$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

            وضو کے چار فرض ہیں :  (1) چہرہ دھونا ۔  (2) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھونا ۔  (3)چوتھائی سر کا مسح کرنا ۔  (4) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا ۔  

وضو کے چند احکام :

(1)جتنا دھونے کا حکم ہے اس سے کچھ زیادہ دھو لینا مستحب ہے کہ جہاں تک اَعضائے وضو کو دھویا جائے گا قیامت کے دن وہاں تک اعضاء روشن ہوں گے ۔  (بخاری، کتاب الوضوء، باب فضل الوضوء والغرّ المحجّلون الخ، ۱ / ۷۱، الحدیث :  ۱۳۶)

(2)رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرمایا کرتے جبکہ اکثر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جب تک وضو ٹوٹ نہ جاتا اسی وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں ادا فرماتے ، ایک وضو سے زیادہ نمازیں ادا کرنے کا عمل تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بھی ثابت ہے ۔

(بخاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء من غیر حدث، ۱ / ۹۵، الحدیث :  ۲۱۴-۲۱۵، عمدة القاری، کتاب الوضوء، باب الوضوء من غیر حدث، ۲ / ۵۹۰، تحت الحدیث :  ۲۱۴)

(3)اگرچہ ایک وضو سے بھی بہت سی نمازیں فرائض و نوافل درست ہیں مگر ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو کرنا زیادہ برکت و ثواب کا ذریعہ ہے ۔  بعض مفسرین کا قول ہے کہ ابتدائے اسلام میں ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو فرض تھا بعد میں منسوخ کیا گیا( اور جب تک بے وضو کرنے والی کوئی چیز واقع نہ ہو ایک ہی وضو سے فرائض و نوافل سب کا ادا کرنا جائز ہوگیا ۔ )( مدارک، المائدة، تحت الاٰية :  ۶، ص۲۷۴)

(4)یاد رہے کہ جہاں دھونے کا حکم ہے وہاں دھونا ہی ضروری ہے وہاں مسح نہیں کرسکتے جیسے پاؤں کو دھونا ہی ضروری ہے مسح کرنے کی اجازت نہیں ، ہاں اگر موزے پہنے ہوں تو اس کی شرائط پائے جانے کی صورت میں موزوں پر مسح کرسکتے ہیں کہ یہ احادیث ِ مشہورہ سے ثابت ہے ۔

(وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا : اوراگر تم حالتِ جنابت میں ہو ۔) جنابت کاعام فہم مطلب یہ ہے کہ شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا ۔

جنابت کے اسباب اور ان کا شرعی حکم :

            جنابت کے کئی اسباب ہیں : (1)جاگتے میں شہوت کے ساتھ اچھل کر منی کاخارج ہونا ۔ (2)سوتے میں احتلام ہو جانا ۔ (3) ہم بستری کرنا اگرچہ منی خارج نہ ہو ۔  اس کاحکم یہ ہے کہ غسل کئے بغیر نماز پڑھنا، تلاوتِ قرآن کرنا، قرآنِ پاک کو چھونا اور مسجد میں داخل ہونا ناجائز ہے ۔  جو کام جنابت کی حالت میں منع ہیں حَیض و نِفاس کی حالت میں بھی منع ہوں گے لیکن جب تک عورت حائضہ یا نفاس کی حالت میں ہے غسل کرنے سے پاک نہ ہو گی جبکہ جُنُبی غسل کرنے سے پاک ہو جاتا ہے ، اسی طرح حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے صحبت کرنا بھی منع ہے جبکہ جنابت کی حالت میں صحبت کرنا منع نہیں ۔  (احکام القراٰن، سورۃ المائدة، باب الغسل من الجنابة، ۲ / ۴۵۷)

حیض و نفاس سے بھی غسل لازم ہو جاتا ہے ۔  حیض کا مسئلہ سورۂ بقرہ آیت نمبر 222میں گزر گیا اور نفاس سے غسل لازم ہونا اجماع سے ثابت ہے اور تیمم کا بیان سورۂ نساء آیت نمبر 43میں تفصیل سے گزر چکا ۔  مزید تفصیل جاننے کیلئے فقہی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں ۔

(31)

ہرحال میں عدل و انصاف پر قائم رہنے اور ناانصافی نہ کرنے کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘-وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ-اِعْدِلُوْا- هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ اور تمہیں کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف نہ کرو (بلکہ) انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے ۔ (المآئدة : ۸)

( كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘- : انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ  کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ ۔ ) آیتِ مبارکہ میں عدل و انصاف کا حکم فرمایا گیا ہے اور واضح فرمادیا کہ کسی قسم کی قرابت یا عداوت کا کوئی اثر تمہیں عدل سے نہ ہٹا سکے ۔

عدل و انصاف کے دو اعلٰی نمونے :

            یہاں عدل و انصاف کے دو اعلیٰ نمونے پیش خدمت ہیں جس سے اسلام کی تعلیمات کا نقشہ سامنے آتا ہے :

(1)ملک غَسَّان کا بادشاہ جبلہ بن ایہم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا، کچھ دنوں بعد امیرُ المومنین حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حج کے ارادے سے نکلے تو جبلہ بن ایہم بھی اس قافلے میں شریک ہو گیا ۔  مکۂ مکرمہ پہنچنے کے بعد ایک دن دورانِ طواف کسی دیہاتی مسلمان کا پاؤں اس کی چادر پر پڑ گیا تو چادر کندھے سے اتر گئی ۔  جبلہ بن ایہم نے اس سے پوچھا :  تو نے میری چادر پر قدم کیوں رکھا؟ اس نے کہا :  میں نے جان بوجھ کر قدم نہیں رکھا غلطی سے پڑ گیا تھا ۔  یہ سن کر جبلہ نے ایک زور دار تھپڑ ان کے چہرے پر رسید کر دیا، تھپڑ کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ناک بھی زخمی ہو گئی ۔  یہ دیہاتی مسلمان حضرت عمر فاروق رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور جبلہ بن ایہم کے سلوک کی شکایت کی ۔  حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جبلہ بن ایہم کو طلب فرمایا اور پوچھا  : کیا تو نے



Total Pages: 97

Go To
$footer_html