Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

اور ہر امتى کے لىے اس کى حقىقى ماں سے بڑھ کر لائقِ تعظىم اور واجبُ الاحترام ہىں، ىعنى ان  کی عزت اپنے سگے ماں باپ سے بھى بڑھ کر ہے۔ ([1]) کیونکہ تمام اُمَّہَاتُ الْمُوْمِنِیْن صحابیات کے دَرجے پر ہیں۔

اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْن کی تعداد اور اَسمائے مُبارَکہ

اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی وہ تعداد جس پر تمام مُحَدِّثِینرَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کا اِتفاق ہے وہ گیارہ ہے۔ ان مىں سے چھ قبىلۂ قرىش کے اونچے گھرانوں کى چشم و چراغ ہیں جن کے مُبارَک نام ىہ ہىں: حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃُ الکبرىٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّىقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا اُم حبىبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔ چار کا تعلق قبیلۂ قریش سے نہیں تھا بلکہ عرب کے دِیگر قبائل سے تھا جن کے اَسمائے مُبارَکہ یہ ہیں:حضرتِ سَیِّدَتُنا زىنب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا مىمونہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ،حضرتِ سَیِّدَتُنا زىنب بنتِ خزىمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سَیِّدَتُنا جوىرىہ بنتِ حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔ ایک اُمُّ الْمُوْمِنِیْن جو غیر عربیہ تھیں، ان کا تعلق بنی اسرائیل کے قبیلے بنو نضیر سے تھا ان کا نام مبارک حضرتِ سَیِّدَتُنا صفیہ بنتِ حُیَیْرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ اور حضرتِ سَیِّدَتُنا زىنب بنتِ خزىمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا رَسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى ظاہرى زندگى مىں ہى  وفات پا گئى تھىں، جبکہ باقى نو اَزْواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ظاہرى وصال کے بعد وفات پائی۔ ([2])

معلوم نہ ہوکہ آىاتِ سجدہ کتنی بار  پڑھىں  تو کیا کرے؟

سُوال: اگر کسى کو معلوم نہ ہوکہ اُس نے آىاتِ سجدہ کتنى بار پڑھى ہىں تو اُس کے لىے کىا حکم ہے؟

جواب:ایسا شخص غور کرے کہ اُس نے آىاتِ سجدہ کتنى بار پڑھی ہوں گى دس بار، پچىس بار، اَلغرض جتنی بار کا اُسے ظَنِّ غالِب(یعنی غالِب گمان) ہو جائے اتنے سجدے کر لے۔ اگر اُس کا ظَنِّ غالِب(یعنی غالِب گمان) ہو کہ 25 بار آیاتِ سجدہ پڑھی ہوں گی تو 25 سجدے کرے۔

نشانى لگانے کے لىے کتاب کے صفحات  موڑنا کىسا؟

سُوال: نشانى لگانے کے لىے کتاب کے صفحات کو موڑنا کىسا ہے؟

جواب:بعض اوقات صفحات موڑنے سے  کتاب کو نُقصان ہوتا ہے مگر صفحات موڑنے کی ضَرورت بھی  پڑ جاتى ہے لہٰذا اپنى ذاتى کتاب ہو تو صفحات موڑنے مىں حَرج نہىں ہے۔ اگر کتاب لائبریری یا وَقف کی ہو یا کسی اور سے پڑھنے کے لىے لی ہو تو پھر   اس کے صفحات نہیں موڑ سکتے  اور نہ ہی  اس پر قلم سے نشانات لگا سکتے ہیں بلکہ کسى طر ح کا بھى اسے  نقصان نہىں پہنچاسکتے ۔

مَردوں کو دِن میں سُرمہ لگانا کیسا؟

سُوال:مَرد کے لیے   صبح کے وقت سُرمہ لگانا کیسا ہے ؟

جواب:مَرد کو زىنت کے لىے سُرمہ لگانا مکروہ ہے([3]) بہتر ہے کہ  نہ لگائے۔ سُرمہ لگانے کا فائدہ رات کو ہوتا ہے کہ بندہ  آنکھىں بند کر کے سوتا ہے تو سُرمہ اس کی  آنکھوں کے اندر فائدہ پہنچاتا ہے اور زىنت کا مسئلہ بھى نہىں ہوتا۔ اگر مَرد نے  دِن میں سُرمہ  لگاىا اور ٹیپ ٹاپ مقصود نہىں تو بھی  حَرج نہىں ہے ۔

عورت گھر کى چار دىوارى مىں اپنے شوہر کے لىے سُرمہ لگائے یا  جو بھى اِس طرح کى زىنت کرے تو ثواب کى حقدار ہے۔ عورتوں کو شوہر کے لىے زىنت کرنى چاہىے،اگر یہ اللہ پاک  کى رضا پانے اور شوہر کو خوش کرنے کے لىے زینت کریں گی  تو ان کے لیے ثواب ہى ثواب ہے ۔ بعض عورتىں گھر مىں بَدبو کے  بھبکے اُڑاتى ہوں گى اور جب  باہر نکلتى ہوں گی  تو دو دو گھنٹے تک آئىنہ کے سامنے  خوار ہوتى ہوں گی  ىہ بالکل غَلَط طرىقہ ہے ۔ جب عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتى ہے تو شىطان اس کو جھانکتا ہے۔ ([4]) اب تو صِرف خوشبو ہی  کی بات  کہاں، شادیوں وغیرہ میں  جانے کے لیے عورتیں نہ جانے کىا کىا مىک اپ کر کے باہر نکلتى ہىں۔

سفینے کے ذَریعے سفرِ مدینہ

 



[1]    مواھب اللدنیة، المقصد الثانی، الفصل الثالث، ۱ / ۴۰۱-۴۰۲ ماخوذاً دار الکتب العلمیة بیروت

[2]    مواھب اللدنیة، المقصد الثانی، الفصل الثالث، ۱ / ۴۰۱-۴۰۲  ماخوذاً  

[3]    فتاویٰ ھندیة، کتاب الکراھیة، الباب العشرون فی الزینة ...الخ، ۵ / ۳۵۹  دار الفکر بیروت

[4]    حدیثِ پاک میں ہے : عورت، عورت(یعنی  چھپانے کی چیز) ہے ، جب نکلتی ہے ، شیطان اس کی طرف جھانکتا ہے ۔ (ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء  فی کراھیة الدخول علی المغیبات، ۲ / ۳۹۲، حديث :  ۱۱۷۶) مشہور مُفَسّر، حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  عورتوں کو خوشبو لگا کر نکلنا منع ہے ۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۲ / ۳۳۶ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور) 



Total Pages: 13

Go To