Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

خیال آیا کہ یہ جبہ فُلاں کو دے دوں پھر میں نے سوچا کہ نیکی میں دیر نہیں ہونی چاہیے کہیں میرا دِل بدل نہ  جائے تو میں نے سوچا پہلے یہ جبہ دے دوں تاکہ میرا ثواب کھرا ہو جائے۔ ([1])  

راہِ خُدا میں دینے سے مال ضائع نہیں ہوتا

بہت سوں کو تجربہ ہو گا کہ بعض اوقات دِل میں خیال آتا ہے یہ کریں گے  وہ کریں گے۔ پھر آہستہ آہستہ سُستی ہونا شروع ہو جاتی ہے خُصُوصاً راہ ِخُدا میں دیتے ہوئے بہت سُستی ہوتی ہے کیونکہ اس میں جیب سے جاتا ہے اور بندہ لیتا تو واہ وا  کر کے ہے مگر دیتا آہ  آہ کر کے ہے۔ دِل میں کھٹکا ہوتا ہے کہ یار یہ مال گیا  حالانکہ راہِ خُدا میں دینے سے مال کہیں نہیں  جاتا بلکہ آخرت کے لیے جمع ہو جاتا ہے اور جمع بھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں سے کسی قسم کی چوری ہونے کا اندیشہ ہی نہیں رہتا۔ بعض لوگ صِرف اپنی حرص کی وجہ سے راہِ خُدا میں مال خرچ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھتے،  ان کو مال کی فکر لگی رہتی ہے جبکہ وقت کا کچھ بھروسا نہیں کب بینک لُٹ جائے اور ان کا  Locker توڑ کر پیسے چُرالیے جائیں لیکن راہ ِخُدا میں دیا ہوا مال نہ کبھی لُٹ سکتا ہے نہ گھٹ سکتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے۔

نیک کام کے لیے اُٹھنے والے ہر قدم کے بدلے نیکیاں

سُوال:جب ہم کسی کے پاس مَدَنی عطیات لینے کے لیے جاتے ہیں تو ”عطیات یا چندے“  کا نام سُن کر ہی اس کا چہرہ اُتر جاتا ہے،ایسی صورت میں ہمیں نااُمیدی سی ہو جاتی ہے کہ اس نے تو  پہلے ہی اپنا موڈ آف کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب:مزید ہمت و جذبے کے ساتھ مَدَنی عطیات کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ جب کسی سے چندہ مانگا جائے تو چندہ مانگنے والے کا ثواب اسی وقت کھرا ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سامنے والا جب کچھ رقم دے گا تب ہی چندہ مانگنے والے کو ثواب ملے گابلکہ عطیات کرنے والا جب سے اپنی کوشش شروع کرتا ہے  اسی وقت سے اسے ثواب ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ حتّٰی کہ اس عظیم کام کے لیے اُٹھنے والے ہر قدم کے عوض اس کو ثواب ملتا ہے۔ اسی وجہ سے میں کہتا ہوں جب عطیات لینے جائیں تو چھوٹے چھوٹے قدم رکھیں کہ جتنے زیادہ قدم اُٹھیں گے اتنا ہی زیادہ ثواب ہو گا۔ یوں ہی مسجد یا کسی بھی نیک کام مثلاً اجتماع کی طرف جانا یا مَدَنی مذاکرے میں شرکت کے لیے چلنا ہو تو چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھائے جائیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   ثواب ملے گا۔ ([2])

لڑائی جھگڑے کی اصل وجہ بے صبری ہے

سُوال:لوگ اکثر اِس طرح کے سُوالات پوچھتے ہیں کہ بعض اوقات گھر میں موجود خواتین جیسے والدہ ،بہن اور بیوی کے دَرمیان کسی بات پرنوک جھونک ہوجاتی ہے اس پر خوب غور و فکر کرنے کے بعد ایک فریق کی طرف سے زیادہ غَلَطی معلوم ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف کوئی خاص  قصور  نہیں ہوتا تو شوہر کبھی اپنی والدہ کی طرف داری کرتا ہے اور کبھی بیوی یا بہن کی، ایسے میں شوہر کو کیا کرنا چاہیے؟ (مفتی صاحب کا سُوال)  

جواب:یہ واقعی نازک مُعاملہ ہے،اِس میں عَدل و اِنصاف سے کام لینا بہت ضَروری ہے  لیکن ایک فَریق کے حق میں فیصلہ کر کے دوسرے فَریق پر سختی بھی نہ کی جائے  کہ اگر والدہ کی غَلَطی ہے تو ان پر سخت کلامی شروع کر دی تو یہ اِنتہائی غَلَط رویہ ہو گا۔ ساس بہو کی آپس میں نوک جھونک تو ہوتی ہی رہتی ہے اگر ان میں سے ایک بھی صبر کرلے تو بات طول ہی نہ پکڑے۔ مگر صبر کرنا کسے آتا ہے صِرف مُنہ سے بول  دیا جاتا ہے کہ میں نے صبر کیا ہے۔ اگر واقعی لوگوں میں صبر کرنے کی عادت پیدا ہو جائے تو نہ گھروں میں جھگڑے ہوں نہ دوستوں میں اور نہ ہی وطنِ عزیز میں لڑائی جھگڑے کی فضا قائم ہو۔ ذاتی جھگڑوں کی اصل وجہ ہی  بے صبری ہے۔ اگر کسی نے گالی دی یا کسی قسم کی دھمکی دی یا کچھ ظلم کردیا تو سامنے والا خاموش رہ کر اِس پر صبر کر کے اس کے  نتیجے میں ملنے والے اَجر پر نظر رکھے گا تو قیامت کے  دِن مَظلوم ہوگا اور اس دِن مَظلوم کے ہاتھ میں ظالِم کا گریبان ہو گا بلکہ”اس ظالم کی نیکیاں بھی اس مظلوم کو دی جائیں گی۔ “([3]) اگر یہ مَظلوم ان فَوائد پر نظر رکھ کر صبر کرلے تو جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔  

بہو میکے میں کسی قسم کی شِکایت نہ کرے

اِسی طرح ساس بہو کے دَرمیان بھی جب کسی بات پر جھگڑا ہو جائے اور ان میں سے کسی ایک  کا بالکل قصور نہ ہو یا معمولی سی کوئی غَلَطی ہو تو اسے صبر کرنا چاہیے، جیسے ساس بہو کی لڑائی میں ساس قصور وار ہے اور بہو کا قصور کم ہے یا بالکل نہیں ہے تو بہو کو چاہیے خاموشی اِختیار کرے اور سارا غصہ پی جائے ،نہ اپنے شوہر سے



[1]    فتاویٰ رضویہ، ۱۰ / ۸۴ ماخوذاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

[2]    بندہ جس نیک کام کے لئے بھی قدم اُٹھاتا ہے اس کا وہ قدم شمار کیا جاتا ہے اور اسے ان قدموں  کے حِساب سے ثواب دیا جائے گا ۔ (تفسیر صراط الجنان، پ۲۲، یس :  تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۸ / ۲۳۳  مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی) 

[3]    معجم کبیر، رافع بن اسحاق بن طلحة...الخ، ۴ / ۱۴۸، حدیث : ۳۹۶۹ ماخوذاً دار احیاء التراث العربی بیروت



Total Pages: 13

Go To