$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّ خود فرماچکا ہے ۔

(45)                                                                                                                      

اطاعتِ رسول کا حکم اور نافرمانی کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ(۲۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرواور سن کر اس سے منہ نہ پھیرو ۔ (الانفال : ۲۰)

) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا : اے ایمان والو! ۔ (اس آیت سے مقصود سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرنے کا حکم دینا اور ان کی نافرمانی سے منع کرنا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا ذکر اس بات پر مُتَنَبِّہ کرنے کے لئے ہے کہ رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی اطاعت ہے جیسا کہ ایک مقام پر صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا :

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-     (النساء : ۸۰)  ترجمۂ کنزُالعِرفان :  جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا ۔

(ابو سعود، الانفال، تحت الاٰية : ۲۰، ۲ / ۳۵۳)

(46)                                                                      

حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بلانے پر حاضر ہونا ضروری ہے

دل بدلتے دیر نہیں لگتی

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۲۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا ۔ (الانفال : ۲۴)

) اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ :  اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو ۔ (اس آیت میں واحد کا صیغہ’’دَعَا ‘‘ا س لئے ذکر کیا گیا کہ  حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا بلانا اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی کا بلانا ہے ۔ ( خازن، الانفال، تحت الاٰية :  ۲۴، ۲ / ۱۸۸)

رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب بھی بلائیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ضروری ہے :

            اس آیت سے ثابت ہو اکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی بارگاہ میں حا ضر ہو جائے چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو ۔  بخاری شریف میں ہے ، حضرت ابوسعید بن معلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں مسجدِ نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بلایا، لیکن میں آپ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا  ۔  (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی : یارسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نماز پڑھ رہا تھا  ۔  سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ

اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کروجب وہ تمہیں بلائیں ۔

(بخاری، باب ما جاء فی فاتحة الکتاب، ۳ / ۱۶۳، الحدیث :  ۴۴۷۴)

          ایسا ہی واقعہ ایک اور حدیث میں ہے ، حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف تشریف لائے اور انہیں آواز دی ’’اے اُبَی! حضرت اُبَی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز پڑھ رہے تھے ، انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف دیکھا لیکن کوئی جواب نہ دیا، پھر مختصر نماز پڑھ کر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ‘‘ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’وَعَلَیْکَ السَّلَامْ‘‘ اے اُبَی! جب میں نے تمہیں پکارا تو جواب دینے میں کونسی چیز رکاوٹ بنی ۔  عرض کی : یا رسولَ اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ

اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے ۔

عرض کی :  ہاں یا رسولَ اللہ ! اِنْ شَآءَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ آئندہ ایسا نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب فضائل القراٰن، باب ما جاء فی فضل فاتحة الکتاب، ۴ / ۴۰۰، الحدیث :  ۲۸۸۴)

 



Total Pages: 97

Go To
$footer_html