Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

دے اور ہم سب ایک دوسرے کا اِحترام کرنے والے بن جائیں ۔ اللہ کرے دِل میں اُتر جائے میری بات۔

صَدَقہ پوشیدہ دینا چاہیے یا اِعلانیہ؟

سُوال:صَدَقہ چھپا کر دىنا افضل ہے لىکن بسا اوقات بھرے اِجتماع مىں کہا جاتا ہے کہ آپ نىت کرلىں ىا کوئى اِعلان کر دىں تو اس وقت ہمیں کىا کرنا چاہىے ؟

جواب:صَدَقہ دینے کى مختلف صورتىں ہوتى ہىں۔ کہىں چھپا کر دىنا افضل ہوتا ہے اور کہىں سب کے سامنے دىنا افضل ہوتا ہے۔ اِنَّما الْاَعْمَالُ بِالنِّیِّات یعنی اَعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ([1])صَدَقہ چھپا کر دىنے کے اپنے فضائل ہىں کہ چھپا کر صَدَقہ دىنا اللہ پاک کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ([2]) یوں ہی اِعلانیہ صَدَقہ دینے کے اپنے فضائل ہیں مثلاً اگر کسی نے سب کے سامنے اس لیے صَدَقہ دىا کہ دوسروں کو بھی تَرغىب ملے، دوسروں کا بھی دىنے کا جذبہ بڑھے تو ظاہر ہے کہ ىہ ثواب کا کام ہے۔ ہاں   اگر کسی نے  صَدَقہ اس لیے ظاہر کر کے دىا کہ لوگ مجھے سخى اور دلىر سمجھىں تو اس نے غَلَط کام کىا کیونکہ  عبادت سے کسى کے دِل مىں اپنا اِحترام اپنى عزت بنانے والا رِىا کار اور جہنم کا حقدار ہے۔ ہر ایک اپنی نىت پر غور کر لے کہ وہ کس نىت سے عَلى الاعلان  صَدَقہ و خیرات کر رہاہے۔ یاد رکھیے ! صَدَقے کے لیے نہ تو ایسا کالا بکرا دینے کی ضرورت ہے جس مىں اىک بھى بال سفىد نہ ہو اور نہ ہی  کالى مرغى کو  سر پر سے گھماکر دینے کی حاجت بلکہ جو بھی اللہ کی راہ میں دیا جائے وہ صَدَقہ ہے۔  

نفلی عبادات دوسروں پر ظاہر نہ کیجیے

سُوال: کىا اپنی نیکیاں دوسروں پر  ظاہر کر سکتے ہیں ؟ ([3])

جواب: عموماً  لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی نىکى بِلا ضَرورت ظاہر کرتے ہىں مثلاً میں اتنى تلاوت کرتا ہوں،مىں نے اتنے قرآنِ پاک ختم کر لىے  ہیں،روزانہ  اتنے دُرُود شرىف پڑھتا ہوں۔ مجھے بھی آکر کوئی کہتا ہے کہ میں تىن مہىنے کے روزے رکھتا ہوں ،کوئی کیا کہتا ہے اور کوئی کیا کہتا ہے۔ بہرحال اپنی نفلی عبادات ظاہر نہیں کرنی چاہئیں ۔

فرض عبادات  اِعلانیہ ادا کیجیے

البتہ فرض عبادات کا معاملہ الگ ہے مثلاً رَمَضان کا روزہ فرض ہے تو اس کو عَلى الاعلان رکھناہے  تاکہ کوئى بدگمانى نہ کرے کہ پتا نہىں رکھتا ہو گا یا نہیں ۔ اسى طرح پانچوں وقت کى نماز بھی  باجماعت مسجد مىں ادا کرنی واجب ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں گھر میں چھپ کر نماز پڑھوں گا  تو اسے  بِلاعذر جماعت چھوڑنے  کا گناہ ہوگا ۔ یوں ہی حج بھی عَلى الاعلان کیا جاتا ہے کہ لاکھوں لوگ اىک ہى مىدانِ عرفات مىں جمع ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ میں  چھپ کر حج کروں گا  تو وہ  کىسے کرے گا؟ بہرحال جىسى عبادت ہو گی ویسے ہی اس کا حکم ہو گا اور اجر ہر ایک کو نیت کے مطابق ملے گا۔

اُمَّہَاتُ الْمُوْمِنِیْن کن کو  کہا جاتا  ہے؟

سُوال: اُمَّہَاتُ الْمُوْمِنِیْن کن کو  کہا جاتا ہے؟ نیزاُمَّہَاتُ الْمُوْمِنِیْن کی تعداد اور ان کے نام بھی بیان فرما دیجیے۔

جواب:سرورِ  عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اَزْوَاجِ مُطَہَّرات یعنی پاک بیبیاں رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زوجیت کا شرف ملنے کی وجہ سے اُمَّہَاتُ الْمُوْمِنِیْنکے لَقب سے سرفراز ہوئیں۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے:) وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ- ((پ۲۱،الاحزاب:۶)ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔ “حضرتِ سَیِّدُنا امام ابن ابى حاتم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے حضرتِ سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ىہ قول نقل کىا ہے:رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى اَزْوَاجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ حُرمت مىں مؤمنىن کى مائىں ہىں اور مومنوں پراسى طرح حرام ہىں جس طرح ان کى مائىں حرام ہىں۔ ([4]) حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى تمام اَزْواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ىعنى جن سے رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نکاح فرماىا، چاہے وہ محبوبِ رَبِّ ذُوالجلال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وصالِ باکمال (ىعنی Death) سے پہلے اِنتقال فرما چکی ہوں ىا ظاہرى وفات کے بعد انہوں نے وفات پائى ہو۔ ىہ سب کى  سب اُمَّت کى مائىں ہىں



[1]    بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء...الخ، ۱ / ۵، حدیث : ۱  

[2]    ترمذی، کتاب الزکاة، باب ما جاء فی فضل الصدقة، ۲ / ۱۴۶، حدیث :  ۶۶۴ دار الفكر بيروت

[3]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[4]    درمنثور، الاحزاب، تحت الآية : ۶، ۶ / ۵۶۶ دار الفکر بیروت



Total Pages: 13

Go To