Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

مکروہِ تَنزیہی یا مکروہِ تَحریمی ہوتی ہے ۔ اسلامی بہنوں کو  چاہیے کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِری کے آداب کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اچھے اور عُمدہ کپڑے پہن کرنماز پڑھیں   ۔   

نماز پڑھتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے کا شرعی حکم

سُوال : نماز پڑھتے ہوئے اگر  نگاہىں اِدھر اُدھر ہو جائىں تو کیا  نماز ہو جائے گى ؟

جواب : نماز مىں آنکھوں کے کونوں سے اِدھر اُدھر دیکھنا جسے کَن اَنکھیوں سے دیکھنا کہتے ہیں یہ مکروہِ تَنزیہی ہے اور چہرہ گھما کر دیکھنا مکروہِ تَحریمی ہے اور کسی صحیح ضَرورت کے تحت آنکھیں گھما کر دیکھا جائے تو اِس میں  گنجائش ہے (یعنی حَرج نہیں ہے ) ۔ ([1])

سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو شافعِ اُمَم کہنے کی وجہ

سُوال : پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو شافع ِ اُمَم کیوں کہا جاتا ہے ؟

جواب : اُمَم”اُمَّت“کی جمع ہے اور”شافِع“کے معنیٰ شَفاعت کرنے والا، چونکہ ہمارے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بروزِ قیامت تمام اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کے  اُمَّتیوں  کى شَفاعت فرمائیں گے ۔ ([2])اِس لیے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو ”شافعِ اُمَم“ کہا جاتا ہے ۔  یاد رَکھیے ! بروزِ قیامت شَفاعتِ کُبریٰ کا دَروازہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ہاتھوں ہی کُھلے گا ۔ ([3]) اور سب سے پہلے آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہی شَفاعت فرمائیں گے ۔  ([4]) اور پھر دوسروں کو شَفاعت کی اِجازت ملے گی  ۔  

نماز میں مُسکرانا کیسا؟

سُوال :  کیا نماز میں مُسکرانے سے نماز ٹوٹ جائے گی؟

جواب :  شرعی مسئلہ ىہ ہے کہ اگر کوئی رُکوع و سجود والی  نماز مىں مُسکرایا   تو نہ اس کی  نماز ٹوٹے گى اور نہ ہی  وُضو ٹوٹے گا اور اگر اتنى آواز سے ہنسا  کہ ہنسنے کی آواز  خود اس نے اپنے کانوں سے سُنى تو اِس صورت میں اس کى نماز ٹوٹ جائے گی مگر  وُضو نہیں ٹوٹے گا  اور اگر قہقہہ  لگاىا تو نماز بھی ٹوٹ جائے گی اور وُضو بھی ٹوٹ جائے گا ۔  اگر ایسی نماز میں قہقہہ لگاىا کہ جس میں سجدہ نہیں ہے (جیسے نمازِ جنازہ)  تو اس صورت میں  صِرف  نماز ٹوٹے گی  وُضو باقى رہے گا ۔  نیز نابالغ کا قہقہہ نہ تو  اس کا وُضو توڑے گا اور نہ ہی نماز ([5]) ۔  ([6])

”ہمارا نصیب ہی خراب ہے “کہنا کیسا؟

سُوال : بعض اسلامى بہنىں ىہ کہتى ہىں کہ ہمارا نصىب ہى خراب ہے ، اُن کا اِس طرح کہنا کیسا ہے ؟

جواب : اسلامی بہنوں کو یہ کیسے پتا چلا کہ اُن کا نصیب خراب ہے ؟لہٰذا اُنہیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہمارا نصیب ہی خراب ہے  ۔  یاد رَکھیے ! زندگی کی گاڑی مَسائل کے پہیّوں پر ہی چلتی ہے اور زندگی میں کچھ نہ کچھ مَسائل تو ہوتے ہی رہتے ہیں البتہ کسی کے ساتھ کم اور کسی کے ساتھ زیادہ ہوتے ہیں تو اب  اِن مَسائل کو اپنی قسمت پر نہ ڈالا جائے ۔ بعض اوقات یہ مَسائل خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت ہوتے ہیں یعنی  خود اپنى کوتاہىاں ہوتى ہىں اور خود اپنا ذہن نہیں بنا ہوا ہوتا تو  اس وجہ سے اسلامى بہنىں خود اپنے ہاتھوں  مصیبتیں پالتى ہىں اور  پھر نصىبوں کو کُوٹتی ہیں کہ ہمارے نصیب خراب ہیں ۔  گلہ شِکوہ کرنے کے بجائے اللہ پاک کی رِضا پر راضی رہنا چاہیے ۔  اگر پریشانیاں تنگ کرتی ہوں تو ہر نماز کے بعد کم اَز کم گیارہ مرتبہ”یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ“پڑھ لىا کرىں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قسمت اچھى ہو جائے گی اور اللہ پاک کے نام کے وِرد سے  فائدہ ہو گا ۔  جب بھی کوئی وِرد  وَظیفہ کریں تو اوّل و آخر اىک بار ىا تىن بار دُرُود شرىف پڑھ لیا کریں کہ دُرُودِ پاک کی بڑی بَرکتیں ہیں  ۔

 



[1]    بہارِ شریعت، ۱ / ۶۲۶، حصہ : ۳  ماخوذاً 

[2]    المعتقد المنتقد، معنی صلی اللہ تعالٰی علیه وسلم : انا صاحب شفاعتھم، ص ۱۲۷ برکاتی پبلیشرز باب المدینه کراچی

[3]    بہارِ شریعت، ۱ / ۷۰، حصہ : ۱

[4]    مسلم، کتاب الفضائل، باب تفضیل نبینا علٰی جمیع الخلائق، ص۹۶۲، حدیث : ۵۹۴۰ دار الکتاب العربی بیروت

[5]    فتاویٰ ھندیة، کتاب الطھارة، الباب الاول فی الوضوء، الفصل الخامس، ۱ / ۱۲ دار الفکر بیروت

[6]    فقہائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کے نزدیک اِس طرح ہنسنا کہ صِرف دانت ظاہر ہوں آواز پیدا نہ ہو یہ”تبَسُّم“ہے اور اِس طرح ہنسنا کہ تھوڑی آواز بھی پیدا ہو جو خود سُنی جائے دوسرا نہ سُنے تو یہ ”ضِحْك“ہے اور اِس طرح ہنسنا کہ زیادہ آواز پیدا ہو کہ دوسرا بھی سُنے اور مُنہ کھل جائے تو یہ ’’قَہْقَہَہ‘‘ہے ۔ نماز  میں تبسم کرنے سے نہ نماز جائے نہ وُضو، ہنسنے سے نماز جاتی رہے گی اور قَہْقَہَہلگانے سے نماز اور  وُضو دونوں جاتے رہتے ہیں ۔

(مِراٰة المناجیح ، ۶ / ۴۰۱ ملخصاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)



Total Pages: 11

Go To