Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

( وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى :  اور اگر تم بیمار ہو ۔ )آیت میں تیسری بات جو ارشاد فرمائی گئی اس میں تیمم کے حکم میں تفصیل بیان کردی گئی جس میں یہ بھی داخل ہے کہ تیمم کی اجازت جس طرح بے غسل ہونے کی صورت میں ہے اسی طرح بے وضو ہونے کی صورت میں ہے ۔  چنانچہ فرمایا گیا کہ اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو اور تمہیں وضو یا غسل کی حاجت ہے یا تم بیتُ الْخَلاء سے قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آؤ اور تمہیں وضو کی حاجت ہو یا تم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو اور تم پر غسل فرض ہوگیا ہو تو ان تمام صورتوں میں اگر تم پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو خواہ پانی موجود نہ ہونے کے باعث یا دور ہونے کے سبب یا اس کے حاصل کرنے کا سامان نہ ہو نے کے سبب یا سانپ، درندہ، دشمن وغیرہ کے ڈر سے تو تیمم کرسکتے ہو ۔  یاد رہے کہ جب عورت کوحَیض و نِفاس سے فارغ ہونے کے بعد غسل کی حاجت ہو اور اگر اس وقت پانی پر قدرت نہ پائے تو اس صورت میں اسے بھی تیمّم کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ۔

( فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا :  تو پاک مٹی سے تیمم کرو  ۔ ) آیت کے آخر میں تیمم کرنے کا طریقہ بھی ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ اور چند احکام یہ ہیں  :

 تیمم کا طریقہ :

           تیمم کرنے والا پاکی حاصل کرنے کی نیت کرے اور جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے گرد، ریت، پتھر، مٹی کا فرش وغیرہ ، اس پر دو مرتبہ ہاتھ مارے ، ایک مرتبہ ہاتھ مار کر چہرے پر پھیرلے اور دوسری مرتبہ زمین پر ہاتھ پھیر کر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں پر پھیرلے  ۔

تیمم کے 2 احکام :

(1)…ایک تیمم سے بہت سے فرائض و نوافل پڑھے جاسکتے ہیں ۔

(2)…تیمم کرنے والے کے پیچھے غسل اور وضو کرنے والے کی اقتدا صحیح ہے ۔

نوٹ  : تیمم کے بارے میں مزید احکام جاننے کے لئے بہارِ شریعت، جلد1، حصہ نمبر2’’تیمم کابیان‘‘مطالعہ فرمائیں ۔

            آیتِ مبارکہ کے آخری جز کا شانِ نزول یہ ہے کہ غزوۂ بنی مُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام رات کے وقت ایک بیابان میں ٹھہرا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا، وہاں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کا ہار گم ہوگیا، اس کی تلاش کے لئے سیّد ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہاں قیام فرمایا، صبح ہوئی تو پانی نہ تھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی ۔  یہ دیکھ کر حضرت اُسَید بن حُضَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ ’’اے آلِ ابوبکر!یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے ۔  پھر جب اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار مل گیا ۔ (بخاری، کتاب التیمم، باب التیمم، ۱ / ۱۳۳، الحدیث :  ۳۳۴)

            ہار گم ہونے اور رحمت ِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نہ بتانے میں بہت سی حکمتیں تھیں ۔  حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہار  کی وجہ سے نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وہاں قیام فرمانا حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی فضیلت و مرتبے کو ظاہر کرتا ہے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے ہار تلاش کرنے میں اس بات کی ہدایت ہے کہ حضور تاجدارِ انبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِِ مُطَہَّرات کی خدمت مؤمنین کی سعادت ہے ، نیز اس واقعے سے تیمم کا حکم بھی معلوم ہوگیا جس سے قیامت تک مسلمان نفع اٹھاتے رہیں گے ۔  سُبْحَانَ اللہ  ۔

(22)

اطاعتِ رسول اور اطاعتِ امیر کا حکم اختلافی بات قرآن وسنت پر پیش کی جائے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠(۵۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں ۔  پھر اگر کسی بات میں تمہارا اختلاف ہوجائے تواگر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس بات کو اللہ اور رسول کی بارگاہ میں پیش کرو ۔  یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ۔  (النسآء : ۵۹)

( وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ :  اور رسول کی اطاعت کرو ۔ ) یہاں آیت میں  رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی اطاعت ہے ۔  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی ۔

(بخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب یقاتل من وراء الامام ویتقی به، ۲ / ۲۹۷، الحدیث :  ۲۹۵۷)

            رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے بعد امیر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔  صحیح بخاری کی سابقہ حدیث میں ہی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  جس نے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی ۔

 



Total Pages: 97

Go To