Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

رہے ۔  اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی تسلی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں ، اَمْر بِالْمَعْرُوف وَ نَہْی عَنِ الْمُنْکَرکا فرض ادا کرکے تم بری الذمہ ہوچکے ہو، تم اپنی نیکی کی جزا پاؤ گے  ۔

             حضرت عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  ’’ اس آیت میں اَمْر بِالْمَعْرُوف وَ نَہْی عَنِ الْمُنْکَر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے ، کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ’’ ایک دوسرے کی خبر گیری کرے ، نیکیوں کی رغبت دلائے اور بدیوں سے روکے ۔ )خازن، المائدة، تحت الاٰية :  ۱۰۵، ۱ / ۵۳۴)

            اور مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کتنی پیاری بات ارشاد فرمائی جس کا خلاصہ ہے کہ تم اپنی فکر کرو یعنی عقائد درست کرکے ، نیک اعمال کر کے اپنی فکر کرو، اعمال میں تبلیغ بھی شامل ہے لہذا جو قدرت کے باوجود تبلیغ نہ کرے وہ راہ پر ہی نہیں ۔ ( نور العرفان، المائدۃ، تحت الآیۃ :  ۱۰۵، ص۱۹۸)

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے میں احادیث  :

            یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کاذکر ہوا، اس کی مناسبت سے ہم یہاں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بارے 3 احادیث ذکر کرتے ہیں :

(1)…حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ- لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- ‘‘اور میں نے رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ) دیکھیں اور اسے (ظلم سے ) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلاء کر دے ۔ ) ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی نزول العذاب اذا لم یغیّر المنکر، ۴ / ۶۹، الحدیث :  ۲۱۷۵)

(2)…اور ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اے لوگو تم اللہ تعالی ٰکے اس فرمان’’ عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ ‘‘کو پڑھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہو جانا کہ تم میں سے کوئی کہنے لگے ’’میں تو بس اپنی جان کی فکر کروں گا‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ تم پر تمہارے شریر لوگ حکمران بن جائیں گے جو تمہیں بڑی سخت تکلیفیں پہنچائیں گے ، پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے بھی توان کی دعا قبول نہ کی جائے گی ۔

) کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الامر بالمعروف والنهی عن المنکر، ۲ / ۲۷۱ ، الحدیث :  ۸۴۴۲، الجزء الثالث ، تفسیر طبری، المائدة، تحت الآية :  ۱۰۵، ۵ / ۹۸-۹۹)

(3)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’اے لوگو! تمہیں لازمی طور پر نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ظالم حکمران مُسلّط کر دے گا جو تمہارے بڑوں کی بزرگی کا خیال نہیں رکھے گا اور تمہارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرے گا، تمہارے نیک لوگ ا س کے خلاف دعا مانگیں گے لیکن ان کی دعا قبول نہ ہو گی اور تم مدد مانگو گے لیکن تمہیں مدد نہ ملے گی ۔  ( احیاء علوم الدين، کتاب الامر بالمعروف والنهی عن المنکر، الباب الاول فی وجوب الامر بالمعروفالخ، ۲ / ۳۸۳)

)43(

وصیت کے گواہ بنانے کا حکم

وصیت کی گواہی کے چند اہم مسائل

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِؕ-تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۙ-وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَۙ-اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ(۱۰۶) فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ ﳲ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۱۰۷) ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۱۰۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! جب تم میں کسی کو موت آنے لگے تو وصیت کرتے وقت تمہاری آپس کی گواہی(دینے والے ) تم میں سے دو معتبر شخص ہوں یا اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو پھر تمہیں موت کا حادثہ آپہنچے تو تمہارے غیروں میں سے دو آدمی (گواہ ہوں )  ۔  تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لو پھر اگر تمہیں کچھ شک ہو تو وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم قسم کے بدلے کوئی مال نہ لیں گے اگرچہ قریبی رشتے دار ہو اور ہم اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے  ۔  (اگر ہم ایسا کریں تو)اس وقت ہم ضرور گنہگاروں میں ہوں گے ۔ پھر اگر اس بات پر اطلاع ملے کہ وہ دونوں گواہ( گواہی میں جھوٹ بول کر)کسی گناہ کے مستحق ہوئے ہیں تو ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کا حق دبایا گیا میت کے زیادہ قریبی دو (آدمی قسم کھانے کے لئے ) کھڑے ہوجائیں پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی (یعنی ہماری قسم)ان کی گواہی سے زیادہ درست ہے اور ہم حد سے نہیں بڑھے (اور اگر ایساکریں تو) اس وقت ہم ظالموں میں ہوں گے ۔ یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہ صحیح طریقے سے گواہی ادا کریں یا وہ اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں کے بعد قسموں کو ( ورثاء کی طرف)لوٹا دیا جائے گا اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ (المآئدة : ۱۰۶-۱۰۸)

) شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ : تمہاری آپس کی گواہی ۔ ( آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ مہاجرین میں سے ایک صاحب جن کا نام بُدَیْلْ تھا وہ تجارت کے ارادے سے دو عیسائیوں



Total Pages: 97

Go To