Book Name:Aey Iman Walo (89 Ayat e Qurani)

            حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ایک دن اور ایک رات سرحد کی حفاظت کرنا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے ، حفاظت کرنے والا اگر مر گیا تو اس کے اِس عمل کا اجر جاری رہے گا اور وہ فتنۂ قبر سے محفوظ رہے گا ۔

(مسلم، کتاب الامارة، باب فضل الرباط فی سبیل اللّٰه عزوجل، ص ۱۰۵۹، الحدیث :  ۱۶۳(۱۹۱۳))

سورۃ النساء

(19)

عورتوں کا زبردستی وارث بننے اور ان کے مہر پر قبضہ جمانے کی جاہلانہ رسم کا خاتمہ گھروں کو امن کا گہوارا بنانے کیلئے ایک بہت عمدہ طریقہ

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  یَحِلُّ  لَكُمْ  اَنْ  تَرِثُوا  النِّسَآءَ  كَرْهًاؕ-وَ  لَا  تَعْضُلُوْهُنَّ  لِتَذْهَبُوْا  بِبَعْضِ   مَاۤ  اٰتَیْتُمُوْهُنَّ  اِلَّاۤ  اَنْ  یَّاْتِیْنَ  بِفَاحِشَةٍ  مُّبَیِّنَةٍۚ-وَ  عَاشِرُوْهُنَّ  بِالْمَعْرُوْفِۚ-فَاِنْ  كَرِهْتُمُوْهُنَّ  فَعَسٰۤى  اَنْ  تَكْرَهُوْا  شَیْــٴًـا  وَّ  یَجْعَلَ  اللّٰهُ  فِیْهِ  خَیْرًا  كَثِیْرًا(۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان :  اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور عورتوں کو اس نیت سے روکو نہیں کہ جو مہر تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو سوائے اس صورت کے کہ وہ کھلی بے حیا ئی کا ارتکاب کریں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو پھر اگر تمہیں وہ ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے ۔ (النسآء : ۱۹)

( لَا  یَحِلُّ  لَكُمْ  اَنْ  تَرِثُوا  النِّسَآءَ  كَرْهًاؕ- : تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ ۔) اسلام سے پہلے اہلِ عرب کا یہ دستور تھا کہ لوگ مال کی طرح اپنے رشتہ داروں کی بیویوں کے بھی وارث بن جاتے تھے پھر اگر چاہتے تو مہر کے بغیر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کردیتے اور ان کا مہر خود لے لیتے یا انہیں آگے شادی نہ کرنے دیتے بلکہ اپنے پاس ہی رکھتے تاکہ انہیں جو مال وراثت میں ملا ہے وہ اِن لوگوں کو دیدیں اور تب یہ ان کی جان چھوڑیں یا عورتوں کو اس لئے روک رکھتے کہ یہ مرجائیں گی تو یہ روکنے والے لوگ ان کے وارث بن جائیں ۔  الغرض وہ عورتیں ان کے ہاتھ میں بالکل مجبور ہوتیں اور اپنے اختیار سے کچھ بھی نہ کرسکتی تھیں اس رسم کو مٹانے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی گئی ۔

 (بخاری، کتاب التفسیر، باب لا یحلّ لکم ان ترثوا النساء کرهًا، ۳ / ۲۰۳، الحدیث :  ۴۵۷۹، تفسیر قرطبی، النساء، تحت الاٰية :  ۱۹، ۳ / ۶۷، الجزء الخامس، ملتقطاً)

( لِتَذْهَبُوْا  بِبَعْضِ   مَاۤ  اٰتَیْتُمُوْهُنَّ  : تاکہ جو مہر تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو ۔ )حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا یہ آیت اُس شخص کے متعلق ہے جو اپنی بیوی سے نفرت رکھتا ہو اور اُس کے ساتھ بدسلوکی ا س لئے کرتا ہو کہ وہ پریشان ہو کر مہر واپس کردے یا مہر معاف کردے ، اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ۔  ایک قول یہ ہے کہ لوگ عورت کو طلاق دیتے پھر رجوع کرلیتے پھر طلاق دیتے اس طرح عورت کو مُعَلَّق (لٹکا ہوا) رکھتے تھے ، وہ نہ ان کے پاس آرام پاسکتی نہ دوسری جگہ شادی کر کے گھر بسا سکتی، اس کو منع فرمایا گیا ۔ )خازن، النساء، تحت الاٰية :  ۱۹، ۱ / ۳۶۰)

بیویوں پر ظلم وستم کرنے والے غور کریں  :

            یہاں جو حالات زمانہ ِجاہلیت کے بیان کئے جارہے ہیں ان پر غور کریں کہ کیا انہی حالات پر اِس وقت ہمارا معاشرہ نہیں چل رہا ۔  بیویوں کو تنگ کرنا، جبری طور پر مہر معاف کروانا، ان کے حقوق ادا نہ کرنا، ذہنی اَذیتیں دینا، کبھی عورت کو اس کے ماں باپ کے گھر بٹھا دینا اور کبھی اپنے گھر میں رکھ کر بات چیت بند کردینا، دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کرنا، لتاڑنا، جھاڑنا وغیرہ ۔  عورت بیچاری شوہر کے پیچھے پیچھے پھر رہی ہوتی ہے اور شوہر صاحب فرعون بنے آگے آگے جارہے ہوتے ہیں ، عورت کے گھر والوں سے صراحتاً یا بیوی کے ذریعے نت نئے مطالبے کئے جاتے ہیں ، کبھی کچھ دلانے اور کبھی کچھ دلانے کا ۔  الغرض ظلم و ستم کی وہ کون سی صورت ہے جو ہمارے گھروں میں نہیں پائی جارہی ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ کرے کہ قرآن کی یہ آیتیں ان لوگوں کو سمجھ آجائیں اور وہ اپنی اس بری رَوِش سے باز آ جائیں ۔ نیز ان آیات کی روشنی میں وہ لوگ بھی کچھ غور کریں جو اسلام سے شرمندہ شرمندہ سے رہتے ہیں اور ڈھکے چھپے الفاظ میں کہتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں پر بہت سختیاں ہیں ۔  وہ دیکھیں کہ اسلام میں عورتوں پر سختیاں کی گئی ہیں یا انہیں سختیوں سے نجات دلائی گئی ہے ؟

(  فَعَسٰۤى  اَنْ  تَكْرَهُوْا  شَیْــٴًـا  : توہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو ۔ ) گھروں کو امن کا گہوارا بنانے کیلئے ایک بہت عمدہ نفسیاتی طریقہ بیان کیا جارہا ہے  ۔  بیوی کے حوالے سے فرمایا کہ اگر بدخُلقی یا صورت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے عورت تمہیں پسند نہ ہو تو صبر کرو اور بیوی کو طلاق دینے میں جلدی نہ کرو کیونکہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی بیوی سے تمہیں ایسی اولاد دے جو نیک اور فرماں بردار ہو، بڑھاپے کی بیکسی میں تمہارا سہارا بنے ۔

مثبت ذہنی سوچ کے فوائد :

            یہ طریقہ صرف میاں بیوی کے تعلقات میں نہیں بلکہ زندگی کے ہزاروں معاملات میں کام آتا ہے ۔ اس طریقے کو ’’مثبت ذہنی سوچ‘‘ کہتے ہیں یعنی اگر کسی کام یا چیز



Total Pages: 97

Go To