Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  جس نے جھوٹی قسم پر حلف اٹھایا تاکہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہو گا ۔

(بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب عهد الله عزّوجل، ۴ / ۲۹۰، الحدیث :  ۶۶۵۹)

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا ۔ (ابن ماجه، کتاب الاحکام، باب شہادة الزور، ۳ / ۱۲۳، الحدیث :  ۲۳۷۳)

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مرد کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے تو اُس نے (اپنے اوپر) جہنم کو واجب کر لیا ۔ (معجم الکبیر، عکرمة عن ابن عباس، ۱۱ / ۱۷۲، الحدیث :  ۱۱۵۴۱)

سورۃ الانفال

)4(4                                                                                               میدانِ جنگ سے بھاگنے کے متعلق احکام

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ(۱۵) وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو ۔ اور جو اس دن لڑائی میں ہنر مندی کا مظاہرہ کرنے یا اپنے لشکر سے ملنے کے علاوہ کسی اور صورت میں انہیں پیٹھ دکھائے گا تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگااوراس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے ۔ (الانفال : ۱۵، ۱۶)

) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا : اے ایمان والو! ۔ ( اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میدانِ جنگ میں مسلمان کافروں کو پیٹھ نہ دکھائیں اور یہ حکم اس وقت ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے تعداد میں ڈبل ہوں اِس سے زیادہ نہ ہوں اور اگر کفار کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں ڈبل سے زیادہ ہو تو پھر مسلمانوں کا پیٹھ پھیرکر بھاگنا ناجائز و حرام نہیں ہے ۔  جمہور کے نزدیک ایک سو مسلمانوں کا دو سو کفار کے مقابلے سے بھاگنا کسی حال میں جائز نہیں ہے اور اگر کافر وں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو تو ان کے مقابلے سے بھاگنا اگرچہ جائز ہے لیکن صبر و اِستِقامت سے ان کے مقابلے میں ڈٹے رہنا بہتر اور افضل ہے ۔ ( تفسیر قرطبی، الانفال، تحت الاٰية :  ۱۵، ۴ / ۲۷۲، الجزء السابع)

) وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ  : اور جو اس دن انہیں پیٹھ دکھائے گا ۔ ( یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کفار کے مقابلے سے بھاگا وہ غضبِ الٰہی میں گرفتار ہوا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے البتہ دو صورتیں ایسی ہیں جن میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے ۔

(1)…کسی جنگی حکمتِ عملی کی وجہ سے پیچھے ہٹنا مثلاً پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ مؤثِّر ہو یا خطرناک جگہ سے ہٹ کر محفوظ جگہ سے حملہ کرنے کا قصد ہو تو اس صورت میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے ۔

(2)…اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹنا مثلاً مسلمان فوجیوں کا کوئی فرد یا گروہ مرکزی جماعت سے بچھڑ گیا اور وہ اپنے بچاؤ کیلئے پَسپا ہو کر مرکزی جماعت سے ملا تو یہ بھی بھاگنے والوں میں شمار نہ ہو گا ۔

جنگِ اُحد اور جنگِ حُنَین میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا حکم :

جنگِ احد اور جنگِ حنین میں جن صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے قدم اکھڑ گئے تھے وہ اس آیت کی وعید میں داخل نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں جنگِ احد میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عام معافی کا اعلان فرما دیا :

اِنَّ  الَّذِیْنَ  تَوَلَّوْا  مِنْكُمْ  یَوْمَ  الْتَقَى  الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا  اسْتَزَلَّهُمُ  الشَّیْطٰنُ  بِبَعْضِ   مَا  كَسَبُوْاۚ-وَ  لَقَدْ  عَفَا  اللّٰهُ  عَنْهُمْؕ-(آل عمران : ۱۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان : بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ، انہیں شیطان ہی نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کیا اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے ۔

             یونہی جنگِ حنین میں جن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ابتداء ًپسپائی اختیار کی ان کے مومن رہنے کی گواہی خود قرآن میں موجود ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے قدم جمائے اور ان پر اپنا سکینہ اتارا، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا (التوبه : ۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان : پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور اہلِ ایمان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اس نے (فرشتوں کے ) ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے  ۔

جو اس طرح کے واقعات کو لے کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شان میں گستاخی کرے اور ان پر زبانِ طعن دراز کرے وہ بڑا بدبخت ہے کہ ان کی معافی کا اعلان



Total Pages: 97

Go To