Book Name:Bachon Ki Zid Khatam Karnay Ka Wazifa

یوں  گھر  ىا باہر سگرىٹ پھونکنے والا  دوسروں کو بھى نقصان پہنچاتا ہے ۔  مىڈىکل پوائنٹ آف وىو پر بعض بىمارىاں ساتھ والوں کو بھی لگ سکتی ہیں ۔ ([1]) یہی وجہ ہے کہ  اىئرپورٹ وغىرہ پر سگرىٹ پىنے والوں کے لىے الگ کیبن بنائے جاتے ہىں ۔  اب کیبن میں سگرىٹ پىنے والا اپنا بھى دُھواں لے رہا ہوتا ہے اور دوسرے لوگ جو کیبن مىں بىٹھ کر سگرىٹ پى رہے ہوتے ہىں ان کا دُھواں بھى اندر لے رہا ہوتا ہے اور یہ زیادہ بیمار کرنے والی صورت ہے ۔  اُمَّت کی  خىر خواہى کے جَذبے کے تحت عرض کر رہا ہوں کہ آپ جو سگرىٹ پى رہے ہىں اس سے آپ کو  تو نقصان ہو رہا ہے کہ ىہ کىنسر اور بہت سارى بىمارىوں کا سبب ہے لىکن اگر آپ اپنے گھر مىں سگرىٹ پى رہے ہىں تو ىہى سگرىٹ کا دُھواں آپ کے بچوں ، بچوں کى امى اور آل فىملى ممبر کو بھی بیمار کر سکتا ہے لہٰذا اپنے آپ پر اور گھر والوں پر بھى رحم کیجئے اور سگریٹ نوشی چھوڑ دیجیے ۔

سگریٹ نوشی سے پیسے کی بَربادی

       سگریٹ نوشی سے پیسے کی بھی بَربادی ہے لہٰذا اپنے پىسوں کو بچانا چاہیے ۔ اگر کسی کو بولا جائے کہ 50 کے نوٹ کو آگ لگاؤ تو  کبھی نہىں لگائے گا لیکن سگریٹ نوشی کی صورت میں پىسے بھى ضائع ہو رہے ہىں اور طبىعت بھى خراب ہو رہى ہے اور نتیجے میں کوئی اس کا Benefit(یعنی فائدہ) بھی نہىں ۔  ىہ ایسی پروڈکٹ ہے جس مىں بنانے والے پر قانوناً لازم ہوتا ہے کہ اس پر لکھے : مىرى پروڈکٹ اِستعمال کرنے سے آپ مَر سکتے ہیں، آپ کو کینسر ہو سکتا ہے ۔ سگریٹ کی ڈبیہ پر یہ لکھتے بھی ہیں کہ  اس سے مُنہ کا کینسر ہو سکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ کمپنی والوں کو بھی پتا ہے کہ ڈِبىہ پر جو چاہے لکھ دو، اىک بار کسی کو سگریٹ نوشی کی لَت پڑ گئی تو اس نے چھوڑنی نہىں ہے ۔  

منشیات کی اِبتدا سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے

ىہ بات تجربے کى بنىاد پر کہہ سکتے ہیں کہ عموماًجو Drugs(یعنی منشیات)کے عادى بنتے ہىں ان کى پہلى سىڑھى ہى سگرىٹ ہوتی ہے کىونکہ سگرىٹ پىنے والے کے پاس ہى پھر Drugs(یعنی منشیات) کى سگرىٹ آتى ہے ۔  جتنے بھی بڑے نشے ہیں ان کے لیے فرسٹ اسٹپ سگریٹ نوشی بنتی ہے لیکن اب تو چھوٹے چھوٹے بچے سگرىٹ کے عادى بن گئے ہىں ۔  اللہ کى پناہ! اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے ۔  مىرى مَدَنى اِلتجا ہے کہ سگریٹ نوشی کو تَرک کر دیں تاکہ ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری “نہ سگرىٹ کى عادت ہو گی اور  نہ Drugs(یعنی منشیات)  کى طرف جائىں گے  ۔  

