کی جائے ورنہ بعد میں  پچھتانا پڑسکتا ہے ۔

(72)

چند معاشرتی احکام : مذاق اڑانے ، طعنہ زنی کرنے اور برے نام رکھنے کی ممانعت اور تنبیہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں  پر نہ ہنسیں  ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں  سے بہتر ہوں  اور نہ عورتیں  دوسری عورتوں  پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں  سے بہتر ہوں  اور آپس میں  کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں  تو وہی ظالم ہیں  ۔ (الحجرات : ۱۱)

) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ :  اے ایمان والو !مرد دوسرے مَردوں  پر نہ ہنسیں  ۔ ( شانِ نزول :  اس آیت ِمبارکہ کے مختلف حصوں  کا نزول مختلف واقعات میں  ہوا ہے اورآیت کے زیرِ تفسیر حصے کے نزول سے متعلق دو واقعات درج ذیل ہیں :

(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : حضرت ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ اونچا سنتے تھے ، جب وہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مجلس شریف میں  حاضر ہوتے تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُمْ انہیں  آگے بٹھاتے اور اُن کے لئے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب حاضر رہ کر کلام مبارک سن سکیں   ۔ ایک روز انہیں  حاضری میں  دیر ہوگئی اور جب مجلس شریف خوب بھر گئی اس وقت آپ تشریف لائے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت آتا اور مجلس میں  جگہ نہ پاتا تو جہاں  ہوتا وہیں کھڑا رہتا ۔ لیکن حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ آئے تو وہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب بیٹھنے کے لئے لوگوں  کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ’’ جگہ دو جگہ‘‘ یہاں  تک کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ اُن کے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیان میں  صرف ایک شخص رہ گیا، انہوں نے اس سے بھی کہا کہ جگہ دو، اس نے کہا :  تمہیں  جگہ مل گئی ہے ا س لئے بیٹھ جاؤ  ۔ حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غصّہ میں  آکر اس کے پیچھے بیٹھ گئے  ۔  جب دن خوب روشن ہوا توحضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کا جسم دبا کر کہا :  کون؟ اس نے کہا :  میں  فلاں  شخص ہوں  ۔  حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کی ماں  کا نام لے کر کہا :  فلانی کا لڑکا ۔  اس پر اس شخص نے شرم سے سرجھکالیا کیونکہ اس زمانے میں  ایسا کلمہ عار دلانے کے لئے کہا جاتا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

(2)…حضر ت ضحاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں  نازل ہوئی جو حضرت عمار، حضرت خباب ، حضرت بلال ، حضرت صہیب، حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی غُربَت دیکھ کر ان کا مذاق اُڑایاکرتے تھے  ۔  ان کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد     مَردوں  سے نہ ہنسیں  ، یعنی مال دار غریبوں  کا ، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا، تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا مذاق نہ اُڑائیں  جس کی آنکھ میں  عیب ہو، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں  سے صدق اور اخلاص میں  بہتر ہوں  ۔ ( خازن، الحجرات، تحت الاٰية :  ۱۱، ۴ / ۱۶۹)

 



Total Pages: 97

Go To
$footer_html