$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

            یہ تین اوقات ایسے ہیں کہ اِن میں خلوت و تنہائی ہوتی ہے ، بدن چھپانے کا بہت اہتمام نہیں ہوتا، ممکن ہے کہ بدن کا کوئی حصہ کھل جائے جس کے ظاہر ہونے سے شرم آتی ہے ، لہٰذا اِن اوقات میں غلام اور بچے بھی بے اجازت داخل نہ ہوں اور اُن کے علاوہ جو ان لوگ تمام اوقات میں اجازت حاصل کریں، وہ کسی وقت بھی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں ۔  ان تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں غلام اور بچے بے اجازت داخل ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ کام اور خدمت کیلئے ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہیں تو اُن پر ہر وقت اجازت طلب کرنا لازم ہونے میں حرج پیدا ہوگا اور شریعت میں حرج کو دُور کیا گیا ہے ۔ (خازن، النور، تحت الاٰية :  ۵۸، ۳ / ۳۶۱-۳۶۲، مدارک، النور، تحت الاٰية :  ۵۸، ص۷۸۹، ملتقطاً)

لڑکا اور لڑکی کب بالغ ہوتے ہیں؟

          یاد رہے کہ لڑکے اور لڑکی میں جب بلوغت کے آثارظاہر ہوں مثلاً لڑکے کو احتلام ہو اور لڑکی کوحیض آئے اس وقت سے وہ بالغ ہیں اور اگر بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوں تو پندرہ برس کی عمر پوری ہونے سے بالغ سمجھے جائیں گے ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۱۲ / ۳۹۹، ملخصاً)

سورۃ الاحزاب

(60)

غزوہِ احزاب میں احسانِ الٰہی کی یاددہانی

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ(۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو!اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں  نظر نہ آئے اور الله تمہارے کاموں  کو دیکھ رہا ہے ۔ (الاحزاب : ۹)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا: اے ایمان والو! ۔ ) یہاں  سے جنگِ اَحزاب کے اَحوال بیان کیے جارہے ہیں  جسے غزوۂ خندق بھی کہتے ہیں  اوریہ واقعہ جنگِ اُحد کے ایک سال بعد پیش آیا ۔ چنانچہ ارشاد فرما یاکہ اے ایمان والو!تم الله تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت فرمایا جب تم پر قریش، غطفان، بنو قریظہ اور بنونَضِیرکے لشکر آئے اور انہوں  نے تمہارا محاصرہ کر لیا تو ہم نے ان پر آندھی اور فرشتوں  کے وہ لشکر بھیجے جو تمہیں  نظر نہیں  آئے اور تمہارا خندق کھودنا اور میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری میں  ثابت قدم رہنا الله تعالیٰ دیکھ رہا ہے ، اسی لئے اس نے کافروں  کے خلاف تمہاری مدد فرمائی اور ان کے شر سے تمہیں  محفوظ رکھا، لہٰذا تم الله تعالیٰ کے اس عظیم احسان پر ا س کا شکر اد ا کرو ۔

( خازن، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۹، ۳ / ۴۸۴، مدارک، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۹، ص۹۳۳-۹۳۴، روح البیان، الاحزاب، تحت الاٰية :  ۹، ۷ / ۱۴۶، ملتقطاً)

غزوۂ احزاب کا مختصر بیان  :

            غزوۂ احزاب کا مختصر بیان یہ ہے کہ یہ غزوہ سن 4 یا5 ہجری، شوال کے مہینے میں  پیش آیا ۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ جب بنی نَضِیر کے یہودیوں  کو جلاوطن کیا گیا تو اُن کے سربراہ مکہ مکرمہ میں  قریش کے پاس پہنچے اور انہیں  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جنگ کرنے کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ ہم تمہارا ساتھ دیں  گے یہاں  تک کہ مسلمان نیست و نابود ہوجائیں  ۔  ابوسفیان نے اس تحریک کی بہت قدر کی اور کہا کہ ہمیں  دنیا میں  وہ سب سے پیارا ہے جو محمد (مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی دشمنی میں  ہمارا ساتھ دے ۔  پھر قریش نے ان یہودیوں  سے کہا کہ تم پہلی کتاب والے ہو، ہمیں  بتاؤ کہ ہم حق پر ہیں  یا محمد (مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) یہودیوں  نے کہا :  تم ہی حق پر ہو ۔  اس پر کفارِ قریش خوش ہوئے اور اسی واقعے سے متعلق سورہ نساء کی آیت نمبر51’’ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ ‘‘نازل ہوئی ۔  پھر وہ یہودی دیگر قبائل غطفان، قیس اورغیلان وغیرہ میں  گئے ، وہاں  بھی یہی تحریک چلائی تو وہ سب بھی ان کے موافق ہوگئے ۔  اس طرح ان یہودیوں  نے جابجا دورے کئے اور عرب کے قبیلہ قبیلہ کو مسلمانوں  کے خلاف تیار کرلیا ۔  جب سب لوگ تیار ہوگئے تو قبیلہ خزاعہ کے چند لوگوں  نے نبی کریم صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی ان زبردست تیاریوں  کی اطلاع دی ۔  یہ اطلاع پاتے ہی حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مشورے سے خندق کھدوانی شروع کردی ۔  اس خندق میں  مسلمانوں  کے ساتھ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود بھی کام کیا ۔  مسلمان خندق تیار کرکے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مشرکین بارہ ہزار افرادکا بڑا لشکر لے کر اُن پر ٹوٹ پڑے اور مدینہ طیبہ کا محاصرہ کرلیا ۔ خندق مسلمانوں  کے اور اُن کے درمیان حائل تھی اور اسے دیکھ کر سب کفارحیران ہوئے اور کہنے لگے کہ’’ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے عرب لوگ اب تک واقف نہ تھے ۔  اب انہوں نے مسلمانوں  پر تیر اندازی شروع کر دی ۔ جب اس محاصرے کو 15 یا24 دن گزرے تو مسلمانوں  پر خوف غالب ہوا اور وہ بہت گھبرائے اور پریشان ہوئے تو الله تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور کافروں  پر تیز ہوا بھیجی، انتہائی سرد اور اندھیری رات میں  اُس ہوا نے کافروں  کے خیمے گرادیئے ، طنابیں  توڑدیں ، کھونٹے اکھاڑ دیئے ، ہانڈیاں  الٹ دیں  اور آدمی زمین پر گرنے لگے اور الله تعالیٰ نے فرشتے بھیج دیئے جنہوں  نے کفار کو



Total Pages: 97

Go To
$footer_html