Book Name:Musalman Kay Joothay Main Shifa

اسى ہوٹل مىں آ کر ٹھہرے۔ جاتے ہوئے انہوں نے ہوٹل کے مالک کا ایک بچہ دىکھا تھا جو بالکل اپا ہج تھا، ہاتھ پاؤں اس کے بے کار تھے،چل پھر نہىں سکتا تھا لیکن واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ وہ چل پھر ر ہا تھا، دوڑ رہا تھا۔ ان ڈاکوؤں نے اِس پر تعجب کا اِظہار کىا اور ہوٹل کے مالک سے پوچھا کہ ىہ بچہ تو ہم نے مَعذور دىکھا تھا لیکن اب یہ صحىح ہو گىا ہے ،اس کى کىا وجہ ہے؟ ہوٹل کے مالک نے بتاىا کہ آپ لوگوں نے جو کھانا کھاىا تھا،اس میں سے جو پلیٹ مىں بچ گىا تو میں نے اس حُسنِ ظَن کی بِنا پر کہ آپ نىک لوگ ہىں ،اللہ کے راستے مىں نکلے ہوئے ہىں وہ جوٹھا کھانا اپنے اس بىٹے کو کھلا دیا تو آپ کے جوٹھے کى بَرکت سے مىرا بچہ بالکل نارمل ہو گىا۔ ڈاکو ىہ سُن کر رو پڑے اور انہوں نے اپنے گناہوں سے یہ سوچ کر توبہ کر لی کہ اللہپاک اتنا مہربان ہے اور ہم لوگ کس قدر نافرمان ہیں کہ لوٹ مار مىں لگے ہوئے ہىں۔ ([1])بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ فقط پىر صاحِب یا ہمارے فُلاں عالِم یا فُلاں خطىب صاحِب کا جوٹھا ہی شِفا دے گا تو بے شک ان کا جوٹھا بھى اچھا ہے، شِفا والا ہے لىکن عام مسلمان کے جُوٹھے مىں بھی شِفا ہے۔  

مسلمان کا جوٹھا کھانے پینے  میں اَجر و ثواب

سُوال: کىا مسلمان کا جوٹھا کھانے پینے میں اَجر و ثواب بھی ملتا ہے ؟([2])

جواب:فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے:اپنے مسلمان بھائى کا جوٹھا پىنا اَجر والا کام ہے اور جو اپنے بھائى کا جوٹھا پىتا ہے اس کے لىے 70 نىکىاں لکھى جاتى ہىں،70 گناہ مِٹائے جاتے ہىں اور 70 دَرَجات بلند کىے جاتے ہىں۔ ([3]) اِس رِوایت سے اَندازہ لگائیے کہ مسلمان کے جُوٹھے پانی کی کىسى فضیلت ہے کہ اس کے پینے سے اتنى اتنى نىکىاں مِل رہی ہیں ۔   

جُوٹھا کھانے پینے میں تکبر اور غُربت کا عِلاج

سُوال: کىا مسلمان کے  جُوٹھے کی اس کے عِلاوہ اور بھی کوئی فضیلت ہے؟ ([4])

جواب:بعض لوگ اپنے مسلمان بھائى کا جُوٹھا کھانے پینے میں مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ گِھن کھاتے ہىں حالانکہ اپنے مسلمان بھائى کا جُوٹھا کھانا پىنا عاجزى والا کام ہے۔ لہٰذا مسلمان کے جوٹھے کھانے پینے سے شرمانے اور گِھن کھانے کے بجائے اسے اِستعمال کر لینا چاہیے۔ اگر سب مسلمان ایک دوسرے کا جُوٹھا کھا پی لینے کی عادت بنا لیں تو ہمارے مُعاشرے سے تنگدستى اور غُربت میں  اچھی خاصی کمی  آ جائے۔ لوگوں کو وافر مِقدار مىں کھانا ملے گا اور مہنگائى پر بھی کنٹرول ہو گا کیونکہ مہنگائی اُس وقت ہوتی ہے جب خرىداری زیادہ کی جاتی ہے،جب لوگ خرىدارى کم  کریں گے تو دکانوں پر  اسٹاک پڑا  رہے گا، بکے گا نہىں تو پھر ىہ سستا کرىں گے۔ ([5]) بہرحال اللہ پاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات پر عمل کرنے مىں ہی  دِىنی و دُنىوی فَوائد ہیں۔ اللہ کرے دِل مىں اُتر جائے مىرى بات۔  

پہلے کِس مزار شریف پر حاضِری دی جائے؟

سُوال : بعض جگہوں پر کئى کئى مزار شرىف ہوتے ہىں لہٰذا ایسی صورت میں سب سے پہلے کس مزار شرىف پر حاضِرى دى جائے ؟(بریلی شریف سےسُوال )  

جواب:ایسی صورت میں اىک ساتھ سب مزاراتِ طیبات  کى حاضِرى بھى ممکن ہے جىسے ہم  قبرستان مىں سب قبر والوں  کو اىک ساتھ سلام پىش کرتے ہىں اور پھر ماں باپ،دادا اور دِیگر قریبی رِشتہ داروں کی قبروں کے پاس جاتے ہیں۔ قبرستان مىں داخِل ہوتے ہى پہلے سب کو سلام کرنا چاہىے پھر جس  خاص مزار شریف پر جانا ہے وہاں حاضِرى دی جائے۔

(امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے چند مَزارات ہوں تو ان پر حاضری دینے اور سلام کرنے کى ترتىب کے متعلق فرمایا:)سَیِّدى اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت اور مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماًکے اىک  عالِمِ دِىن کے دَرمیان  آپس  مىں اِس بات پر  مُباحثہ ہوا تھا کہ اہلِ بقىع مىں سب سے پہلے کس کو سلام پىش کىا جائے؟ اعلىٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا یہ مؤقف تھا کہ  اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سلام  پىش کرىں کہ یہ  اہلِ بقیع مىں سب سے افضل ہىں۔

 



[1]    کتاب القلیوبی، ص۲۰ ماخوذاً  باب المدینه کراچی 

[2]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[3]    کنزالعمال، حرف التا، کتاب الاخلاق، الجزء : ۳ ، ۲ / ۵۱، حدیث : ۵۷۴۵، قال العجلونی  معناه صحیح  دار الکتب العلمیة بیروت

[4]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)

[5]    حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم اپنے مُریدوں سے کھانے کی اَشیا  کے بھاؤ پوچھا کرتے تو آپ سے کہا جاتا : ان کی قیمتیں حَد سے بڑھ گئی ہیں ۔ اِرشاد فرماتے : انہیں خریدنا چھوڑ دو خود  ہی سستی ہو جائیں گی ۔  (احیاء العلوم، کتاب کسر الشھوتین، بیان فوائد الجوع  وآفات الشبع، ۳ / ۱۰۸ دار صادر بیروت ) 



Total Pages: 13

Go To