Book Name:Haftawar Madani Halqa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ہفتہ وار مَدَنی حلقہ

حسرت والی مجلس

تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فر مانِ عالی شان ہے  : زَیِّنُوْا مَجَالِسَکُمْ بِالصَّلَاةِ عَلَیَّ فَاِنَّ صَلَاتَکُمْ عَلَیَّ نُوْرٌ لَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یعنی تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر دُرُود پڑھ کر آرَاسْتَہ کرو، بے شک تمہارا دُرُود  پڑھنا بروزِ قِیامَت تمہارے لئے نور ہوگا ۔ )[1](

پڑھتا رہوں کثرت سے دُرُود ان پہ سدا میں

اور ذِکر کا بھی شوق پئے غوث و رضا دے )[2](

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حالات بدلتے ہیں مگر دِین نہیں

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!دنیا جب سے وُجُود میں آئی ہے ، اس میں لگاتار نِت نئی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ، جو رہتی دنیا تک جاری رہے گا ۔ بِلاشبہ دنیا کے حالات ہی تبدیل نہیں ہوئے ، بلکہ ہر دَور کی ضروریات اور اس کے تقاضوں میں بھی تبدیلی آتی رہی ۔  اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ہم پیدا ہونے کے بعد آہستہ آہستہ پروان چڑھتے ہیں یہاں تک کہ بعض جوانی میں اور بعض بڑھاپے کی عمر میں پہنچ کر بِالْآخِر دنیا سے اس طرح رُخْصَت ہو جاتے ہیں، جیسے کبھی ان کا وُجُود ہی نہ رہا ہو ۔  غور کریں تو مَعْلُوم ہو گا کہ ہم بچپن میں جو چیزیں کھاتے اور پہنتے ہیں، ساری زِنْدَگی وُہی چیزیں ہماری خوراک رہتی ہیں نہ بچپن کا لباس لڑکپن اور جوانی و بڑھاپے میں زیبِ تن کئے رکھتے ہیں، بلکہ قد و قامت میں اِضافے کے ساتھ لباس تبدیل ہوتا ہے تو بَدَن کی خوراک بھی وَقْت کے ساتھ تبدیل ہو جاتی ہے ۔  یہی حال ہمارے مزاج اور سوچ کا بھی ہے کہ ان میں بھی وَقْت اور حالات کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے ۔ البتہ! جو چیز ہم سے صدیوں پہلے بھی تھی اور تاقیامِ قِیامَت رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی بھی نہ ہو گی وہ ہے ہمارا دِین ۔  کیونکہ یہ دِین کسی فرد کی سوچ کا عکاس نہیں، بلکہ یہ تو اللہ پاک کا عَطاکردہ ہے اور بندے تو مَحْض اس دِین کے داعی اور پیروکار ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ جس دور میں بھی اس دین کی شمع کی لَو ٹمٹمائی تو اللہ پاک نے اس دور میں ایسے افراد پیدا فرمائے جو نہ صرف دین کی بجھتی ہوئی شمع کے گرد  سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوئے بلکہ انہوں نے مزید اتنی شمعیں روشن کر دیں کہ ہر طرف اجالا ہی اجالا ہو گیا ۔  چُنَانْچِہ اس غَرَضْ  یعنی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کیلئے انہوں نے بیان و تقریر اور وَعْظ و نصیحت سے کام لیا ، بِلاشبہ یہ طریقہ زمانۂ قدیم سے رائج ہے اور انتہائی مُؤَثَّر بھی ہے اور اس کے مُتَعَلِّق فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ہے کہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔ ([3]) یعنی بعض کلام لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کرنے میں، لوگوں کو حیران کر دینے میں جادو کا سا اَثَر  رکھتے ہیں ۔ ([4])اور سننے والوں پر جادو کی طرح اَثَر انداز ہوتے ہیں ۔

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!بُزُرْگانِ دِیْن کے وَعْظ و اِرشَاد کی بَرَکَت سے جو لوگ راہِ ہِدَایَت پانے میں کامیاب ہوئے ، آئیے !دیکھتے ہیں کہ انہوں نے چہار دانگِ عالَم (یعنی دنیا کے ہر ہر کونے )میں دین کا ڈنکا بجانے کیلئے اپنے اپنے دور میں کیا کیا طریقے اِخْتِیار فرمائے  :

 



[1]     جامع صغیر، حرف الزا، ص۲۸۰، حدیث : ۴۵۸۰

[2]     وسائِلِ بخشش (مرمّم)، ص۱۱۴

[3]     بخاری، کتاب النکاح، باب الخطبة ، ص۱۳۲۵، حدیث : ۵۱۴۶

[4]     مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۲۶ ماخوذًا



Total Pages: 17

Go To