Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

پتھر بالکل صاف ہوجاتا ہے اور اس پر مٹی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا ۔  یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روزِ قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ وہ رضائے الٰہی کے لیے نہ تھے یا یوں کہہ لیں کہ منافق کا دل گویا پتھر کی چٹان ہے ، اس کی عبادات خصوصاً صدقات اور ریا کی خیراتیں گویا وہ گردو غبار ہیں جو چٹان پر پڑگئیں ، جن میں بیج کی کاشت نہیں ہو سکتی، رب تعالیٰ کا ان سب کو رد فرما دینا گویا وہ پانی ہے جو سب مٹی بہا کر لے گیا اور پتھر کو ویسا ہی کر گیا ۔   اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر صدقہ ظاہر کرنے سے فقیر کی بدنامی ہوتی ہو تو صدقہ چھپا کردینا چاہیے کہ کسی کو خبر نہ ہو ۔ لہٰذا اگر کسی سفید پوش یا معزز آدمی یا عالم یا شیخ کو کچھ دیا جائے تو چھپا کر دینا چاہیے ۔  بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو علمِ دین سکھایا ہوتو اس کی جزا کی بھی بندے سے امید نہ رکھے اور نہ اسے طعنے دے کیونکہ یہ بھی علمی صدقہ ہے ۔

آیت’’ لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ                ‘‘سے معلوم ہونے والے احکام :

            اس آیت سے ہمیں یہ باتیں معلوم ہوئیں :

(1)…ریاکاری سے اعمال کا ثواب باطل ہوجاتاہے ۔  اس کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے احیاء ُالعلوم جلد3 میں سے ’’ریا کاری کا بیان‘‘مطالعہ کریں ۔

(2)…فقیر پر احسان جتلانا اور اسے ایذاء دینا ممنوع ہے اور یہ بھی ثواب کو باطل کردیتا ہے ۔  

(3)…کافر کا کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ۔

(4)…جہاں ریاکاری یااس طرح کی کسی دوسری آفت کا اندیشہ ہو وہاں چھپا کر مال خرچ کیا جائے ۔

(5)…اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں طرح صدقہ دینے کی اجازت ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت 271اور 274میں صراحت کے ساتھ اس کا بیان ہے ، لیکن اپنی قلبی حالت پر نظر رکھ کر عمل کیا جائے ۔  افسوس کہ ہمارے ہاں ریاکاری، احسان جتلانا اور ایذاء دینا تینوں بد اعمال کی بھرمار ہے ۔  مالدار پیسہ خرچ کرتا ہے تو جب تک اپنے نام کے بینر نہ لگوالے یا اخبار میں تصویر اور خبر نہ چھپوالے اسے چین نہیں آتا، خاندان میں کوئی کسی کی مدد کرتا ہے تو زندگی بھر اُسے دباتا رہتا ہے ، جب دل کرتا ہے سب لوگوں کے سامنے اسے رسوا کردیتا ہے ، جہاں رشتے دار جمع ہوں گے وہیں اپنے مدد کرنے کا اعلان کرنا شروع کردے گا ۔  اللّٰہ تعالیٰ ایسوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔

(09)

راہِ خدا میں پاکیزہ اور حلال مال خرچ کرنے کا حکم راہِ خدا میں ناقص اور گھٹیا مال دینے کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۪-وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(۲۶۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اللہ کی راہ میں) کچھ خرچ کرو اور خرچ کرتے ہوئے خاص ناقص مال (دینے ) کا ارادہ نہ کرو حالانکہ (اگر وہی تمہیں دیا جائے تو) تم اسے چشم پوشی کئے بغیر قبول نہیں کروگے اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ، حمد کے لائق ہے ۔ (البقرۃ : ۲۶۷)

( اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ : اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ خرچ کرو ۔)بعض لوگ صدقہ میں خراب مال دیا کرتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اللہ  تعالیٰ کی راہ میں اپنا کمایا ہوا پاکیزہ اور صاف ستھرا مال دیا کرو نیز زمین کی پیداوار سے بھی راہِ خدا میں خرچ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ناقص، گھٹیا اور ردی مال نہ دیا کرو، جب تم اللہ تعالیٰ سے اچھی جزا چاہتے ہو تو اس کی راہ میں مال بھی اعلیٰ درجے کادیا کرو ۔  غور کرو کہ جس طرح کا گھٹیا مال تم راہِ خدا میں دیتے ہو اگر وہی مال تمہیں دیا جائے تو کیا تم قبول کرو گے ! پہلے تو قبول ہی نہ کرو گے اور اگر قبول کربھی لو تو کبھی خوشدِلی سے نہ لو گے بلکہ دل میں برا مناتے ہوئے لو گے تو جب اپنے لئے اچھا لینے کا سوچتے ہو تو راہِ خدا میں خرچ کئے جانے والے کے بارے میں بھی اچھا ہی سوچو ۔  بہت سے لوگ خود تو اچھا استعمال کرتے ہیں لیکن جب راہِ خدا میں دینا ہوتا ہے تو ناقابلِ استعمال اور گھٹیا قسم کا دیتے ہیں ۔  ان کیلئے اِس آیت میں عبرت ہے ۔  اگر کوئی چیز فی نَفْسِہٖ تو اچھی ہے لیکن آدمی کو خود پسند نہیں تو اس کے دینے میں کوئی حرج نہیں البتہ حرج وہاں ہے جہاں چیز اچھی نہ ہونے کی وجہ سے ناپسند ہو ۔  

آیت’’ اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل :

اِس آیت سے کئی مسائل معلوم ہوئے :

(1)… اس سے کمانے کی اجازت ثابت ہوتی ہے ۔

(2)… آیت میں نفلی اور فرض صدقات دونوں داخل ہوسکتے ہیں ۔

 



Total Pages: 97

Go To