Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

قبرستان سے خوشبو آئی

مَرکز الاولىا (لاہور)مىں میانی کے نام سے ایک بہت  بڑا قبرستان ہے ، اىک بار دوپہر کے وقت مىں وہاں گیا ، میں قبرستان میں بنی ہوئی سڑک پر چل رہا تھا تو مجھے خوشبو آنے لگى، مىں پلٹ کر آىا اور وہا ں فاتحہ پڑھی کیونکہ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ  اگر بتی کی خوشبو نہیں ہے  کیونکہ  دوپہر کے وقت کون اگر بتى جَلائے گا؟ ہو نہ ہو ىہاں کوئى اللہ کا نىک بندہ تشرىف فرما ہے اگرچہ  وہاں کوئى مزار شریف نہىں تھا اور سب قبرىں اىک جىسى تھیں ۔ جیسے جنَّتُ البقىع مىں لاکھوں مزارات ہىں، وہاں آرام فرمانے والے صرف   صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کى تعداد دس ہزار (10000)ہے جبکہ تابعین رَحِمَہُمُ  اللّٰہُ   الْمُبِیْن کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ پھر وہاں بڑے بڑے اَولىا اوربڑے بڑے عاشقانِ رَسول کے مزارات ہیں، اسے یوں   بھی کہہ سکتے ہیں کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اَولىائے  کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  السَّلَام کے مزارات سے جنَّتُ البقىع بھرا ہوا ہے  مگر بظاہر وہاں کوئی مزار (یعنی گنبد نما عمارت)نہیں تو سب کے مزارات بنىں ىہ ضَرورى نہىں ہے۔  

تُلمبہ  میں  جامعۃ ُالمدینہ کا اِفتتاح

سُوال :اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ (۲۲ رَبیع الاوّل ۱۴۴۰؁ ھ کو) تُلمبہ مىں جامعۃُ المدىنہ کى عمارت کا اِفتتاح ہوا ہے، دُعاؤں سے بھی نواز دیجیے اور کچھ مَدَنی پھول بھی  اِرشاد فرما دیجیے ۔   

جواب:مَاشَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تُلمبہ پنجاب پاکستان مىں جامعۃُ  المدىنہ کا آغاز ہوا ہے۔ اللہ   کرے کہ ىہ جامعۃُ المدینہ  عِلمِ دِىن کا عظىم مَرکز بنے اور ىہاں سے خوب عُلَما  فارغُ التحصیل ہو کر نکلىں اور دُنىا مىں دِىن کا ڈنکا بجائىں،سنَّتوں کى دھوم دھام کرىں اور دعوتِ اسلامى کى نىک نامى کا باعِث بنیں اور جو جو بھی اس میں  حصّہ لے اللہ  کرىم ان سب کو بے حساب مَغفرت سے مُشَرَّف فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

ہر جامعۃ المدینہ خود کفیل ہونا چاہیے

سُوال:کیا ہر جامعۃ المدینہ خود کفیل ہونا چاہیے؟

جواب: ہمارا اىک ہدف اور خواہش  ہے کہ ہر جامعۃُ المدىنہ خود کفىل ہو جائے اور  اپنے اَخراجات  خود اُٹھائے کیونکہ دعوتِ اسلامى کے خود ہزاروں کام ہىں۔ اِس لىے  طلبائے کِرام،اَساتذہ ٔکِرام اور جامعاتُ المدینہ کی مَجالس سب کو Active (یعنی فَعّال) ہونا چاہىے اور اپنے اپنے جامعۃُ المدىنہ کو خود کفىل بنانے کی کوشش کرنی چاہىے تاکہ یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائىں۔ اپنے جامعاتُ المدینہ کو خود کفیل بنانے کے لیے خود بھی بڑھ چڑھ کر اس کے لیے ہونے والے مَدَنی عطیات میں حصّہ ملایا کریں اور دوسروں  پر بھی اِنفرادی کوشش کر کے انہیں بھی  مَدَنی عطیات دینے کی ترغیب دِلایا کریں۔

نابالغ بچے مَدَنی عطیات میں اپنا حصّہ نہیں ملا سکتے

سُوال : کىا نابالغ بچے بھی مَدَنی عطیات میں اپنا حصّہ ملا سکتے ہیں؟ ([1])

جواب:نہیں۔ یہ شرعی مسئلہ  ىاد رَکھىے کہ نابالغ اپنے Personal(یعنی ذاتی )پیسوں سے نہىں دے سکتا([2]) اگرچہ  وہ خوشى سے بھى دے ۔ ہاں نابالغ بچے کے ماں باپ اس کے ہاتھوں دِلوا سکتے ہىں اور دِلوانا بھی چاہىے تاکہ ان کی عادت بنے مگر انہیں رَقم  کا  مالِک نہ کرىں کیونکہ ماں باپ اگر ان کو مالِک کر دىں گے تو وہ

پیسے ان کے ہو جائىں گے اور پھر ىہ دے نہىں سکىں گے۔ اگر باپ نے تھوڑی بہت سمجھ رکھنے والے   نابالغ بچے سے کہا کہ یہ پیسے  تم لے لو ىہ تمہارے ہیں اور انہیں  تم  اپنى طرف سے مَدَنی عطیات میں  دے دو تو ىہ جائز نہىں ہوگا کىونکہ ىہ سمجھ دار بچہ قبضہ کرنے سے اس رَقم کا  مالک ہو گىا۔ اگر باپ نے یہ کہا کہ ىہ دس ہزار روپے تمہارے ہو گئے تو باپ کے کہنے سے ہی بچہ ان کا مالِک بن گیا ([3])اور اُسے  قبضہ میں  دىنے کى بھى ضَرورت نہ رہى لہٰذا اِحتیاط کرنا ضَروری ہے۔

ہاتھوں ہاتھ عطیات  جمع کروانا زیادہ مفید ہے

سُوال:عطیات کے لیے نیت کر کے ہاتھوں ہاتھ رَقم  جمع کروانا زیادہ مفید ہے یا  بعد میں جمع کروانا زیادہ مفید ہے؟

جواب:ہاتھوں ہاتھ جمع کروانا زیادہ مفید ہے کہ ”آج نقد کل اُدھار“والا محاورہ تو مشہور ہے۔ راہِ خدا میں دینے کے لیے دِل بدلتا رہتا ہے لہٰذا جیسے ہی نیت بنے تو  ممکنہ صورت میں اسی وقت عطیات جمع کروا دئیے جائیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام باقر  عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَادِر جب واش روم (بیتُ الخلا) تشریف لے گئے اسی وقت  واپس دروازے پر آکر اپنے خادم کو بُلایا اور اپنا جبہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جبہ فُلاں کو دے آؤ۔ پھر جب آپ بیتُ الخلا سے فراغت کے بعد باہر تشریف لائے تو خادم نے عرض کیا:حضور!ایسی بھی کیا جلدی تھی،آپ اِطمینان سے فارغ ہو کر مجھے دے دیتے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا:میں جب اندر گیا تو میرے دِل میں



[1]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[2]    بہارِ شریعت، ۳ / ۸۱، حِصَّہ : ۱۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی  

[3]    بہارِ شریعت، ۳ / ۷۷، حِصَّہ : ۱۴  



Total Pages: 13

Go To