Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

میں خرابی کی کوئی صورت پائی جارہی ہے تو اس کے اچھے پہلوؤں پر بھی غور کرلو ۔  ہوسکتا ہے کہ اچھے پہلو زیادہ ہوں یا اچھا پہلو زیادہ فائدے مند ہو مثلاً کسی کی بھی بیوی بدصورت ہے لیکن اسی سے آدمی کو نیک اولاد حاصل ہے ، یہاں اگر بدصورتی کو گوارا کرلے تو اس کی زندگی امن سے گزرے گی لیکن اگر طلاق دیدے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ بیوی تو چھوٹ ہی جائے گی لیکن اس کے ساتھ بچے بھی چھوٹ جائیں گے اور ساری زندگی ایسی تلخیوں ، ذہنی اذیتوں ، اولاد کے حصول کی جنگ اور حقوق کی لڑائی میں گزرے گی کہ چودہ طبق روشن ہوجائیں گے ۔  یونہی کسی آدمی کو ادارے میں رکھا ہوا ہے جو کسی وجہ سے ناپسند ہے لیکن اسی کی وجہ سے نظام بہت عمدہ چل رہا ہے ، اب اُس آدمی کو رکھنا اگرچہ پسند نہیں لیکن صرف ناپسندیدگی کی وجہ سے اُسے نکال دینا پورے نظام کو تباہ کردے گا تو ایسی جگہ فوائد پر نظر رکھتے ہوئے اُسے برداشت کرلینا ہی بہتر ہے ۔  یہ دو مثالیں عرض کی ہیں ، اِن کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی کے بہت سے معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے ۔  صرف ’’مثبت ذہنی سوچ‘‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ، ہماری زندگی کی بہت سی تلخیاں خود بخود ختم ہوجائیں گی ۔  اِسی ’’مثبت ذہنی سوچ‘‘ کا ایک پہلو یہ ہوتا ہے کہ آدمی پریشانیوں کی بجائے نعمتوں کو سامنے رکھے یعنی آدمی اگر ایک تکلیف میں ہے تو اُسی وقت میں وہ لاکھوں نعمتوں اور سینکڑوں کامیابیوں میں بھی ہوتا ہے تو کیا ضرورت ہے کہ پریشانی اور ناکامی کی یاد تو اپنا وظیفہ بنالے اور خوشی اور کامیابی کو بھولے سے بھی نہ سوچے ۔  اِس نسخے پر عمل کرکے دیکھیں اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں بھر جائیں گی ۔

(20)

باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے کی ممانعت ۔ باہمی رضامندی سے تجارت حلال ہے ۔ خود کو ہلاک کرنے کی ممانعت

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ البتہ یہ (ہو) کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو ۔  بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔ (النسآء : ۲۹)

( لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ : باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ ۔ ) نکاح کے ذریعے نفس میں تَصَرُّف کی وضاحت کے بعد اب مال میں تصرف کا شرعی طریقہ بیان کیا جا رہا ہے ، اس آیت میں باطل طریقے سے مراد وہ طریقہ ہے جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے حرام قرار دیا ہے جیسے سود، چوری، اور جوئے کے ذریعے مال حاصل کرنا، جھوٹی قسم، جھوٹی وکالت، خیانت اور غصب کے ذریعے مال حاصل کرنا اور گانے بجانے کی اجرت یہ سب باطل طریقے میں داخل اور حرام ہے ۔  یونہی اپنا مال باطل طریقے سے کھانا یعنی گناہ و نافرمانی میں خرچ کرنا بھی اس میں داخل ہے ۔ (خازن، النساء، تحت الاٰية :  ۲۹، ۱ / ۳۷۰)

             اسی طرح رشوت کا لین دین کرنا، ڈنڈی مار کر سودا بیچنا، ملاوٹ والا مال فروخت کرنا، قرض دبا لینا، ڈاکہ زنی، بھتہ خوری اور پرچیاں بھیج کر ہراساں کر کے مال وصول کرنا بھی اس میں شامل ہے ۔

حرام مال کمانے کی مذمت :

            حرام کمانا اور کھانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سخت ناپسندیدہ ہے اور احادیث میں اس کی بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، ان میں سے 4 احادیث  درج ذیل ہیں :

(1)… حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا :  ’’جو بندہ مالِ حرام حاصل کرتا ہے ، اگر اُس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اُس کے لیے اُ س میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے ۔  اللہ تعالیٰ برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا، ہاں نیکی سے برائی کو مٹا دیتا ہے ۔  بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا ۔  (مسند امام احمد، مسند عبد الله بن مسعود رضی الله تعالی عنه، ۲ / ۳۳، الحدیث :  ۳۶۷۲ )

(2)…حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  اللہ تعالیٰ نے اُس جسم پر جنت حرام فرما دی ہے جو حرام غذا سے پلا بڑھا ہو ۔  (کنز العمال، کتاب البیوع، قسم الاقوال، ۲ / ۸ ، الحدیث :  ۹۲۵۷، الجزء الرابع)

(3)… تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا : ’’اے سعد ! اپنی غذا پاک کر لو! مُستَجابُ الدَّعْوات ہو جاؤ گے ، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی جان ہے ! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زیادہ بہترہے ۔ (معجم الاوسط، من اسمه :  محمد، ۵ / ۳۴، الحدیث :  ۶۴۹۵)

(4)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے ، اس کے بال پَراگندہ اور بدن غبار



Total Pages: 97

Go To