$header_html

Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبی صلی الله علیه وسلم من اللیل، ۲ / ۵۲، الحدیث :  ۱۳۱۹)       

اسی طرح نمازِ اِستِسقا اور نمازِحاجت بھی نماز سے مدد چاہنے ہی کی صورتیں ہیں ۔

( اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ :  بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔ ( حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اللہتعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے ) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا ۔ (تفسیر سمرقندی، البقرة، تحت الاٰیة :  ۱۵۳، ۱ / ۱۶۹)

صبر کی تعریف  :

            اس آیت میں صبر کا ذکر ہوا ، صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو ۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص۴۷۴)

صبر کی اقسام :

            بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں  : (۱)…بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (۲)طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا ۔  پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابلِ تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے ۔  (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبرالخ، ۴ / ۸۲)

صبر کے فضائل :

            قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے ان میں سے 10فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے :

(1)اللہتعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ (پ ۱۰، الانفال :  ۴۶)

(2)صبر کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا ۔ (پ۱۴، النحل :  ۹۶)

(3)صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا ۔ (پ۲۳، الزمر :  ۱۰)

(4)صبر کرنے والوں کی جزاء دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے ۔  (معجم الکبیر،  ۱۲ / ۱۴۱، الحدیث :  ۱۲۸۲۹)

(5)صبر کرنے والے رب کریم عَزَّوَجَلَّکی طرف سے درودو ہدایت اور رحمت پاتے ہیں ۔ (پ۲،  البقرة :  ۱۵۷)

(6)صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں ۔ (پ۴، اٰل عمران :  ۱۴۶)

(7)صبر آدھا ایمان ہے ۔  (مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، ۳ / ۲۳۷، الحدیث :  ۳۷۱۸)

(8)صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔  (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلة الصبر، ۴ / ۷۶)

(9)صبر کرنے والے کی خطائیں مٹا دی جاتی ہیں ۔ (ترمذی، کتاب الزهد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، ۴ / ۱۷۹، الحدیث :  ۲۴۰۷)

(10)صبر ہر بھلائی کی کنجی ہے ۔ (شعب الایمان، السبعون من شعب الایمان، فصل فی ذکر ما فی الاوجاعالخ، ۷ / ۲۰۱، رقم :  ۹۹۹۶)

غیرِخدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں  :

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ غیرِ خدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں ہے  ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  ’’خدارا انصاف ! اگر آیۂ کریمہ’’اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ ‘‘میں مطلق استعانت کا ذات ِالٰہی جَلَّ وَعَلا میں حصر مقصود ہو تو کیا صرف انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہی سے استعانت شرک ہوگی، کیا یہی غیر خدا ہیں ، اور سب اشخاص واشیاء وہابیہ کے نزدیک خدا ہیں یا آیت میں خاص انہیں کا نام لے دیا ہے کہ ان سے شرک اوروں سے روا ہے ۔  نہیں نہیں ، جب مطلقا ًذات اَحَدِیَّت سے تخصیص اور غیر سے شرک ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرک ہی ہوگی کہ انسان ہوں یا جمادات ، اَحیاء ہوں یا اموات، ذوات ہوں یاصفات، افعال ہوں یا حالات، غیر خدا ہونے میں سب داخل ہیں ، اب کیاجواب ہے آیۂ کریمہ کا کہ رب جَلَّ وَعَلا فرماتاہے :

’’ وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ‘‘ (البقرة :  ۴۵)

                                                                                          استعانت کرو صبر ونماز سے ۔

کیا صبر خدا ہے جس سے استعانت کا حکم ہوا ہے ؟ کیا نماز خدا ہے جس سے استعانت کو ارشاد کیا ہے ۔  دوسری آیت میں فرماتاہے :

’’ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪   ‘‘ (مائده : ۲)

 



Total Pages: 97

Go To
$footer_html