Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں حق و باطل میں فرق کردینے والا نور عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ (الانفال : ۲۹)

( اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ : اگر تم اللہ سے ڈرو گے ۔)جو شخص رب تعالیٰ سے ڈرے اور اس کے حکم پر چلے تو اللہ تعالیٰ اسے تین خصوصی انعام عطا فرمائے گا  ۔

            پہلا انعام یہ کہ اسے فُرقان عطا فرمائے گا ۔  یعنی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایسا نور اور توفیق عطا کرے گا جس سے وہ حق و باطل کے درمیان فرق کر لیا کرے ۔ ( خازن، الانفال، تحت الاٰية :  ۲۹، ۲ / ۱۹۱)

مومن کی فراست :

            مومن کی فراست کے بارے میں حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اِتَّقُوْا فَرَاسَۃَ الْمُؤمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْ رِ اللہِ‘‘ مومن کی فراست و دانائی سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔ (معجم الاوسط، باب الباء، من اسمه بکر، ۲ / ۲۷۱، الحدیث :  ۳۲۵۴)

             امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ ایک شخص آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ی کے لئے جا رہا تھا کہ راستے میں ایک اجنبیہ عورت پر اس کی نگاہ پڑ گئی ۔  جب حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا :  ہمارے پاس بعض حضرات اس حالت میں آتے ہیں کہ ان کی آنکھ میں زنا کا اثر ہوتا ہے ۔  اس شخص نے عرض کی : کیا ابھی وحی بند نہیں ہوئی؟ فرمایا : یہ وحی نہیں بلکہ مومن کی فراست ہے ۔ ( تفسیر قرطبی، الحجر، تحت الاٰية :  ۷۵، ۵ / ۳۳، الجزء العاشر)

            دوسرا انعام یہ کہ اس کے سابقہ گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور تیسرا نعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کو چھپا لے گا ۔

(49)

جہادمیں ثابت قدمی اور ذکرِ الٰہی کی کثرت کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو توثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یادکرو تاکہ فلاح پاؤ ۔  (الانفال : ۴۵)

( اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا: جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ )اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو بیان فرمایا جو ا س نے جنگِ بدر میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو عطا فرمائی تھیں اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کے دوآداب تعلیم فرمائے ہیں :

             پہلا ادب :  جنگ میں ثابت قدم رہنا ۔  ابتداء ً مسلمانوں کو جنگ یاکسی بھی آزمائش کی تمنا نہیں کرنی چاہئے لیکن جب ان پر جنگ مُسلّط ہو جائے تو اب ان پر لازم ہے کہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور بزدلی نہ دکھائیں ۔  حضرت عبداللہ بن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  تم دشمنوں سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو اور جب دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرو ۔  (مصنف عبد الرزاق، کتاب الجهاد، باب کیف یصنع بالذی یغلّ، ۵ / ۱۷۰، الحدیث :  ۹۵۸۱) اور جنگ میں ثابت قدم رہنے کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو ایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  جس شخص نے دشمن کے مقابلے میں صبر کیا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا یا اس نے دشمنوں کو قتل کر دیا تو وہ فتنۂ قبر میں مبتلا نہ ہو گا ۔ ( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمه موسیٰ، ۶ / ۱۲۹، الحدیث :  ۸۲۴۳)

            دوسرا ادب :  لڑائی کے دوران کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ۔  دورانِ جنگ دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور زبان پہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر ہونا چاہئے ۔  حضرت ابو مجلز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دشمن سے مقابلہ کرتے تو یوں دعا مانگتے : ’’اے اللہ! تومیری طاقت اور مددگار ہے ، میں تیری مدد سے پھرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا اور تیری مدد سے قِتال کرتا ہوں ۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الجهاد، باب کیف یصنع بالذی یغلّ، ۵ / ۱۶۹، الحدیث :  ۹۵۸۰)

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو انتہائی شدید حالت میں بھی ذکر کرنے کا حکم دیا ہے  ۔  اس میں یہ تنبیہ ہے کہ ہر حال میں انسان کا دل اور اس کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے ۔  اگر ایک شخص مغرب سے مشرق تک اپنے اَموال کی سخاوت کرے اور دوسرا شخص مشرق سے مغرب تک تلوار سے جہاد کرتا جائے تب بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے والے کا درجہ اور اجر اِن سے زیادہ ہو گا ۔ )تفسیر کبیر، الانفال، تحت الاٰية :  ۴۵، ۵ / ۴۸۹)

            یاد رہے کہ دورانِ جنگ زیادہ تر ذکر زبان سے ہوگا کہ دل عام طور پر سامنے والے سے مقابلے میں مشغول ہوتا ہے ۔

 



Total Pages: 97

Go To