Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ کوئی شخص کتنا ہی نیک، پارسا اور پرہیز گار کیوں  نہ ہو، وہ اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں  اپنے نفس پر اعتماد نہ کرے ، یہی اس کے حال کے زیادہ مناسب ہے اوراسی میں  اس کے نفس اور عصمت کی زیادہ حفاظت ہے ۔  حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’کوئی مرد کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں  ہو تو ان دونوں  کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ۔  (ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعة، ۴ / ۶۷، الحدیث :  ۲۱۷۲)اس کا مطلب ہے کہ شیطان دونوں  کے جذبات ابھارتا رہتا ہے تاکہ وہ برائی میں  مبتلا ہوجائیں  ۔

( وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ :  اور تمہارے لئے ہرگز جائز نہیں  کہ رسولُ اللہ  کو ایذا دو ۔ ) ایمان والوں  کو بارگاہِ رسالت کے آداب کی تعلیم دینے کے بعد تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے لئے ہرگز جائز نہیں  کہ تم رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دو اور کوئی کام ایسا کرو جو آپ کے مُقَدَّس قلب پر گراں  ہواور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے وصالِ ظاہری کے بعد کبھی ان کی اَزواجِ مُطَہَّرات سے نکاح کرو کیونکہ جس عورت سے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عَقد فرمایا وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا ہر شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی اسی  طرح وہ کنیزیں  جو باریابِ خدمت ہوئیں  اور قربت سے سرفراز فرمائی گئیں  وہ بھی اسی طرح سب کے لئے حرام ہیں ۔ (تفسیرکبیر، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۵۳، ۹ / ۱۸۰، ابو سعود، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۵۳، ۴ / ۳۳۰، جمل، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۵۳، ۶ / ۱۹۵، ملتقطاً)

( اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا :  بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے ۔ ) یعنی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دینا اور ان کے وصالِ ظاہری کے بعد ان کی اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے نکاح کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا سخت گناہ ہے ۔ اس میں  یہ بتا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت بڑی عظمت عطا فرمائی اور آپ کی حرمت ہر حال میں  واجب کی ہے ۔

( جمل، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۵۳، ۶ / ۱۹۵، خازن، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۵۳، ۳ / ۵۰۹، ملتقطاً)

(64)

اللہتعالٰی اور فرشتوں کاحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود اور مسلمانوں کو درود و سلام کا حکم

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)

ترجمۂکنزُالعِرفان :  بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں  ۔  اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔ (الاحزاب : ۵۶)

( اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ- :  بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں  ۔ ) یہ آیت ِمبارکہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صریح نعت ہے ، جس میں  بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پررحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حق میں  دعائے رحمت کرتے ہیں  اور اے مسلمانو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو یعنی رحمت و سلامتی کی دعائیں  کرو ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ اَشعار کی صورت میں   بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  درود و سلام کا ہدیہ پیش کیا ہے ، انہی کے الفاظ میں  ہم بھی عرض کرتے ہیں   :

کعبہ کے بدرُالدُّجیٰ تم پہ کروڑوں  درود                                   طیبہ کے شمس الضُّحٰی تم پہ کروڑوں  درود

شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں  درود                                                       دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں  درود

اور

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں  سلام                                                     شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں  سلام

شہریارِ اِرم تاجدارِ حرم                                                                   نوبہارِ شفاعت پہ لاکھوں  سلام

شبِ اسریٰ کے دولھا پہ دائم درود                                                      نوشۂ بزمِ جنت پہ لاکھوں  سلام

صلوٰۃ کا معنی :

صلوٰۃ کا لغوی معنی دعا ہے ، جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت فرمانا ہے اور جب اس کی نسبت فرشتوں  کی طرف کی جائے تو اس سے مراد اِستغفار کرنا ہے اور جب ا س کی نسبت عام مومنین کی طرف کی جائے تو اس سے مراد دعا کرنا ہے ۔ (تفسیرات احمدیه، الاحزاب، تحت الاٰیة :  ۵۶، ص۶۳۴)

علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (یہاں  آیت میں ) اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے سے مراد ایسی رحمت فرمانا ہے جو تعظیم کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور فرشتوں  کے درود بھیجنے سے مراد ان کا ایسی دعا کرنا ہے جو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان کے لائق ہو ۔ (صاوی، الاحزاب، تحت الاٰیة :  ۵۶، ۵ / ۱۶۵۴)

 



Total Pages: 97

Go To