Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

یہ بہت مہنگا ہوتا  ہے ۔  آجکل عُود کے نام پر طرح طرح کی لکڑیاں ملتی ہیں جنہیں کیمیکل کے عطر  میں بِھگو کر رکھا جاتا ہے جس کے باعِث وہ خشبودار بن جاتی ہیں اور پھر لوگ انہیں خرید کر مسجد میں جَلاتے ہیں  ۔ اِسی  طرح خوشبو کے لیے  لوگ ان لکڑیوں کا بُرادہ بھی جَلاتے ہیں ۔ اگرچہ خوشبو کے لیے خود ان لکڑیوں اور ان کے بُرادے کو جَلانا جائز ہے مگر خوشبو ایسی ہونی چاہیے کہ جس سے لوگوں کو  تکلیف نہیں بلکہ راحت پہنچے ۔  مَساجد کی  طرح مَزارات اور جہاں مسلمانوں کا مجمع یا اِجتماع ہو وہاں بھی جائز طریقے پر خوشبو کا اِہتمام کیا جا سکتا ہے بلکہ  اگر یہ اچھی نیت سے ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ثواب بھی ملے گا ۔  

خوشبو کے لیے گُلاب کا پانی چِھڑکنا کیسا ؟

سُوال : خوشبو کے لیے گلاب کا پانی چِھڑکنا کیسا ہے ؟([1])

جواب : خوشبو حاصِل کرنے کے لیے بعض لوگ گلاب کا پانی چِھڑکتے ہیں مجھے اس سے اِختلاف ہے کیونکہ یہ تجربے کی بات ہے  کہ محفلوں میں   گُلاب کا پانی چھڑکنے والے بسااوقات مُنہ پر  چھڑکتے ہیں جس سے لوگوں کو راحت نہیں، تکلیف ہوتی ہے ۔  وہ کام کیا جائے کہ جس سے کسی مسلمان  کو تکلیف نہ ہو یہاں تک کہ اگر اىک ہزار (1000)اَفراد کو آپ کى خوشبو سے مَزہ آ رہا ہے اور اىک کہتا ہے کہ مجھے تکلیف ہو رہی ہے تواسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ  کیونکہ سب کو فائدہ ہوتا ہے اورصِرف  تمہیں تکلیف ہوتی ہے بلکہ اگر نو سو ننانوے (999)اَفراد کو فائدہ پہنچانے میں ایک کو تکلیف پہنچتی ہو تو پھر  اس ایک کو تکلیف سے بچانے کے لیے اسی کی رِعایت کریں گے اور بقیہ سب کو اس ہلکی پھلکی راحت سے محروم کرنا پڑے گا ۔ دیکھیے !بندہ  رات دِن تو  خوشبوؤں مىں ڈبکىاں نہىں لگا رہا ہوتا کہ خوشبو کے بغیر نہ  رہ پائے اور اَب اس کو جو  مُفت کی خوشبو آ رہی ہے اُسے آنے دیا جائے بھلے دوسرے مسلمان کو اس سے تکلیف ہو رہی ہو  ۔  یاد رَکھیے ! مسلمان کو تکلیف پہنچانے کے بھی شرعی اَحکام ہیں اور اگر کسی کو واقعی اَذیت پہنچائی گئی ہو تو اس کا حکم گناہِ کبیرہ تک جا پہنچتا ہے  ۔  

عطر لگاتے ہوئے اپنی طرح دوسروں کا بھی خیال کیجیے

جب بندہ اپنے آپ کو عطر لگاتا ہے تو ہاتھ پر تھوڑی سی لگاتا ہے ، اپنے کپڑوں کا بھی خیال رکھتا ہے اور اگر سفید کپڑے ہوں تو یہ بھی  دیکھتا ہے کہ عِطر لگانے سے ان پر دَھبّا تو نہیں پڑ جائے گا یہاں تک کہ دَھبّے سے بچنے کے لیے بے رنگ عِطر اِستعمال کرتا ہے ۔ جب  عِطر اِستعمال کرتے ہوئے اپنے لیے اتنی اِحتیاطیں بَرتی جاتی ہیں تو پھر  عوام کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا؟ اِسی طرح میں نے کسی کو  اپنے اوپر عِطر کی پوری شیشی چِھڑکتے  نہیں دیکھا تو پھر  دوسروں پر کیوں چِھڑکی جاتی ہے  ۔    

