$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

اپنے کام کا وبال چکھے ۔  اللہ نے پہلے جو کچھ گزرا اسے معاف فرمادیا اور جودوبارہ کرے گاتو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب ہے ، بدلہ لینے والاہے ۔ (المآئدة : ۹۵)

) لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ- : حالتِ احرام میں شکار کو قتل نہ کرو ۔ (اس آیتِ مبارکہ میں حالت ِ احرام میں شکار کرنے سے منع فرمایا ہے  ۔  یہاں اِس کے چند مسائل بیان کئے جاتے ہیں ۔

حالتِ احرام میں شکار کرنے کے شرعی مسائل :

(1)… مُحْرِم  یعنی احرام والے پر شکار یعنی خشکی کے کسی وحشی جانور کو مارنا حرام ہے ۔

(2)…جانور کی طرف شکار کرنے کے لئے اشارہ کرنا یاکسی طرح بتانا بھی شکار میں داخل اور ممنوع ہے ۔

(3)…حالتِ احرام میں ہر وحشی جانور کا شکار ممنوع ہے خواہ وہ حلال ہو یا نہ ہو  ۔

(4)…کاٹنے والا کتا، کوا، بچھو، چیل، چوہا، بھیڑیا اور سانپ ان جانوروں کو احادیث میں فَوَاسِق فرمایا گیا ہے اور ان کے قتل کی اجازت دی گئی ہے  ۔

(5)…مچھر، پِسّو، چیونٹی، مکھی اور حشراتُ الارض اور حملہ آور درندوں کو مارنا معاف ہے ۔ ( تفسیر احمدی، المائدة، تحت الاٰية :  ۹۵، ص ۳۷۲-۳۷۷)

(6)…حالتِ احرام میں جن جانوروں کا مارنا ممنوع ہے وہ ہر حال میں ممنوع ہے جان بوجھ کر ہو یاغلطی سے ۔  جان بوجھ کر مارنے کا حکم تو اس آیت میں موجود ہے غلطی سے مارنے کا حکم حدیث شریف سے ثابت ہے ۔  (مدارک، المائدة، تحت الاٰية :  ۹۵، ص۳۰۳)

 حالتِ احرام میں شکار کے کفارے کی تفصیل :  

            حالتِ احرام میں شکار کے کفاروں سے متعلق یہ تفصیل ہے :

(1)…خشکی کا وحشی جانور شکار کرنا یا اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا اور کسی طرح بتانا یہ سب کام حرام ہیں اور سب میں کفارہ واجب اگرچہ اُس کے کھانے میں مجبور ہو یعنی بھوک سے مرا جاتا ہو اور کفارہ اس کی قیمت ہے یعنی دو عادل وہاں کے حساب سے جو قیمت بتا دیں وہ دینی ہوگی اور اگر وہاں اُس کی کوئی قیمت نہ ہو تو وہاں سے قریب جگہ میں جو قیمت ہو وہ ہے اور اگر ایک ہی عادل نے بتادیا جب بھی کافی ہے  ۔

(2)…شکار کی قیمت میں اختیار ہے کہ اس سے بھیڑ بکری وغیرہ اگر خرید سکتا ہے تو خرید کر حرم میں ذبح کرکے فقراء کو تقسیم کردے یا اُس کا غلہ خرید کر مسا کین پر تَصَدُّق کردے ، اتنی مقدار دے کہ ہر مسکین کو صدقۂ فطر کی مقدار پہنچ جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس قیمت کے غلہ میں جتنے صدقے ہو سکتے ہوں ہر صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھے اور اگر کچھ غلہ بچ جائے جو پورا صدقہ نہیں تو اختیار ہے وہ کسی مسکین کو دیدے یا اس کے عوض ایک روزہ رکھے اور اگر پوری قیمت ایک صدقہ کے لائق بھی نہیں تو بھی اختیار ہے کہ اتنے کا غلہ خرید کر ایک مسکین کو دیدے یا اس کے بدلے ایک روزہ رکھے ۔

(3)…کفارہ کا جانور حرم کے باہر ذبح کیا تو کفارہ ادا نہ ہو گا اور اگر اس میں سے خود بھی کھایا تو اتنے کا تاوان دے ۔

(بہارِ شریعت، حصہ ششم، جرم اور ان کے کفارے کا بیان، ۱ / ۱۱۷۹-۱۱۸۰)

)41(

فضول سوالات کرنے کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۱۰۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم انہیں اس وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تم پروہ چیزیں ظاہر کردی جائیں گی اور اللہ ان کو معاف کرچکا ہے اور اللہ بخشنے والا ، حلم والا ہے ۔ (المآئدة : ۱۰۱)

) لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ- : ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں ۔( اس آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک روز سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ’’جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ۔  حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : ’’ حذافہ ۔  پھر فرمایا : ’’اور پوچھو، تو حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُٹھ کر ایمان و رسالت کا اقرار کرکے معذرت پیش کی ۔ ( بخاری، کتاب مواقیت الصلاة، باب وقت الظهر عند الزوال، ۱ / ۲۰۰، الحدیث :  ۵۴۰)

             امام ابنِ شہاب زہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن حذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی والدہ نے اُن سے شکایت کی اور کہا کہ ’’تو بہت نالائق بیٹا ہے ، تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیت کی عورتوں کا کیا حال تھا؟ خدانخواستہ ، تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی ۔  اس پرحضرت عبداللہ بن حذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ



Total Pages: 97

Go To
$footer_html