Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

سُوال  : اگر کسی اسلامی بہن  کى نماز سفر کى حالت مىں قضا ہو گئى تو اب اگر وہ اُسے اپنے گھر پر ادا کرے تو پوری پڑھے گی  یا قصر کرے گی ؟

جواب : سفر مىں جو نماز قضا ہوئى اگر وہ  حَضَر مىں پڑھی  ىعنى جہاں گھر وغىرہ ہے وہاں پڑھی جب بھى وہ قصر والى ہى قضا پڑھی جائے گی اور  اگر حَضَر کى نمازىں قضا تھىں جىسا کہ  گھر مىں تھے اور نمازیں قضا ہوئیں تو  اب اگر انہیں  سفر کے دَوران پڑھیں  گے تو پورى پڑھنا ہوں گى  ۔ ([1])   

میاں بیوی ایک دوسرے کا جُوٹھا کھا  پی سکتے ہیں؟

سُوال  : کیا  بىوى شوہر کی جُوٹھی چائے پى سکتى ہے ؟

جواب : دونوں اىک دوسرے کا جُوٹھا پى سکتے ہىں  ۔    

لڑکیوں کا بال کھول کر باہر جانا کیسا؟

سُوال  : کیا لڑکىوں کو بال کھول کر باہر جانا جائز ہے ؟

جواب : عورت کے  بال بھى عورت (یعنی چھپانے کی چیز) ہیں ۔ ([2]) جب عورت  بالغہ ہو گئى تو اب  اسے غىر مَردوں سے اپنے با ل  چھپانا فرض ہے اور اس کے بال بھى پَردے کے حکم  مىں شامل ہیں اگر وہ  انہیں غىر مَردو ں کے سامنے ظاہر کرے گى تو  گناہ گار ہو گى ۔ ([3])

کیا اسلامی بہنیں مَدَنی بیگ  اِستعمال کر سکتی ہیں؟ 

سُوال : جو مَدَنی بیگ اسلامى بھائى اِستعمال کرتے ہیں کیا اسلامی بہنیں وہ مَدَنی بیگ  اِستعمال کر سکتی ہیں ؟  

جواب : ہم نے  مَدَنی بیگ اسلامی بھائیوں کے لیے بطورِ مشورہ  جاری کیے تھے ، اسلامی بہنیں بھی  رکھ سکتی ہیں کیونکہ یہ مَدَنی بیگ نہ تو  مَردوں کے لیے مَخصُوص ہے اور نہ ہی  اس میں مَردوں سے مُشابَہت ہے  ۔  مُشابَہت تب پائی جاتی ہے کہ جب کوئی چیز مَردکے لیے اس طرح  مَخصُوص ہو کہ اگر کوئی عورت اسے اِستعمال کرے تو یُوں لگے کہ اس نے مَرد والا اَنداز اِختیار کیا ہوا ہے ۔  بعض چىزىں ایسی  ہوتى ہىں کہ جو مَرد اور عورت دونوں اِستعمال کر رہے ہوتے ہیں اور وہ  کسی ایک  کے لىے مَخصُوص نہىں ہوتیں  تو اس طرح کی چیزوں کا اِستعمال  مَرد و عورت  دونوں کے لىے جائز ہوتا  ہے  ۔  بعض چیزیں دونوں میں سے کسی ایک کے  ساتھ  مخصوص ہوتی  ہىں مثلاً عورت کا پَرس کہ اگر اسے  مَرد لے کر نکلے گا تو لوگ اس پر  ہنسىں گے اور کہیں گے کہ  ىہ تو عورتوں کى نَقّالى کر رہا ہے ۔  ایسی مَخصُوص چیزوں کے اِستعمال میں مَرد کو  عورت کی اور عورت کو مَرد کی مُشابَہت اور نَقّالی سے بچنا ہو گا ۔  

لڑکیوں کا خوشبو لگانا کیسا؟

سُوال : کیا لڑکیاں خوشبو لگا سکتی ہیں ؟

جواب : جو لڑکی بالغہ ہے  اس کے لیے بہتر یہی  ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں  ”ایسی  خوشبو لگائے کہ جس کا رنگ تو ظاہر ہو مگر اس کى خوشبو نہ  پھىلے ۔ “([4]) اور اگر خوشبو  پھیلتی ہے مگر نامحرموں  تک نہىں جاتی  تو بھی حرج نہىں ہے ۔  بہرحال  اگر بالغہ  گھر میں بھی خوشبو لگائے تو اُسے  اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ وہ نامحرم تک نہ پہنچنے پائے ۔ (امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) اِسی طرح وہ بچیاں بھی خوشبو لگانے میں اِحتیاط کریں کہ جو بالغ ہونے کے قریب ہیں ۔ (امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِرشاد فرمایا : )اىسى لڑکىاں جو بُلُوغَت کے قرىب نہىں ہوتیں مگر ان کا کافی  قد کاٹھ ہوتا ہے اور اگر ىہ خوشبو لگا کر نکلىں تو مَرد اُن  کى طرف کَشِش کھائیں تو اِن کا بھی خوشبو لگا کر باہر نکلنے سے بچنا اچھا ہے ۔   

اَوراد و وَظائِف اپنے پیر کی اِجازت سے ہی  پڑھیے

سُوال : جو وَظائِف سوشل میڈیا پر شیئر کیے جاتے ہیں ان کا پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟ (ویب سائٹ کے ذَریعے سُوال)

جواب : اَوراد و وَظائِف اپنے شیخ (یعنی پیر صاحب)کی اِجازت سے پڑھنا مُفید ہوتا ہے ۔  نیٹ کے ذَریعے معلوم ہونے والے وَظائف کو پڑھنے سے کتنوں کا کُونڈا (یعنی نقصان)بھی ہو جاتا ہو گا کیونکہ وَظائف کی اپنی تاثیر ہوتی ہے ان کی تعداد وغیرہ بھی مَخصُوص ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات ان کے کرنے والوں کو کچھ چیزوں سے پرہیز بھی کرنی  ہوتی ہے  جیسے تَرکِ جَمالی اور تَرکِ جَلالی وغیرہ ۔ ان مُعاملات میں بندہ مار بھی  کھاسکتا ہے اور ایسے اَوراد  جن میں تَرکِ جَلالی اور تَرکِ جَمالی والا



[1]    رد المحتار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲ / ۶۵۰ دار المعرفة  بيروت

[2]    فتاویٰ رضویہ ، ۷ / ۲۹۸ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

[3]    بہارِ شریعت، ۱ / ۶۲۶، حصہ : ۳  ماخوذاً 

[4]    حدیثِ پاک میں ہے  : مَردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو اور رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے ، جس میں رنگ ہو، بو نہ ہو ۔  (ابو داود، کتاب اللباس، باب فی ما کرھه، ۴ / ۶۸، حدیث :  ۴۰۴۸  دار احیاء التراث العربی بیروت)



Total Pages: 11

Go To