Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

مندی حاصل کی جاتی ہے لیکن ا س نے وہ علم (اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے ) دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہ پائے گا ۔

(ابو داؤد، کتاب العلم، باب فی طلب العلم لغیر الله ، ۳ / ۴۵۱، الحدیث :   ۳۶۶۴)

             حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو اس لیے علم طلب کرے تاکہ علماء کا مقابلہ کرے یا جُہلاء سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرے تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ آگ میں داخل کرے گا ۔

( ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فیمن یطلب بعلمه الدنیا، ۵ / ۲۹۷، الحدیث :  ۲۶۶۳)

            حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’علماء کے سامنے فخر کرنے ، بیوقوفوں سے جھگڑنے اور مجلس آراستہ کرنے کے لئے علم نہ سیکھو کیونکہ جو ایسا کرے گا تو (اس کے لئے ) آگ ہی آگ ہے ۔ (ابن ماجه، کتاب السنّة، باب الانتفاع بالعلم والعمل به، ۱ / ۱۶۵، الحدیث :  ۲۵۴)

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے لوگوں کے دلوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے عمدہ گفتگو سیکھی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض عبادات قبول فرمائے گا نہ نفل ۔ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما جاء فی المتشدق فی الکلام، ۴ / ۳۹۱، الحدیث :  ۵۰۰۶)

( وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ- : اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ۔ )اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بخل کرتے ہیں ، مال کے حقوق ادا نہیں کرتے اور زکوٰۃ نہیں دیتے ۔  جب اللہ تعالیٰ نے یہودی و عیسائی علماء و پادریوں کی حرصِ مال کا ذکر فرمایا تو مسلمانوں کو مال جمع کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے سے خوف دلاتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ   ۔ (خازن، التوبة، تحت الاٰية :  ۳۴، ۲ / ۲۳۵)

  کَنز کی وَعید میں کون سا مال داخل ہے ؟

            حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ دی گئی وہ کنز نہیں (یعنی وہ اس آیت کی وعید میں داخل نہیں ) خواہ دفینہ (زمین میں دفن شدہ خزانہ) ہی ہو اور جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی وہ کنز ہے جس کا ذکر قرآن میں ہوا کہ اس کے مالک کو اس سے داغ دیا جائے گا ۔ (تفسیر طبری، التوبة، تحت الاٰية :  ۳۴، ۶ / ۳۵۷-۳۵۸)

کس مال کو جمع کرنا بہتر ہے ؟

            حضرت ثوبان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی کہ سونے چاندی کا تو یہ حال معلوم ہوا ، پھر کون سا مال بہتر ہے جس کو جمع کیا جائے  ۔ ارشاد فرمایا  : ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور نیک بیوی جو ایماندار کی اس کے ایمان پر مدد کرے (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة التوبة، ۵ / ۶۵، الحدیث :  ۳۱۰۵) یعنی پرہیزگار ہو کہ اس کی صحبت سے طاعت و عبادت کا شوق بڑھے ۔

مال جمع کرنے کا حکم اور مالدار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے واقعات :

            یاد رہے کہ مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جبکہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں ۔  حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت طلحہ وغیرہ اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم مالدار تھے  ۔  اسی مناسبت سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی مالداری کے چند واقعات ملاحظہ ہوں ۔  حضرت عثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مالداری تو ویسے ہی بہت مشہور ہے ، ان کے علاوہ چند مالدار صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یہ ہیں :

(1)…حضرت عبد الرحمن بن عوف  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  : تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کثیر مال عطا فرمایا اور اپنی مالداری کے باوجود بکثرت صدقہ و خیرات بھی کیا کرتے تھے ۔  نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس زمانے میں آپ نے اپنے مال میں سے پہلے چار ہزار درہم صدقہ کئے ، پھر چالیس ہزار درہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کئے ، ا س کے بعد چالیس ہزار دینار صدقہ کئے ، پھر پانچ سو گھوڑے اورا س کے بعد پانچ سو اونٹ راہِ خدا میں صدقہ کئے ۔ ) اسد الغابه، باب العین والباء، عبد الرحمن بن عوف، ۳ / ۴۹۸)

            ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تجارتی قافلہ آیا، ا س قافلے میں گندم، آٹے اور کھانے سے لدے ہوئے سات سو اونٹ تھے ، حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا نے شور سنا تو اس بارے دریافت فرمایا تو انہیں بتایا گیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تجارتی قافلہ واپس آیا ہے جس میں گندم، آٹے اور طعام سے لدے ہوئے سات سو اونٹ ہیں ۔  حضرت عائشہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا نے فرمایا :  میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبد الرحمن بن عوف  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گے ۔  جب یہ بات حضرت عبد الرحمن بن عوف  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معلوم ہوئی آپ نے کہا :  اے میری ماں ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے یہ تمام اونٹ اپنے سازو سامان کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صدقہ کر دیئے ۔ )اسد الغابه، باب العین والباء، عبد الرحمن بن عوف، ۳ / ۴۹۸)

 



Total Pages: 97

Go To