Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

البدیع، المقصود بالصلاة علی النبی صلی اللّٰه علیه وسلم، ص۸۳، ملخصاً)

درود پاک نہ پڑھنے کی 2وعیدیں  :

اَحادیث میں  جہاں  درود پڑھنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں  وہیں  درود پاک نہ پڑھنے کی وعیدیں  بھی بیان ہوئی ہیں ، یہاں  ان میں  سے دو اَحادیث درجِ ذیل ہیں ،

(1)حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’جو لوگ کسی مجلس میں  بیٹھیں  اوراس میں  اللہ تعالیٰ کاذکرنہ کریں  اورنہ اس کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرود پڑھیں  تو (قیامت کے دن) ان کی وہ مجلس ان کے لیے باعث ِندامت ہوگی، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو انہیں  عذاب دے گااور چاہے گاتوان کومعاف فرمادے گا ۔ (سنن ترمذی، کتاب الدعوات عن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللّٰه، ۵ / ۲۴۷، الحدیث :  ۳۳۹۱)

(2)حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود پاک نہ پڑھا وہ بدبخت ہے ۔ (معجم الاوسط، باب العین، من اسمه : علی، ۳ / ۶۲، الحدیث :  ۳۸۷۱)

درود پاک سے متعلق6 شرعی اَحکام :

آیت کی مناسبت سے درود پاک سے متعلق6 اَہم باتیں  ملاحظہ ہوں  :

(1)کسی مجلس میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکرکیا جائے تو ذکر کرنے اور سننے والے کاایک مرتبہ درود و سلام پڑھنا واجب ہے اور اس سے زیادہ مستحب ہے اور نماز کے قعدہ ِاخیرہ میں  تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا سنت ہے ۔

(2)حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تابع کر کے آپ کی آل و اَصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور دوسرے مومنین پر بھی درود بھیجا جا سکتا ہے یعنی درود شریف میں  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نامِ اقدس کے بعد ان کو شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ مستقل طور پر حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا ان میں  سے کسی پر درود بھیجنا مکرو ہ ہے ۔

(3)درود شریف میں  آل و اَصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا ذکر شروع سے چلتا آ رہا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل کے ذکر کے بغیر درود مقبول نہیں  یعنی درود شریف میں  حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہل ِبیت کو بھی شامل کیا جائے ۔

(4)درود شریف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت وتکریم ہے ۔  علماء نے اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کے معنی یہ بیان کئے ہیں  کہ یا ربّ!محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عظمت عطا فرما، دنیا میں  ان کا دین بلند کر کے ، ان کی دعوت غالب فرما کر اور ان کی شریعت کو بقا عنایت کر کے اور آخرت میں  ان کی شفاعت قبول فرما کر اور ان کا ثواب زیادہ کر کے اور اَوّلین و آخرین پر ان کی فضیلت کا اظہار فرما کر اور اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ملائکہ اور تمام مخلوق پر ان کی شان بلند کر کے ۔ (مدارک، الاحزاب، تحت الاٰیة :  ۵۶، ص۹۵۰، تفسیرات احمدیه، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۵۶، ص۶۳۵، ملتقطاً)

(5)خطبے میں  حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام پاک سن کر دل میں  درود پڑھیں ، زبان سے سکوت فرض ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، باب الجمعۃ، ۸ / ۳۶۵)

 (6)اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے درود و سلام پڑھنے کے لئے کسی وقت اور خاص حالت مثلاً کھڑے ہوکر یابیٹھ کر پڑھنے کی قیدنہیں لگائی چنانچہ کھڑے ہوکریابیٹھ کر، جہاں  چاہے ، جس طرح چاہے ، نمازسے قبل یابعد، یونہی اذان سے پہلے یا بعدجب چاہے درودِ پاک پڑھناجائزہے ۔

سب سے افضل درود اور درود پاک پڑھنے کے آداب :

یہاں  سب سے افضل درود اور درود پاک پڑھنے کے چند آداب ملاحظہ ہوں ،

(1)سب دُرودوں  سے افضل درود وہ ہے جو سب اعمال سے افضل یعنی نماز میں  مقرر کیا گیا ہے یعنی درودِ ابراہیمی ۔

(2)درود شریف راہ چلتے بھی پڑھنے کی اجازت ہے البتہ جہاں  نجاست پڑی ہو وہاں  پڑھنے سے رک جائے ۔

(3)بہتر یہ ہے ایک وقت مُعَیّن کرکے ایک تعداد مقرر کر لے اورروزانہ وضو کر کے ، دوزانو بیٹھ کر، ادب کے ساتھ مدینہ طیبہ کی طرف منہ کر کے مقرر کردہ تعداد کے مطابق درود عرض کیا کرے اور اس کی مقدار سو بار سے کم نہ ہو، ہاں  اس سے زیادہ جس قدر نبھا سکے بہتر ہے ۔

(4)اس کے علاوہ اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے باوضو بے وضو ہر حال میں  دُرود جاری رکھے ۔

(5)بہتر یہ ہے کہ ایک خاص صیغہ کا پابند نہ ہوبلکہ وقتاً فَوَقتاً مختلف صیغوں  سے درود عرض کرتا رہے تاکہ حضورِ قلب میں  فرق نہ ہو ۔

( فتاویٰ رضویہ، باب صفۃ الصلاۃ، ۶ / ۱۸۳، ملخصاً)

حاجتیں  پوری ہونے کا ایک مفید وظیفہ :

 



Total Pages: 97

Go To