دَورانِ طواف وسعی خوشبو لگانا کیسا؟

سُوال : کچھ لوگوں میں  عِطر کی شیشی ہاتھ میں پکڑ کر  عطر لگانے کا بڑا جَذبہ ہوتا ہے ، اِس سلسلے میں میرے ساتھ ایک  عجیب  واقعہ پیش آیا کہ ایک بار  میں  مکۂ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً مىں سَعى کر رہا تھا تو دَورانِ سَعی میں نے ایک بابا جی کو  دیکھا کہ جن کے ہاتھ میں عِطر کی شیشی تھی اور  وہ اس شیشی کو ہاتھ میں پکڑ کر ہر آنے  جانے والے کو عِطر  لگا رہے تھے ، جب مىرى باری آئی  تو میں نے بھی  غىر شُعورى طور پر اپنا  ہاتھ آگے کر دیا  مگر پھر مجھے اچانک  ىاد آىا کہ میں حالتِ اِحرام مىں ہوں تو میں نے  اپنا ہاتھ پىچھے کر لیا  اور اس بڑی عمر کے  بزرگ سے  کہا :  آپ یہ  کىا کر رہے ہىں ؟ىہ جتنے عمرہ کرنے والے سَعی کر رہے  ہىں سب اِحرام مىں ہىں اور آپ  سب کو خوشبو لگا رہے ہىں! آپ کے عِطر لگانے سے نہ جانے کتنوں پر دَم واجب  ہو جائے گا اور نہ جانے کتنوں پر جُرمانہ واجِب  ہو جائے گا تو یُوں عوام کو یہ  بھی پتا نہیں ہوتا کہ کب اور  کہاں عِطر لگانا ہے ؟اِس حوالے سے راہ نمائی فرما دیجیے ۔   (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال )

جواب : سَعی میں بھی ہر ایک اِحرام  والا نہیں ہوتا مثلاًطوافُ الزِّیارۃ کے بعد اگر کوئی سَعی کرتا ہے وہ اس وقت اِحرام میں نہیں ہوتا ۔ ([2]) بہرحال یہ کہ  مکہ شریف زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں کسی کو عِطر نہیں لگانا چاہیے ۔  اسلامی بہنیں بھی مکہ شریف میں خوشبو لگاتی ہوں گی اور انہیں پتا بھی نہیں چلتا ہو گا کہ کونسی اسلامی بہن اِحرام میں ہے  اور کونسی نہیں کیونکہ ان کا حالتِ اِحرام میں بھی حَسبِ معمول لباس ہوتا ہے  ۔ فی زمانہ معلومات کی بہت  کمی ہے اگر مَدَنی چینل گھر گھر میں عام ہو جائے  تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  بہت سی نیکیوں کا ذَخیرہ اور گناہوں سے بچنے کا سامان  ہوتا رہے گا ۔      

مَزار شریف پر حاضِری کی نیت

سُوال : مزار شریف پر حاضِری دیتے ہوئے کیا نیت کی جائے ؟(SMS کے ذَریعے سُوال)  

جواب : اگر وہ کسی وَلِیُّ اللہ  کا مَزار ہے تو اِس طرح کی نیتیں کی جا سکتی ہیں کہ میں ان سے فیض اور بَرکت حاصِل کروں گا ، انہیں اِیصالِ ثواب  کا تحفہ پیش کروں گا، ان



[1]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے  ۔   (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]    27 واجباتِ حج اور تفصیلی اَحکام، ص ۶۲ ما خوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی



Total Pages: 11

Go To