$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

( قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ : ان کافروں سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں ۔)جہاد تمام کافروں سے واجب ہے قریب کے ہوں یا دُور کے لیکن قریب والے مُقَدَّم ہیں پھر جواُن سے مُتّصل ہوں ایسے ہی درجہ بدرجہ  ۔ )مدارک، التوبة، تحت الاٰية :  ۱۲۳، ص۴۶۰)

کفار سے جنگ کرنے کے آداب :

            اس آیت میں کفار سے جنگ کے آداب سکھائے گئے ہیں کہ جنگ کی شرعی اجازت جب متحقق ہوجائے تو اس کی ابتدا قریب میں رہنے والے کفار سے کی جائے پھر ان کے بعد جو قریب ہوں حتّٰی کہ مسلمان مجاہدین دور کی آبادیوں میں رہنے والے کفار تک پہنچ جائیں ۔  اسی طریقے سے تمام کفار سے جہاد ممکن ہے ورنہ ایک ہی بار سب سے جنگ کرنا مُتَصَوَّر نہیں ، یہی وجہ ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پہلے اپنی قوم سے جہاد فرمایا ، پھر پورے عرب سے ، پھر اہلِ کتاب سے اور ان کے بعد روم اور شام والوں سے جنگ کی ۔  پھر نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عراق اور پھر تمام شہروں تک جنگ کا دائرہ وسیع کیا ۔ )صاوی، التوبة، تحت الاٰية :  ۱۲۳، ۳ / ۸۴۹)

( وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ- : اور وہ تم میں سختی پائیں ۔)اس سختی میں جرأت و بہادری، قتال پر صبر اور قتل یا قید کرنے میں شدت وغیرہ ہر قسم کی مضبوطی و سختی داخل ہے ۔  (روح المعانی، التوبة، تحت الاٰية :  ۱۲۳، ۶ / ۶۸)جو کفار اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنیں ان سے سختی کے ساتھ نمٹنے کا حکم ہے ، یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہر وقت سختی ہی کرتے رہیں کیونکہ ہمیں تو دورانِ جہاد بھی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور پادریوں وغیرہ کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

( وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ : اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔ )اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کا جہاد اور کفار کو قتل کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے ہو نہ کہ مال و دولت یا منصب ومرتبے کے حصول کی غرض سے ہو ۔ (تفسیر کبیر، التوبة، تحت الاٰية :  ۱۲۳، ۶ / ۱۷۴)

سورۃ الحج

(56)

اہلِ ایمان کومتعدد عبادتوں کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو!رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرواور اچھے کام کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاجاؤ ۔ (الحج : ۷۷)

( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا :  اے ایمان والو!رکوع اور سجدہ کرو ۔ )اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو 3اَحکام دئیے ہیں :

(1)…نمازپڑھو ۔  کیونکہ نماز کے سب سے افضل ارکان رکوع اور سجدہ ہیں اور یہ دونوں نماز کے ساتھ خاص ہیں تو ان کا ذکر گویا کہ نماز کا ذکر ہے ۔

(2)…اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرو ۔ اس کاایک مطلب یہ ہے کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو اور ا س کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو کام کرنے کا حکم دیا ہے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ، ان سب (پر عمل کرنے کی صورت) میں اپنے رب کی عبادت کرو ۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ رکوع، سجدہ اور دیگر نیک اعمال کو اپنے رب کی عبادت کے طور پر کرو کیونکہ عبادت کی نیت کے بغیر فقط ان افعال کو کرنا کافی نہیں ۔

(3)…نیک کام کرو ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :  ان سے مراد صلہ رحمی کرنا اور دیگر اچھے اَخلاق ہیں ۔

            آیت کے آخر میں فرمایا کہ تم یہ سب کام اس مید پر کرو کہ تم جنت میں داخل ہو کر فلاح و کامیابی پاجاؤ اور تمہیں جہنم سے چھٹکارا نصیب ہو جائے ۔ (تفسیرکبیر، الحج، تحت الاٰية :  ۷۷، ۸ / ۲۵۴، مدارک، الحج، تحت الاٰية :  ۷۷، ص۷۴۹-۷۵۰، ملتقطاً)

نیک اعمال کس امید پر کرنے چاہئیں؟

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ عبادات اور نیک اعمال ضرورکرے کہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے لیکن ان عبادات و نیک اعمال کی وجہ سے یہ ذہن نہ بنائے کہ اب ا س کی بخشش و مغفرت یقینی ہے بلکہ اس امید پر اخلاص کے ساتھ اور اللّٰہ تعالیٰ کی رضاکے لئے نیک کام کرے کہ ان کی برکت سے اللّٰہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل و رحمت فرمائے گا اور اپنی رحمت سے جہنم کے عذاب سے چھٹکارا اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے گا ۔

سورۂ حج کی آیت نمبر77سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ :

            یاد رہے کہ اَحناف کے نزدیک سورۂ حج کی اس آیت کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ ِ تلاوت واجب نہیں ہوتا کیونکہ اس میں سجدے سے مراد نماز کا سجدہ ہے ، البتہ اگر کسی حنفی نے شافعی مذہب سے تعلق رکھنے والے امام کی اقتدا کی اور اُس نے اِس موقع پر سجدہ کیا تو اُس کی پیروی میں مقتدی پر بھی واجب ہے ۔ (بہارِ شریعت، حصہ چہارم، سجدۂ تلاوت کا بیان، ۱ / ۷۲۹)

 



Total Pages: 97

Go To
$footer_html