       (اِس پر امیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا : )کئی اور چیزیں بھی ایسی ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ نقصان دہ ہیں ۔ مىں نے اىک مُلک مىں دیکھا ہے کہ پاپے کے پىکٹ پر دِل بنا ہوتا ہے اور لکھا ہوتا ہے  : Low Risk(یعنی معمولی خطرہ) ۔  ایک اسلامى بھائى نے بتاىا کہ چھالىوں کے پىکٹ پر بھى ایسا نشان بنا ہوتا ہے کہ اس کے ذَریعے مُنہ کا کىنسر ہو سکتا ہے ۔  یہ آج کل ٹرىنڈ چل پڑا ہے ، اس سے ان ممالک کى حساسىت کا بھی پتا چلتا ہے ۔  بہرحال جو بھى نقصان دہ چىزىں ہىں ان سے ہم سب کو بچنا چاہىے ۔  

کافر کو متأثر کرنے کے لیے کون سی کتاب دی جائے ؟

سُوال : مىری ایک غیر مُسلِم سے اِسلام کے بارے مىں بات ہوئی  تو وہ کافی Impressed (یعنی متأثر) ہوا اور اِسلام کی کافى چىزوں کو Accept(یعنی قبول) کیا ۔  اس نے قرآنِ پاک پڑھنے کے لىے Translation(یعنی ترجمہ)مانگا ۔  یہ اِرشاد فرمائیے کہ غیر مُسلِم کو قرآنِ پاک کا کون سا حصہ پڑھنے کے لیے بتایا جائے جو اس کے لىے زىادہ اہم ہو؟(آسٹرىلىا سے سُوال)

جواب : قرآنِ کرىم سے پڑھ کر سمجھنا سب کے بس کا روگ نہىں ۔  اىک مسلمان بھی قرآنِ کرىم کا تَرجمہ پڑھ کر سب کچھ نہیں سمجھ پاتا تو  غیر مُسلِم کیسے سمجھے گا؟ اس میں بہت سے طوىل مَضامىن ہوتے ہیں ، ممکن ہے کہ غیر مُسلِم کو  جب سمجھ نہ پڑے تو اُ کتا کر  رکھ دے لہٰذا غیر مُسلِم کو قرآنِ پاک دینے کے بجائے عُلَمائے اہلسنَّت کى اِسلام کی حقانیت کے عُنوان پر لکھی گئی  کُتُب دى جائیں ۔ ان کُتُب مىں قرآنِ پاک اور اَحادىثِ مُبارَکہ کے حوالے ہوتے ہىں ۔  اِس لىے حکمتِ عملى ىہى ہے کہ اِبتدا سے اس کو لىا جائے اور چھوٹی کتابیں اسے  پڑھنے کے لیے دی جائیں ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامى کی بَرکت سے آئے دِن غىر مُسلِم اِسلام قبول کرتے ہىں تو ان کے لىے باقاعدہ ایسی کُتُب کی تَرکىب بنائی گئی ہے جو انہیں اِبتدا میں پڑھنے کے لیے دی جائیں ۔  

 



[1]    اسلامی پوائنٹ آف ویو سے ایک شخص کی بیماری اُڑ کر دوسرے کو نہیں لگتی ۔  حدیثِ پاک میں ہے  : لَاعَدْوٰی یعنی بیماری اُڑ کر نہیں لگتی ۔  (بخاری، کتاب الطب، باب لاعدوی، ۴ / ۴۲، حدیث :  ۵۷۷۳) مشہور مفسر، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : اہلِ عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے ، جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے  ۔  وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے ۔  یہاں اسی عقیدے کی تَردید ہے ۔  اِس معنیٰ سے مَرض کا اُڑ کر  لگنا باطل ہے مگر یہ ہو سکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا مُتَعَفَّن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تَعَفُّن سے اَثر لے کر بیمار ہو جاوے اس معنیٰ سے تَعَدّی ہو سکتی ہے ۔  اِس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو  ۔  (مراٰۃُ المناجیح ، ۶ / ۲۵۶ ملتقطاً)  



Total Pages: 11

Go To