$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

(7)…علماء اور مبلغین کی مالی خیر خواہی کر کے انہیں  دین کی خدمت کے لئے فارغ البال بنانا ۔

            نوٹ : ان سات صورتوں  کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں  ہیں  جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے میں  داخل ہیں  ۔

بندوں  سے مددمانگناشرک نہیں  :

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے ، اسے نہ بندوں  کی مدد کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ اپنے دین کی ترویج و اشاعت اور اسے غالب کرنے میں  بندوں  کی مدد کا       محتاج ہے ، یہاں  جوبندوں  کو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کا فرمایا گیا یہ در اصل ان کے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے کہ اس صورت میں  انہیں  اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں  ثابت قدمی نصیب ہو گی ۔ یہاں  اسی حوالے سے مزید دو باتیں  ملاحظہ ہوں  :

(1)…اللہ تعالیٰ کے دین کی مددخالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کی جائے اس میں  کوئی دنیاوی مقصد پیش نظرنہ ہو ۔

(2)…اس آیت سے معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں  کی مد د لینا شرک نہیں  ، کیونکہ جب بندوں  کی مدد سے غنی اور بے نیاز رب تعالیٰ نے بندوں  کو اپنے دین کی مدد کرنے کا فرما یا ہے تو عام بندے کا کسی سے مدد طلب کرنا کیوں  شرک ہوگا؟

(68)

اطاعتِ رسول کا حکم اور اعمال باطل کرنے کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو ۔ (سورہ محمد : ۳۳)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ :  اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو ۔ ) اس آیت میں  ایمان والوں  کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرتے رہیں ، چنانچہ اس آیت میں  پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو!تم جواللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ہو اور ان کی اطاعت کرتے ہو اس ایمان اورا طاعت پر قائم رہو ، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ریاکاری یا منافقت کرکے اپنے اعمال باطل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو ریا کاری اور نفاق سے خالی ہو اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہو ۔

 عمل کو باطل کرنا منع ہے :

            اس آیت میں  عمل کو باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے ، لہٰذا آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفلی نماز یا  روزہ یا کوئی اور ہی عمل ہو ، اس پر لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے بلکہ اسے پورا کرے ۔

نیک اعمال کو برباد کر دینے والے اعمال :

            یہاں  آیت کی مناسبت سے ہم 6ایسے اعمال ذکر کرتے ہیں  جو نیک اعمال کو باطل اور برباد کر دیتے ہیں  تاکہ لوگ ان سے بچیں  اور اپنے اعمال کو برباد ہونے سے بچائیں  :

(1)…کفر و شرک : چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْؕ-هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠(۱۴۷) (اعراف : ۱۴۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اور جنہوں  نے ہماری آیتوں  اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال برباد ہوئے ، انہیں  ان کے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا ۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵) ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا(۱۰۶) (کهف : ۱۰۳-۱۰۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  تم فرماؤ :  کیا ہم تمہیں  بتادیں  کہ سب  سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟ وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں  برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے  ہیں  کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں  ۔ یہی وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں  گے ۔ یہ ان کا بدلہ ہے جہنم ، کیونکہ انہوں  نے کفر کیا اور میری آیتوں  اور میرے رسولوں  کو ہنسی مذاق بنالیا ۔

(2)…مرتد ہو نا : چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

 



Total Pages: 97

Go To
$footer_html