Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

کی قبر کو دیکھ کر اپنی موت  یاد کروں گا، انہیں سَلام عرض کروں گا اور ان کے وسیلے سے دُعا مانگوں گا ۔      

کیا شادی کا کھانا ویٹر کھاسکتے ہیں؟

سُوال : کیا شادى کا کھانا ویٹر کھا سکتے ہیں؟ (شادی ہال کے ایک مُلازم کا سُوال)

جواب : (اِس موقع پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب  بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے اِرشاد فرمایا : )ىہ عُرف پر ہے کہ جہاں جہاں شادی ہال کے مُلازمین کے اِس طرح کھانے کا رَواج ہو تو وہاں کھانے کی اِجازت ہو گى ورنہ نہیں مگر اس مىں بہتر طرىقہ یہی ہو گا کہ مالک سے صَراحتاً اِس بات کى اِجازت لے لى  جائے ۔  (اِس پر امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا : )چونکہ شادی میں پکنے والا کھانا بعض اوقات بڑا قىمتى ہوتا ہے  لہٰذا مالِک سے اِجازت لینے کی صورت میں یہ سُوال کے زُمرے میں آئے گا ۔ (مفتی صاحب نے مزید فرمایا : )یہ سُوال کے زُمرے میں آئے گا اور جہاں ذِلَّت کى صورت بنے گى تو وہاں اِس طرح سُوال کى اِجازت  بھی نہىں ہو گى ۔   

شادی ہال کے مُلازمین کا اپنے لیے کھانا نکال لینا کیسا؟

سُوال :  بعض شادی ہالوں میں یہ طریقہ ہوتا ہے کہ کھانا وغىرہ کِھلا دىنے کے بعد جو بچ جاتا ہے آخر مىں مُلازمین بىٹھ کر کھا لىتے ہىں ۔  مالِک بھى انہیں کھاتے دىکھ کر کوئی اِعتراض نہیں کرتا ۔  لىکن بہت سے مقامات پر مُلازمین پہلے سے اپنے لىے اچھا اور بہتر کھانا نکال کر رکھ لىتے ہىں اور بعض مقامات پر کھانا چورى بھى کیا جاتا ہے  ایسا کرنا کیسا ہے ؟ 

جواب : شادی پر کھانا مَخصُوص اَفراد کے لىے بنوایا جاتا ہے اور اِس میں یہ اِہتمام بھی ہوتا ہے کہ ضَرورت سے کچھ زائد ہو تاکہ کم نہ پڑے ۔ لیکن  کسى کا دِل چھوٹا ہوتا ہے تو کسى کا بڑا، اب چھوٹے دِل والابھی اِجازت مانگنے پر شاید نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں بول دے کہ اِنکار کی ہمت نہ کر سکے ۔  عافىت اِسی میں ہے کہ بندہ اِجازت ہو یا بِلااِجازت کسی کے کھانے کا اىک دانہ بھى مُنہ مىں نہ ڈالے ۔  شادی ہال کا مُلازم اپنى تنخواہ تو لے ہى رہا ہے ۔ اب عمدہ کھانے دیکھ کر دِل لَلچائے تو صَبر کرے اور نَفسانی خواہشات کو دَبائے اِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اَجر کمائے گا ۔  بہرحال ىقىنى طور پر تو مجھے معلوم  نہىں ہے کہ آىا مُلازمىن یہ کھانا کھا سکتے ہىں ىا نہیں لیکن شُبہ والى چىز سے  بھی بچنا چاہیے  ۔  

اگر مُلازمین شروع مىں عُمدہ چىزىں چُھپا کر لے لىں تو ظاہر ہے کہ مالِک کبھى بھى اسے پسند نہىں کرے گا ۔  چھپا کر لىنا ہى بتا رہا ہے کہ اگر وہ دىکھ لے گا تو اِعتراض کرے گا ۔ بہرحال مالِک سے چھپا کر لىنا بالکل بھی صحىح نہىں  ۔

مَیِّت کی ڈولی کو خالی اُٹھانا کیسا؟

سُوال : مَىِّت کو دَفنانے کے بعد ڈولی کندھے پر اُٹھا کر لانا کیسا؟ بعض لوگ منع کرتے ہیں کہ خالى ڈولی کندھے پر نہىں لے جا سکتے ، کیا اِس کی کوئى شرعى حىثىت ہے ؟

جواب : کندھوں پر خالی ڈولی  رکھنے مىں کوئى حَرج نہىں ہے لہٰذا ڈولی نکالنے کے لیے کندھے پر رکھىں یا سر پر یا خالى ہاتھوں سے اُٹھا کر لے چلىں سب  صورتیں جائز ہیں ۔   

مَیِّت کی  ڈولی  کو خالی اُٹھاکر مَزاح بنانا کیسا؟ 

سُوال : اگر خالى ڈولی اُٹھانے مىں کوئى مَزاح والى فضا بنتى ہو  مثلاً  خالی ڈولی دو بندے اُٹھا سکتے ہىں لیکن چار بندے اُٹھاکر اىسا تأثر دینا چاہتے ہیں کہ گوىا اس پر مَىِّت رکھى ہوئى ہے تو اس کا کىا حکم  ہے ؟

جواب : خالی ڈولی اُٹھاتے وقت چادر ہٹا لى جاتى ہے  ۔ پھول بھى اُٹھالىے جاتے ہیں ۔  اب خالى ڈولی کو چار بندے کندھے پر اُٹھائىں اور وہاں مذاق مسخرى کا ماحول بنے تو اىسا ہونا مشکل ہے اس لیے کہ ابھی ابھی قبرستان میں اس ڈولی سے مَیِّت نکالی گئی ہے ۔ البتہ اگر کسی جگہ ڈولی کو اُٹھانے سے واقعی مذاق کى صورت بن رہی ہو  تو اب دُرُست نہیں  ۔   

ڈکار آنے پر کیا پڑھا جائے ؟

سُوال : ڈکار آنے پر اَسْتَغْفِرُ اللہ کہنا ٹھىک ہے ىا بِسْمِ اللہ پڑھنی چاہىے ؟

جواب : ڈکار آنے  پر اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہنا چاہىے کىونکہ ىہ معدے کى گندى ہوا ہے ىعنى اىک طرح کی خرابى ہے جو پىٹ سے نکل گئى، اِس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہیں ۔ ([1])

 



[1]     حدیثِ پاک میں ہے  : جسے چھینک یا ڈکار آئے یا جو (دوسرے کی) چھینک یا ڈکار سنے اور ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَلٰی کُلِّ حَالٍ  مِّنَ الْحَالِ“کہے تو اللہ پاک اس سے ستر (70) بیماریاں دُور فرمائے گا، جن میں سب سے ہلکی بیماری جُذام (یعنی کوڑھ) ہے ۔  (فوائد ابن الصلت، ص۶۳، حدیث : ۲۹ دارالبشائر بیروت) 



Total Pages: 11

Go To