Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے بعد شریعت مُوسَوی کے بعض احکام پر قائم رہے ، ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ، اس روز شکار سے لازماً اِجتناب جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے بھی پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں صرف مُباح یعنی جائز ہیں ، ان کا کرنا ضروری تونہیں جبکہ توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت مُوسَوی پر عمل بھی ہوجاتا ہے ۔  اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان کی طرف توجہ نہ دو ۔   (خازن، البقرة، تحت الاٰیة :  ۲۰۸، ۱ / ۱۴۷)

ایمانی  کمزوری کی علامت :

            یاد رکھیں کہ داڑھی منڈوانا، مشرکوں کا سا لباس پہننا ، اپنی معاشرت بے دینوں جیسی کرنا بھی سب ایمانی  کمزوری کی علامت ہے جب مسلمان ہو گئے تو سیرت و صورت، ظاہروباطن، عبادات ومعاملات، رہن سہن، میل برتاؤ، زندگی موت، تجارت و ملازمت سب میں اپنے دین پر عمل کرو ۔ نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کا دوسرے مذاہب یا دوسرے دین والوں کی رعایت کرنا شیطانی دھوکے میں آنا ہے ۔  اونٹ کا گوشت کھانا اسلام میں فرض نہیں مگر یہودیت کی رعایت کے لئے نہ کھانا بڑا سخت جرم ہے ۔  کافروں کو راضی کرنے کیلئے گائے کی قربانی بند کرنابھی اسی میں داخل ہے ۔  یونہی کسی جگہ اذان بند کرنا یا اذان آہستہ آواز سے دینا سب اسی میں داخل ہے ۔

(07)

راہِ خدا میں مال خرچ کرکے آخرت کی تیاری کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌؕ-وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۵۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت ہوگی اور کافر ہی ظالم ہیں ۔ (البقرۃ : ۲۵۴)

( اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ:  ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو ۔ )فکر ِ آخرت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے راہِ خدا میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال خر چ کرلو ۔  قیامت کا دن بڑی ہیبت والا ہے ، اس دن مال کسی کو بھی فائدہ نہ دے گا اور دنیوی دوستیاں بھی بیکار ہوں گی بلکہ باپ بیٹے بھی ایک دوسرے سے جان چھڑا رہے ہوں گے اور کافروں کو کسی کی سفارش کام نہ دے گی اور نہ دنیوی انداز میں کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا ۔  صرف اِذنِ الٰہی سے اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے شفاعت کریں گے جیسا کہ اگلی آیت یعنی آیتُ الکرسی میں آرہا ہے اور مال کا فائدہ بھی آخرت میں اسی صورت میں ہے جب دنیا میں اسے نیک کاموں میں خرچ کیا ہو اور دوستیوں میں سے بھی نیک لوگوں کی دوستیاں کام آئیں گی جیسا کہ سورۂ زُخْرُف میں ہے :  

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) (زخرف : ۶۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  پرہیزگاروں کے علاوہ اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ۔

( وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ :  اور کافر ہی ظالم ہیں ۔ )ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو غلط جگہ استعمال کرنا ۔  کافروں کا ایمان کی جگہ کفر اور طاعت کی جگہ معصیت اور شکر کی جگہ ناشکری کواختیار کرنا ان کا ظلم ہے اور چونکہ یہاں ظلم کا سب سے بدتر درجہ مراد ہے اسی لئے فرمایا کہ کافر ہی ظالم ہیں ۔

(08)

احسان  جتا کرا ور تکلیف دے کر صدقات کا ثواب باطل کرنے کی ممانعت ریا کاری کے طور پر صدقہ کرنے والوں کی مثال

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کردو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھلاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں لاتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر ہوجس پر مٹی ہے تواس پر زورداربارش پڑی جس نے اسے صاف پتھر کر چھوڑا، ایسے لوگ اپنے کمائے ہوئے اعمال سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کوہدایت نہیں دیتا ۔ (البقرۃ : ۲۶۴)

( لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ : اپنے صدقے برباد نہ کردو ۔ )ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! جس پرخرچ کرو اس پر احسان جتلا کر اور اسے تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے کا ثواب برباد نہ کردو کیونکہ جس طرح منافق آدمی لوگوں کو دکھانے کیلئے اور اپنی واہ واہ کروانے کیلئے مال خرچ کرتا ہے لیکن اس کا ثواب برباد ہوجاتا ہے اسی طرح فقیر پر احسان جتلانے والے اور اسے تکلیف دینے والے کا ثواب بھی ضائع ہوجاتا ہے ۔  اس کی مثال یوں سمجھو کہ  جیسے ایک چکنا پتھر ہو جس پر مٹی پڑی ہوئی ہو، اگراس پر زوردار بارش ہوجائے تو



Total Pages: 97

Go To